en-USur-PK
  |  
19

بحالی کی راہ کی پہچان

posted on
بحالی کی راہ کی پہچان

بحالی کی راہ کی پہچان ؟

شرير کی اور صادق کی راہ ،

امثال کی کتاب باب 4 (بائيبل و قرآن )
18
لیکن صادقوں کی راہ نور سحر کی مانند ہے جٓسکی روشنی دوپہر تک بڑھتی ہی جٓاتی ہے۔
19
شریروں کی راہ تاریکی کی مانند ہے۔وہ نہیں جٓانتے کہ کن چیزوں سے اُنکو ٹھوکر لگتی ہے۔
حضرت سلمان کا فرمان موت کی راہ اور پہچان : امثال باب 14
12
ایسی راہ بھی ہے جو انسان کو سیدھی معلوم ہوتی ہےپر اسکی انتہا میں موت کی راہیں ہیں۔
ان پر چلنے والوں کی پہچان : امثال کی کتاب باب 4
14
شریروں کے راستہ میں نہ جٓانا اور بُرے آدمیوں کی راہ میں نہ چلنا۔
15
اُس سے بچنا ۔اُسکے پاس سے نہ گذرنا ۔ اُس سے مڑ کر آگے بڑھ جٓانا ۔
16
کیونکہ وہ جب تک بُرائی نہ کر لیں سوتے نہیں۔اور جب تک کسی کو گرانہ دیں اُنکی نیند جٓاتی رہتی ہے۔
17
کیونکہ وہ شرارت کی روٹی کھاتے اور ظلم کی مے پیتے ہیں۔
دعا کا وقت ھے ديکھنے کی ضرورت ھے :
فرمان قران : سورۃ الفتح آيت 6 ہمیں سیدھی (اور سچی) راه دکھا ( ترجمعہ قرآن ڈاٹکام)
فرمان قرآن راہ بتانی والا ذريعہ کہاں ھے سورہ المائدہ 46
وَقَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِم بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنجِيلِ بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فِيهِ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ترجمہ: اور ان پیغمبروں کے بعد انہی کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی کتاب (ہے) تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ھے۔ (راہ بتاتی ھے ) .
شفقت اور رحم کہاں ارو کيسے انسانوں ميں ﷲ تعالیٰ پيدا کرتے ھيں؟ سورۃ الحدايد 27
ان کے بعد پھر بھی ہم اپنے رسولوں کو پے در پے بھیجتے رہے اور ان کے بعد عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا فرمائی اور ان کے ماننے والوں کے دلوں میں شفقت اور رحم پیدا کردیا۔ (خدا تعالیٰ کا وعدہ ھے وہ پيدا کرتا ھے ان سب کے اندر جو پيروی کرتے ھيں فرمان قرآن ) ( ترجمعہ قرآن ڈاٹکام سے )
( آج کيا ھمارے اندر شفقت (مہربانی ،رحم ، محبت ) رحم (ترس ، کرم ،بخشش ،ھمدردی ،عفو و درگزر، مہربانی ) ھے يا فقط رسومات کی پيروی ؟)
فرمان قرآن بہت واضع ھے آج تمام انسانوں کو شفقت و رحم کی عملی ضرورت ھے اور قرآن نے اسکی راہ بھی واضع طور سے بتا دی ھے انتخاب ھمارا ھے ۔ خدا تعالیٰ ھم سب کو اپنی اپنی پرکھ کرنے اور بھلائی کی باتوں کو قبول کرنے کی توفيق عطا فرمائے۔ کيونکہ وہ نہايت مہربان اور شفيق و رحيم ھے ۔ کيا ھم اسکی حقيقی پيروی ميں ان صفات ميں چل رھے ھيں يا فقط مذھب و زبانی اقرر ؟ دل بھی خالی عمل سے نافرمان ؟
فرمان عيسیٰ مسيح : انجيل يوحنا باب ۸
12
یِسُوع نے پِھر اُن سے مُخاطِب ہو کر کہا دُنیا کا نُور مَیں ہُوں۔ جو میری پَیروی کرے گا وہ اَندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زِندگی کا نُور پائے گا۔
خدا تعالیٰ کی طرف سے انجام شرير اور صادق کا: زبور ۱
1
مُبارک ہے وہ آدمی جو شریروں کی صلاح پر نہیں چلتا اور خطا کاروں کی راہ میں کھڑا نہیں ہوتا اور ٹھٹھا بازوں کی مجلس میں نہیں بیٹھتا۔
2
بلکہ خُداوند کی شریعت میں اُس کی خوشنودی ہے اور اُسی کی شریعت پر دِن رات اُس کا دِھیان رہتا ہے۔
3
وہ اُس درخت کی مانند ہوگا جو پانی کی ندیوں کے پاس لگایا گیا ہے۔ جو اپنے وقت پر پھلتا ہے اور جسکا پتا بھی نہیں مُرجھاتا۔ سو جو کچھ وہ کرئے بارور ہوگا۔
4
شِریر ایسے نہیں بلکہ وہ بُھوسے کی مانند ہیں جسے ہوا اُڑا لے جاتی ہے۔
5
اِس لئے شِریر عدالت میں قائم نہ رہینگے نہ خطا کار صادقوں کی جماعت میں۔
6
کیونکہ خُداوند صادقوں کی راہ جانتا ہے پر شِریر وں کی راہ نابُود ہو جائیگی ۔برکت و سلامتی

خدا تعالیٰ کے نظام کی تابعداری اور دعائيہ ذمہ داری ( ان مسائل کا حل؟ دعا اور کلام کی تابعداری عملی طور پر ) حکم خدا تعالیٰ : خون نہ کرنا ، خون نہ کرنا ، خون نہ کرنا
بائيبل : خروج کی کتاب باب ۲۰ آيت 13 تو خُون نہ کر ۔
قرآن : سورۃ المائدہ ۳۲ آيت اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وه کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے وا ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچا لے، اس نے گویا تمام لوگوں کو زنده کردیا اور ان کے پاس ہمارے بہت سے رسول اہر دلیلیں لے کر آئے لیکن پھر اس کے بعد بھی ان میں کے اکثر لوگ زمین میں لم و زیادتی اور زبردستی کرنے والے ہی رہے۔ ( ايک انسان کا قتل ساری انسانيت کا قتل، ايک انسان کو بچايا ساری انسانيت کو بچا ليا۔ آج بچانے والے کہاں ھيں خدا تعالیٰ ڈھونڈ رھا ھے۔ ھم فساد برپا کرنے والے يا فساد سے روکنے والے
نظام کی تابعداری : پطرس کا پہلا خط باب ۲
13
خُداوند کی خاطِر اِنسان کے ہر ایک اِنتظام کے تابِع رہو۔ بادشاہ کے اِس لِئے کہ وہ سب سے بزُرُگ ہے۔
14
اور حاکِموں کے اِس لِئے کہ وہ بدکاروں کو سزا اور نیکوکاروں کی تعرِیف کے لِئے اُس کے بھیجے ہُوئے ہیں۔
15
کِیُونکہ خُدا کی یہ مرضی ہے کہ تُم نیکی کر کے نادان آدمِیوں کی جہالت کی باتوں کو بند کر دو۔
16
اور اپنے آپ کو آزاد جانو مگر اِس آزادی کو بدی کا پردہ نہ بناؤ بلکہ اپنے آپ کو خُدا کے بندے جانو۔
17
سب کی عِزّت کرو۔ برادری سے محبّت رکھّو۔ خُدا سے ڈرو۔ بادشاہ کی عِزّت کرو۔
( ھر شخص ھر جگہ خدا تعالیٰ کے نظام ميں تابعداری ميں آ جائے اسکی مرضی يہ ھے کہ تم نيکی کرکے نادان آدميوں کی جہالت کی باتوں کو بند کر دو )
(دعائيہ ذمہ داری : ۱ تمتھيس کا خط باب ۲ ( خدا تعالیٰ کو کيا پسند ھے امن و آرام سب کلئے۔
1
پَس مَیں سب سے پہلے یہ نصِیحت کرتا ہُوں کہ مُناجاتیں اور دُعائیں اور اِلتجائیں اور شُکرگُذارِیاں سب آدمِیوں کے لِئے کی جائیں۔
2
بادشاہوں اور سب بڑے مرتبہ والوں کے واسطے اِس لِئے کہ ہم کمال دِینداری اور سنجِیدگی سے امن و آرام کے ساتھ زِندگی گُذاریں۔
3
یہ ہمارے منّجی خُدا کے نزدِیک عُمدہ اور پسندِیدہ ہے۔
دعا کے جواب ميں بہت کچھ ھو سکتا ھے : يعقوب کا خط باب ۵
16
پَس تُم آپس میں ایک دُوسرے سے اپنے اپنے گُناہوں کا اِقرار کرو اور ایک دُوسرے کے لِئے دُعا کرو تاکہ شِفا پاؤ۔ راستباز کی دُعا کے اثر سے بہُت کُچھ ہو سکتا ہے۔
17
ایلِیاہ ہمارا ہم طبِیعت اِنسان تھا۔ اُس نے بڑے جوش سے دُعا کی مینہ نہ برسے۔ چُنانچہ ساڑھے تِین برس تک زمِین پر مینہ نہ برسا۔
18
پھِر اُس نے دُعا کی تو آسمان سے پانی برسا اور زمِین میں پَیداوار ہُوئی۔
خدا تعالی بحالی کا طريقہ بتاتا اور بحالی کا وعدہ بھی کرتا ھے : ۲ تواريخ باب ۷
14
تب ار میرے لوگ جو میرے نام سے کہلاتے ہیں خاکسار بن کر دُعا کریں اور میرے دیدار کے طالب ہوں اور اپنی بُری راہوں سے پھریں تو میں آسمان پر سے سُن کر اُن کا گناہ معاف کروں گا اور اُن کے مُلک کو بحال کروں گا۔ ( کيا ھم ايسا کرنے کےلئے تيار ھيں ) ( ملک پاکستان اور پوری دنيا کلئے خدا تعالیٰ کو پکاريں تاکہ اس کے رحم اور بحالی سے سب لوگ امن اور سلامتی ميں زندگياں بسر کر سکيں ۔ برکت و سلامتی۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, بائبل مُقدس, اسلام, غلط فہمیاں | Tags: | Comments (0) | View Count: (238)

Post a Comment

English Blog