en-USur-PK
  |  
02

قرآن وابن اللہ

posted on
قرآن وابن اللہ

قرآن وابن اللہ

علامہ اکبر مسیح

Qur’an and the Son of God

Allama Akbar Mashi

ان اختلافی مسائل میں سے جن کےبارے میں  عیسائی  اورمسلمان  عرصہ دراز  سے لڑرہے ہیں اورجن پر طرح  طرح کی لفظی  بحثیں اور متعصبانہ  موشگافیاں  ہوتی  رہیں۔ ایک ابن اللہ  کالقب  ہے جو عیسائیوں  نے بلکہ  عیسائیوں  کی مقدس  کتابوں  نے سیدنا مسیح کو دیا اور جس کا مسلمان عموماً  بڑی شدت  اوربڑے غلو سے  انکار کرتے  ہیں۔ سب  سے پہلے  یہ دیکھنا  چاہیے کہ  آیا اس لقب  میں درحقیقت  کوئی ایسا عیب ہے  جس کے باعث  اس  کا استعمال  کفر ہوجاتاہے۔ یہ امر غور طلب  ہے کہ لفظ  کی کچھ  حقیقت  نہیں ہوتی  ۔ لفظ دراصل  ایک نشان  ہے جس کے ذریعے  ہم کسی  تصور  کا اظہار  کرتے ہیں ۔ پس جولوگ لفظ  ابن اللہ  پر اعتراض  کریں  ان کو پہلے  یہ دکھلانا چاہیے کہ جس تصور کے اظہار کےلئے  یہ لفظ  وضع  ہوا وہ  نازیبا  ومعیوب ہے۔  ابن اللہ  اہل کتاب کے مصطلحات  میں داخل ہے۔اس کے  ایک خاص  معنی ہیں  جن سے یہ الگ  نہیں ہوسکتا۔

          اس میں لفظ  ابن کواللہ کے ساتھ  ترکیب دیا ہے۔ اس  طرح  ابن کی ترکیب  اور بیسیوں  لفظوں  کے ساتھ  دی گئی  جسس سے طرح طرح  کے معنی حاصل ہوئے اور ہر جگہ  لفظ کا استعمال بطور  مجاز ہوا۔ ابن السبیل ۔ راہ کا بیٹا  مسافر ہے۔ ابن الوقت  زمانہ  ساز۔ ابن الارض  نباتات ۔ ابن الحساب  بارش  ۔ ابن  فرکاء  سورج کا بیٹا فجر ہے۔ ابن مزنتہ  بادل کا بیٹا  چاند ہے۔  اوربھی لفظ  ہیں۔  ابنا ئے جہان  ۔ابنائے  روزگار وغیرہ۔ اسی طرح  ای روحانی  حقیقت  کو جودنیاوی  وجسمانی  تصورات  کی حدود سے باہر ہے اور انسانی زبان جس کے کماحقہ  اظہار  کرنے میں قاصر تھی  ابن اللہ  کے لطیف  استعارہ  میں ادا کرنے  کی کوشش  کی گئی ہے اور اس  سے وہ شخص  مراد ہوتا ہے  جو اپنی  مرضی  کو الہی مرضی  سے متحد  کرکے جوکرے  اس طرح  اپنے معبود  کے لئے  کرے جیسے نہایت  فرمانبردار  سعادتمند  فرزند  اپنے باپ  کی اطاعت  میں کرتاہے۔ خصوصاً  ایسا شخص  جس نے  دنیاوی  علائق  سے اپنے  تئیں ایسا  منقطع  کرلیا کہ سوائے  خدا کے اسکی نسبت  کسی اور  سے نہ دی جا سکے۔ یعنی جو فنانی  اللہ وبقا  بااللہ کے مرتبے  کو پہنچ  جائے  اس کو ابن اللہ  کہتے ہیں۔ اور جس شخص  میں عین  اس کے ضد  کی صفات  ملیں  اس کو ابن  الشیطان  کہنا بھی روا ہے۔ مثلاً  یہودیوں  کے درمیان  منکرین  تھے جو سیدنا مسیح کے قتل  اورایذا کی فکر  میں لگے  رہتے تھے ۔ مگر فخریہ  کہتے تھے۔  ہمارا باپ  توابراہیم  ہے ( یوحنا  ۸:  ۳۹) آپ نے جواب  دیا " اگر  تم ابراہیم  کے فرزند  ہوتے توابراہیم  کے سے  کام کرتے  ۔ تم اپنے  باپ ابلیس سے ہو اوراپنے باپ  کی خواہشوں  کوپورا کرنا چاہتے ہو"(یوحنا  ۸: ۴۱)  اوراپنے حق میں فرمایا ۔"  میں  ہمیشہ وہی  کام کرتاہوں  جو خدا کوپسند  آتے  ہیں " (آیت  ۲۹) " میں  نے جو اپنے  باپ کے  ہاں دیکھا  وہ کہتا ہوں اور تم  نے جو اپنے  باپ سے سنا ہو کرتے ہو"۔ (آیت  ۳۱)  " مبارک  وہ جو صلح کراتے ہیں  کیونکہ وہ  خدا کے بیٹے  کہلائینگے "(متی  ۵:  ۹)" اپنے دشمنوں  سے محبت رکھو۔ اور اپنے ستانے والوں  کے لئے دعا  مانگو  تاکہ  تم اپنے آسمانی  باپ کے  بیٹے  ٹھہرو کیونکہ وہ اپنے  سورج کو  بدوں اور نیکوں دونوں پر  چمکاتا ہے "(متی  ۵:  ۴۵)  پھر لکھاہے ۔" جتنے  لوگ خدا کی روح  کی ہدایت  سے چلتے ہیں  وہی خدا کے بیٹے ہیں "(رومیوں  ۸: ۱۴)  سیدنا مسیح  نے فرمایا ہے"۔ جب  تک کوئی  نئے سرے سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہت کودیکھ  نہیں سکتا۔ جوجسم سے پیدا ہوا ہے وہ جسم ہے  اور جو  روح  سے پیدا ہوا وہ روح ہے " (یوحنا ۳: ۳، ۶) یہ نئی پیدائش  جو روح کی پیدائش  ہے  انسان کو خدا کا فرزند  اور آسمانی بادشاہی  کا وارث بناتی ہے۔ اوراسی طرح  جو اپنی  خواہش  اور ارادے  کو مٹا کر صرف  خد ا کی مرضی  کو اپنی  مرضی بنالیتا  ہے  اس فرزندی  میں داخل  ہوتاہے۔ مقدس یوحنا فرماتاہے  " دیکھو  باپ  نے ہم سے کیسی محبت  کی ہم  خدا کے فرزند کہلائیں "۔  اورپھر  " جو شخص  گناہ کرتا ہے  وہ ابلیس  سے  ہے کیونکہ  ابلیس شروع  ہی سے گناہ  کرتا رہا۔ جو کوئی  خدا سے  پیدا ہوا  وہ گناہ نہیں کرتا  کیونکہ  ابلیس  شروع  ہی سے گناہ  کرتارہا ۔ جو کوئی  خدا سے  پیداہوا وہ گناہ نہیں کرتا  کیونکہ اس کا تخم  اس میں بنا رہتاہے ۔ بلکہ  گناہ کرہی نہیں سکتا کیونکہ خدا سےپیداہوا۔ اسی سے  خدا کے فرزند  اورابلیس  کے فرزند  ظاہر ہوتے ہیں " (خط اول باب ۳) اورمبادا  کوئی حجتی  حجت کرے اور شک پیدا کرے صاف الفاظ  میں یہ بھی  بتلادیا  کہیہ خدا کے فرزند " نہ خون سے  سے نہ جسم  کی خواہش  سے نہ انسان کے ارادے سے بلکہ خدا سے  پیدا ہوئے "( یوحنا  ۱:  ۱۳) مگر یہ تعریف  جو اوپر بیان ہوئی  اپنے کمال  میں صرف سیدنا مسیح کی معصوم  ذات پر صادق آتی ہے  اس لئے  بالتخصیص  وہی اس  شرف  کے مستحق  ہیں کہ ابن اللہ  کہلائیں  کیونکہ  مطلق گناہ  سے پاک وہی ہیں۔  اخلاق الہیٰ  کے پورے مظہر  وہی ہوئے ۔  ایک دوسری  خصوصیت  بھی ہے  جس کی وجہ سے  آپ  ابن اللہ  کہلائے  وہ یہ کہ آپ  بغیر  باپ پیدا ہوئے  اور " فرشتے  نے مقدس  مریم سے کہا۔ روح القدس  تجھ پر  نازل ہوگا اور خدا تعالیٰ  کی قدرت  تجھ پر سایہ  ڈالیگی ۔ اس  سبب سے  وہ پاکیزہ  جو پیدا ہونے والا ہے  خدا کا بیٹا  کہلائیگا"(لوقا  ۱: ۳۵)  پس خدائے  غیور  کو پسند نہیں آیا  کہ اس مقدس  وجود کے حق میں  باپ کی نسبت  سوائے  اپنی قدوس  ذات کے  کسی اور  کی طرف  ہونے دے  پس اور لوگ  اگر خدا  کے فرزند کہلائے  تو رعایتاً  کہلائے   مگر  سیدنا مسیح  استحقاقاً ۔اس لئے ان کو نہ صرف  عام معنی میں خدا کابیٹا  کہا بلکہ  اکلوتا بیٹا  جو خداکی گود میں ہے۔

          ہاں ممکن ہے  کہ کوئی  مسلمان کہے  کہ ایسے  لوگ بھی گذرے  ہیں جنہوں نے  اس  اصطلاح  کے متعلق  غلطی کی اوراس سےکچھ ایسی مراد لی جو نہ خدا کی شان کےشایاں  تھی اور نہ بندگی  وعبودیت  کے۔ ہماری طرف  سے اس کا جواب یہ ہے کہ  یہ ان کی غلطی تھی جس کی اصطلاح  کرناہمارا  کام بھی ہے  اورتمہارا بھی۔ اور اگرہم بجائے  سیدھی  راہ اختیار  کرنے کے ان چند  نادانوں  کی خاطر  ایک ایسے  عمدہ مضمون  کو تر ک کردیں  تو خود ہم پر اعتراض  وارد ہوگا۔

          مثال  کے طورپر میں مسلمانوں کویاد دلاتا ہوں کہ ان کے درمیان ایک فرقہ  جسمانیہ  بھی گذرا ہے جس نے خدا کو صاحب جسم والااعضا  اس وجہ سے مان لیا کہ قرآن  میں اس سے سننا دیکھنا  اور بولنا  منسوب  ہوا۔ اس کے ہاتھ کا ذکر آیا۔ اس کے تخت کا۔ پس بجائے  اس کے کہ  ہم ان کے فاسد خیالوں  کی اصطلاح کریں۔ کیا زیبا ہے کہ قرآن  کے الفاظ  کو بدلیں؟  ممکن  ہے کہ کسی  خاص  وقت  کسی خاص  گروہ کے  خیالات  ایسے فاسد  ہوجائیں  کہ کچھ  مدت  کے لئے ہم کوکسی  خاص  اصطلاح کا استعمال  اس غرض  سے  معطل  کردینا پڑے ۔ مبادا  وہ لوگ  اپنی غلطی  میں مضبوط  ہو  جائیں ۔ ایسا  اکثر  ہوسکتاہے ۔ جب ایک قوم  کی اصطلاح  کا دوسری  قوم میں  رواج  دیا جائے۔مثلاً یہودیوں  کے درمیان  سجدہ ایک  تعظیمی  فعل تھا  جو زمین  بوسی  سے کچھ  بھی زیادہ  نہیں۔ بادشاہ  کے آگے  سجدہ کرتے تھے  ۔ انبیاء کے آگے سجدہ  کرتے تھے۔ امرا  کے آگے  سجدہ کرتے تھے۔  مگر یہودی  موحد تھے  ایک خدا  کے ماننے  والے۔ ان کے عقائد  مشہور  ومعروف  تھے۔ ان کے سجدے  کودیکھ کے کبھی  کسی شک  کرنے والے کو شک نہیں گذرا ۔ میں  بھولتا  ہوں یہودیوں  کے فعل  کا کیوں ذکر کروں۔ کیونکہ  یہودیوں  نے جو یہ طریقہ  سیکھا  تو ملائکہ  حضرت  آدم  سے سیکھا  ۔ حضرت  آدم کو خدا  نے خاک  سے پیدا  کرکے فرشتوں  کے آگے لاکھڑا کیا تو سب  سے پہلے خود  ان کو حکم دیا کہ تم آدم  سجدہ کرو۔ اور سب  سجدہ میں  گر پڑے۔ شاید اسی  طرف  اس  آیت  میں بھی  ایک اشارہ  ہے" جب  وہ پہلو ٹے  کو دنیا میں  لایا توکہا  اے خدا  کے سارے فرشتو  اس کو سجدہ  کرو"( عبرانیوں  ۱: ۶)  یہ آدم  اول  کا تذکرہ  ہے۔  مگر یہ  فعل آدم  ثانی  کی ذات  میں پورا  ہو۔ ع  زمیں بوس  قدر  تو جبرئیل  شد۔ پس بڑوں کواہل  اللہ کو ۔ بادشاہ  ظل خدا کو سجدہ کرنا سنت  ملائکہ  سے یہودیوں  میں رواج پاگیا۔

          ممکن ہے  کہ یہ رواج جس میں کچھ بھی عیب نہیں بلکہ سنت  ملائکہ  ہونے کی خوبی  رکھتاہے  بت پرست  ہندوؤں کے درمیان جوہرایک  میں کوئی دیوی یاد یوتا  یا اوتار  دیکھتے  ہیں کچھ دنوں  کے لئے  بند کردیا جائے ۔ جب تک  آریہ لوگ عیسائیوں  اور مسلمانوں  سے سیکھ  کر ان کے  خیالات  کی اصطلاح  نہ کریں۔ شاید  یہی وجہ تھی کہ اسلام نے اس  سجدہ  تعظیم  کو بند کردیا اور شاید  یہ بھی قرین  مصلحت  ہوکہ  حجر اسود  کو چھوتے  اور  بوسہ دیتے  ہیں  تو  وہ فوراً  ہی سمجھیں  کہ یہ  تو ہمارا  مہادیو  ہے جسکے مسلمان قائل ہیں۔مگر  مسلمانوں  کی بہت  بڑی  زیادتی  ہوگی اگر وہ ملائکہ  کے درمیان یا یہودی اور عیسائیوں   کے درمیان  اس سجدے  کو روکنے  کی کوشش کریں۔  پس ہم  کچھ بھی  عیب نہیں دیکھتے  کہ کیوں  ابن اللہ  کے لقب  کو کتبہ مقدسہ  کی اصطلاح  کے موافق  تر کیا جائے ۔ ہم کو ایسا معلوم ہوتاہے  کہ عرب کے لوگوں کے خیالات  اس زمانے میں کچھ ایسے بگڑے  ہوئے تھے  اورانہوں نے  اس پاک  اصطلاح  کو کسی  ناپاک  معنی میں استعمال رکھا  تھا۔ جس کی  وجہ سے  اسلام نے اس مبارک لقب کو ترک کیا۔  اوراس کی بجائے  کچھ ایسے  ہم معنی  الفاظ  کو رواج  دیاجن کا استعمال ان لوگوں کے لئے آنحضرت  کم  خطرناک  معلوم ہوا۔مثلاً عیسائی سیدنا مسیح  کو خدا کا بیٹا  کہتےہیں وہ اس کو  خدا کاکلمہ  بھی کہتے ہیں  قرآن نے  دوسری  اصطلاح  کو بحال رکھا  اورپہلی  کی بجائے  بالکل  ہم معنی  ایک دوسری  اصطلاح  کو رواج دیا یعنی  مسیح کو روح اللہ  کہا جس کے معنی  ہیں خدا کی جان ۔ بیٹے کےلئے  بہت استعارات  رائج ہیں  اس کو قرہ العین  کہتےہیں۔  لخت جگر  کہتےہیں۔  جان پدر کہتےہیں  یہی جان پدر کی اصطلاح  اختیار  کرلی اور بجائے  بیٹے کے سیدنا مسیح  کو خدا کی روح  کہا۔اہل عرب  کے درمیان  بہت سے فاسد  خیالات  رائج تھے ۔ مثلاً  وہ فرشتوں  کو خدا کی بیٹیاں   کہتے تھے  اوریونانیوں  کی طرح  دیوتاؤں  کو خدا  کے بیٹے مانتے  تھےاور لفظ بیٹے  بیٹیوں  کو اصطلاحی  معنوں  میں نہیں  بلکہ محض  عرفی معنوں  میں سمجھتے  تھے۔ یونانیوں  کے تمام دیوتا  انسانی  خاندان  کی طرح بیوی بچے والے ہوتے تھے۔ یہی حال عرب  کا ہوگا یہی  حال ہندوؤں کاہے۔  اگر رام ہے تو سیتا بھی ہے۔ اگر کرشن ہے تو رادھا بھی ہے اگر مہادیو  ہے تو پاربتی  بھی ہے۔ اب یہ مجتہدوں  کے اجتہاد  کی بات ہے۔  مصلحین  نے اپنی  مصلحت  کو خود پہنچانا۔  آنحضرت  نے یہ مناسب  جاناکہ  اس وقت  ابن اللہ کی اصطلاح  کو ترک کردیا جائے  مبادا  اس اصطلاح  کے ساتھ  جو کفر  وشرک کے نازیبا  خیالات  مل گئے  ہیں اس سے یہ  نادان  بت پرست  دھوکا  کھاجائیں۔

          مقدس پطرس  اور مقدس  پولوس  نےیہی مناسب  جانا کہ ہم  اپنی شائستہ  اصطلاح کو نہ بدلیں بلکہ انہیں  بیوقوفوں  کے خیالات کی اصطلاح  کردیں۔ پس عیسائیوں اور یہودیوں  میں وہ اصطلاح  اس وقت  تک رائج رہی اور مسلمانوں  میں متروک ہوگئی  لفظ متروک ہوگیا معنی نہیں مترو ک ہوئے۔اور ہم کو  معنی  سے بحث  ہے اور ہم کہہ سکتےہیں  کہ قرآن میں کوئی لفظ  ایسا نہیں ہے جس سے اصطلاح  کے صحیح معنوں  میں حرف  آسکے۔ پس یہ معلومہوگیا کہ یہودی  اصطلاح  میں کس عمدہ معنی کے ساتھ  ابن اللہ  کا لقب  جاری ہے ۔ مگر جس وقت  شرک کا خیال  گذرتا ہے تو یہودی  بھی اس خیال کوویساہی  ردکرتےہیں  جس طرح  کوئی مسلمان ۔ یہ سن کر اہل اسلام  کو سخت  استعجاب ہوگا کہ قرآن  کی سب سے مشہور  سورہ اخلاص  بالکل یہودی  مضمون کا خلاصہ  ہے۔ایک یہودی ربی ابن اللہ  کی اصطلاح  کوماننے  والا طالمود میں یسعیاہ (۴۰: ۶)  کی شرح میں لکھتا ہے  " ربی ابا  ہونے فرمایا بادشاہ جو گوشت  وخون سے  بنا(یعنی  انسان) اسکی مثال  یہ ہے کہ  وہ حکومت  کرتا ہے اسکے  باپ ہوتاہے یا بھائی لیکن وہ قدوس ۔ اس کا نام  مبارک ہو۔ فرماتاہے  میں ایسا نہیں ۔ میں اول ہوں۔ میرا کوئی  باپ نہیں۔  میں آخر ہوں۔  میراکوئی بیٹا  نہیں۔  میرے سوا کوئی خدا  نہیں  یعنی میرے  کوئی بھائی  بند نہیں "۔

          اب اس کو پڑھ کر  معلوم ہوجائیگا  کہ جو کہا  قل  ھو  اللہ احد ۔ اللہ الصمد  لم یلد  ولم  یولد۔ ولم یکن  لہ کفوا احد۔ اس میں  دراصل  ایک حرف  بھی نہیں  جو یہودی  ربی کےکلام  سے زیادہ ہو بلکہ  ہو بہو  عبرانی  کا عربی  ترجمہ ہے بلکہ ایسا  معلوم  ہوتاہے کہ مدینہ  کے یہودیوں  کے پاس گویا  عربی کی  کوئی  طالمود تھی جس  میں اسی طرح  سےعبرانی  کا مضمون ادا کیاگیا تھا۔ قرآن شریف  میں ایک آیت یہ موجود ہے لواراد  اللہ ان یتخذ ولد الاصطفے  مما یخلق  مایشائ  سبحنہ  ھو  اللہ واحد القہار۔  اگر خدا چاہتا ہے کہ کسی کو فرزند ی میں قبول  کرے تو اپنے مخلوق  میں سے جس کو چاہتا چن لیتا وہ پاک ہے وہ اکیلا  خدا ہے قہار  ہے (زمرع ۱)  پس فی فقہہ خدا کاکسی کو بیٹا  کہنا کوئی  نازیبا  امر نہیں  اور اگر کسی  کوبیٹا  نہیں بنایا تو فقط  اس لئے  کہ وہ  واحد ہے اورپاک ہے۔  مگرمسیح  بھی پاک ہے اور ع عدیم است  عدینش  چوخداوند  کریم۔  پس اگر خدائے  قدوس  اپنے ایسے  پاک بندے  کو اپنی  فرزندی  میں لے  تو عین اس کے  تقدس کے شایاں  ہے"۔ روح القدس  تجھ پر نازل ہوگا اور خدا کی قدرت  تجھ پر سایہ ڈالیگی۔ اس سبب سے  وہ پاکیزہ  جو پیدا ہونے والا ہے  خدا کا بیٹا  کہلائیگا۔  سیدنا مسیح  جو تمام جن  وانس  وملائکہ  میں عیسائیوں  کے اعتقاد  کے موافق  افضل ہیں۔  جو وجہیاً  فی الدنیا  والاآخرت  ٹھیرے  ضرور  اس کے سزاوار  تھے  کہ خدا ان کو  اپنا فرزند  بنائے۔  وہ بہترین  خلائق  ہیں یعنی  اگر دونوں  جہان میں کوئی  خدا کی فرزندی  کی قابلیت  رکھتاہے  تو وہ مسیح ابن اللہ ہیں۔  چاہے  مولوی کچھ  کہیں  اورانکے متقدی  کچھ۔ مگر  جن لوگوں نے روحانیت  میں بہت  زیادہ ترقی  کی اور مثل  مولانا روم  کے یہ کہنے کے درجے  پر پہنچ  گئے ۔ من ز قرآں  مغز را برداشتم ۔ استخواں  پیش سگاں  انداختم  انہوں نے سلوک  کے اعلیٰ  منازل  پر پہنچ  کر ابن اللہ  سے بڑھ کر  کوئی رتبہ  نہ دیکھا۔  انہوں نے مطلق  پروانہ کی  کہ علما  ئے ظاہر  کس طرح  ناک بھوں  سکوڑینگے  اورانہوں نے یہودی  اور عیسائی  اصطلاح  سے فیض  اٹھایا اوربے  محاباپکار اٹھے ۔ ماعیال حضرتیم  وشیر خواہ  ۔ گفت   الخلق  عیال  اللہ ۔ اولیا  اطفال  حق اندائے  پسر ۔  بلکہ ہم کو  ان صوفیائے  کرام کی شکایت  کرنا پڑتی ہے  کہ انہوں نے  ہماری تمام  اصطلاحیں  مستعار  لے لیں۔  سیدنا مسیح  کا لقب  ہے اکلوتا بیٹا  جو خدا کی گود میں ہے۔ ابوبکر  شبلی فرماتے ہیں الصوفیہ اطفال  فی حجر  الحق صوفی  طفل  ہے حق  کی گود میں ۔ رسالہ قشیریہ  مجھ کو اس وقت ہندوستان  کے ایک گمنام  مگر روشن ضمیر  مسلمان شاعر  منور خان  دلمیر  رئیس  میرٹھ  کا ایک  شعر یاد  ہوتاہے  جوانہوں نے  بھاکھا  میں کہا۔ چنانچہ مناجات  میں فرماتےہیں ۔ میرے خالق  میرے  مالک ۔ تو ہے باپو  ہم تیرے  بالک۔  انکے کلیات  پر خواجہ حالی  نے پر چہ معارف  دسمبر ۱۹۰۱ء  میں تبصرہ کرتے ہوئے  اس نادر خیال  کی داددی۔  اس مضمون  پر خواجہ  صاحب  کا اپنا شعر بھی ہے۔

یہ پہلا سبق تھا کتاب  ہداکا

کہ ہے ساری مخلوق  کنبہ خدا کا

ولمیر  کے شعر پر آپ لکھتے ہیں " خداکی عظمت  کا بیان گنواروں  کے خیالات  کے موافق  اس سے بہتر  کسی  پیرایہ میں نہیں ہوسکتا کہ اس کو باپ  اوراپنے  تئیں  اس کے بچے  قرار  دیں"۔

          کاش  حالی صاحب سمجھتے کہ ابن اللہ  کی اصطلاح  ایسی پیاری  ہے کہ ناخواندہ  حال گنوار بھی اس کواسی وجد  کے ساتھ  اپنی زبان  سے نکالتا  ہے جس وجد  کے ساتھ علم  معرفت  میں منتہی۔ مولوی معنوی  کے ہم سبق  ۔ اوریہ  جوہم قرآن  میں پڑھتے ہیں فاذ کر وا اللہ  کذ کر  کمہ آباء کم  اواشد  ذکرا۔ خداکی  یاد کرو جیسے یاد کرتے  ہو اپنے باپوں  کی یا اس سے بھی بڑھ  کر یاد کرو۔  اس میں  بھی وہی  معرفت  پوشیدہ  ہے کہ خدا کی  عظمت  کا بیان اس سے زیادہ  اورکیا ہوسکتاہے کہ اس کو  باپ کہیں  اوراپنے تئیں  اس کے  فرزند  اور یہ نہ صرف  " گنواروں  کے خیالات  کے موافق " بلکہ  زمانہ حال  کے نہایت  شائستہ  اور متین  اسلام کے خیالات  کے موافق بھی۔

          جسٹس  سید امیر علی  جن سے بڑھ کر اس زمانے میں کوئی  دوسرا حامی اسلام نہیں نظر آتا  ! وہ بھی  بڑے شوق سےیہ لکھ گئے " آسمانی  باپ نے اپنے خادم  (محمد) کے ذریعے  اپنے بہکے ہوئے  بال بچوں  کو پھر  اپنی طرف  بلایا۔"  (سیرت  محمدیہ  صفحہ ۵۸۰۔ انگریزی)پھر فرماتے ہیں "  خدا کی ابوت  کا جو تصور حضرت مسیح کو تھا اس میں کل بنی آدم شامل تھے  تمام آدمی  خدا کے فرزند  تھے اور آپ ازلی  باپ  کی طرف سے  ان کے ہادی  ہوکر آئے تھے ۔پس  اس طرح  عیسائیوں  کے پیش نظر  ایک اوربھی  زیادہ  لطیف  نمونہ  موجود تھا( صفحہ ۲۳۲) ۔

          اور اسلام  سے اس مبارک  اصطلاح  کے متروک  ہوجانے  کا آپ یہ عذر  بیان فرماتے ہیں "۔ خدا کے متعلق  لفظ  باپ کے استعمال  کوجو اسلام  نے متروک  کردیا اس کا باعث  یہ تھا  کہ ہم  عصر عیسائیوں  کے درمیان  اس لفظ کا مفہوم بدرجہ غائت  بگڑ گیا تھا۔

          اور پھر  آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ " ہم اس بات  سے قطعی انکار کرتے  ہیں کہ حضرت  مسیح نے  اپنے تئیں  کبھی بھی اس معنی میں ابن اللہ  قرار دیا جس معنی میں عیسائی  علماء اور  مناظرین  نے اس کلمہ  کو تعبیر  کیا ہے"۔

           ہمارا  دعویٰ  تو صرف  اسی قدر  ہے کہ وہ معنی  نہایت  زیبا ہیں جس میں  اس لفظ  کااستعمال  انبیاء نے کیا جن میں سیدنا مسیح  نے آپ کو  زندہ  خدا کا بیٹا  تسلیم کیا جس میں آسمان سے آواز آئی۔  یہ میرا  پیارا بیٹا  ہے جس سے میں خوش ہوں ۔ جس میں  فرشتے  نے بشارت  دی وہ خدا کا بیٹا  کہلائیگا۔  پس عیسائیوں  کے خیالات  سے کیوں  الجھتے ہو۔  تم اس کے اصلی مفہوم  کو خود  تلاش کرلو۔  عیسائی  مسیح کو کلمتہ اللہ  کہتےہیں۔  اورکلمتہ اللہ  سے ان کی مراد  وہی ہوتی ہے  جو ابن اللہ  سے ہے۔ پھر تم مسیح کو کیو ں کلمتہ اللہ   کہتے ہو۔

          گومناسب  نہیں معلوم  ہوتاکہ  ہم اس مقام پر مسلمانوں  میں سےکسی  ایسے شخص  کا ذکر  کریں جو اپنی واہیات و ناشائستہ  تعلیوں کی وجہ سے بدنام  ہوچکا ہے ۔ لیکن  اس بحث  میں ہم اس کی کتاب  سے بھی  یہاں ایک  اقتباس کرتے ہیں تاکہ  معلوم ہوجائے کہ  اس نے کہا ں تک مسلمان  صوفیوں  اور عیسائیوں  کے بعض  خیالات  کا سرقہ کیا ہے۔ اوراسی  مال مسروقہ  کی بدولت  نئی نئی  تحقیقات  کادعویٰ  کیا کرتا ہے۔جب اس نے مسلمانوں  کو ادھر  سے غافل دیکھا تو  اپنی  جھونپڑی  کی آرائش  کے لئے  عیسائیوں کے بنگلوں  اورکوٹھیوں  کا سامان  چرایا  اور بغیر  شکریہ ادا کئے اپنے  ناجائز  استعمال  میں لایا اور نادانوں  سے کہا  یہ میرا  ایجاد ہے  مگر گودڑ میں کمخواب  کا پیوند  کب کھپ سکتا  ہے! ہم اس  کے کلام کواس غرض  سے بھی نقل  کرتےہیں  کہ یہ شخص  عیسائیوں  اور عیسویت  کابڑا دشمن  ہے اور باوجود  عناد  کے اس کو عیسائیوں  کے خیالات  کے آگے  سر تسلیم  خم کرنا  پڑا۔  یہ لکھتا ہے  ہے"۔  یہ  نفا  کا مرتبہ  سالک  کے لئے  کامل طور پر  متحقق  ہوتاہے  کہ جب  ربانی  رنگ بشریت  کے رنگ  وبوکوبہ تمام  وکمال  اپنے رنگ  کے نیچے  متواری  اور پوشیدہ  کردے  جیسے آگے  لوہے  کے رنگ  کے نیچے   ایسا  چھپالیتی  ہے کہ نظر  ظاہر  میں بجز  آگ  کے اورکچھ  دکھائی  نہیں دیتا ۔  یہ وہی مقام  ہے جس پر پہنچ کر  بعض  سالکین  نے لغزشیں  کھائی ہیں اور شہودی پیوند  کر وجودی پیوند کے رنگ  میں سمجھ  لیا ہے۔ اس مقام  میں جو اولیا  اللہ پہنچے  ہیں یا جن کو اس  میں سے  کوئی گھونٹ  میسر آگیا  ہے۔  بعض  اہل تصوف  نے ان  کا نام اطفال  اللہ رکھ دیا  ہے۔ اس مناسبت  سے کہ وہ  لوگ  صفات الہیٰ  کے کنار  عاطفت  میں  بہ کلی جا پڑے ہیں اورجیسا  ایک شخص  کالڑکا  اپنے حلیہ  وخط  وخال میں  کچھ  اپنے باپ سے مناسبت  رکھتاہے  ویسا ہی  انکو بھی  ظلی  طور پر  بوجہ  تخلق  باخلاق اللہ  کی صفات  جمیلہ  سے کچھ  مناسبت  پیدا ہوگئی ہے۔ ایسے  نام  اگرچہ  کھلے  کھلے  طور پر بزبان  شرع  مستعمل  نہیں ہیں  مگر درحقیقت  عارفوں  نے قرآن کریم  سے ہی اس کو  استنباط  کیا ہے  کیونکہ  اللہ جل شانہ فرماتاہے  فاذکرواللہ  ذکرواللہ کذ کر کماآباء  کمہ اواشد  ذکر  ا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو  ایسا یاد کرنا  کہ جیسے  تم اپنے  باپوں کو یاد کرتےہو۔ اور ظاہر  ہے کہ اگر مجازی  طورپر  ان الفاظ  کا بولنا  نہیات  شرع  سے ہوتا تو خدا  تعالیٰ  ایسے طرز سے اپنے کلام  کو منزہ  رکھتا جس سے  اس اطلاق کا جواز  مستنبط  ہوسکتاہے "۔

          یہ مضمون  لکھنے  سے میری  غرض صرف  یہ دکھلادینا تھی  کہ عیسائیوں  اور مسلمانوں  کے درمیان  اس اصطلاح  کی بابت  محض  ایک لفظی  اختلاف  ہے اس کے معنی  کے اوپر کوئی  اعتراض  نہیں ہوسکتا۔  ہم مسیح کو ابن اللہ  کہتے ہیں۔  تم اس کو روح  اللہ کہتے ہو۔  یہ روحانی  حقیقیتں  ہیں جن کے اظہار  کے لئے سوائے  استعارات  اور کلام متشابہ کے اورکچھ موزون  نہیں۔  روح اللہ  کہو خواہ  اسکو اللہ  کا نفس  ناطقہ  کہو۔ بات  ایک  ہی ہے یعنی وہ کلام  خدا ہے۔  اللہ کو  اوراسکے  کلام کووہی  واسطہ  ہےجوباپ  کواپنے  بیٹے  سے  ہوتاہے۔

کم کہتے  ہیں ہر گز  نہ سوا کہتےہیں

جوکچھ کہتےہیں  ہم بجاکہتےہیں

ظاہر ہے کہ بڑھ کر  ہے کہیں جسم سے

روح  حق ہے  جو اسے روح خدا کہتے ہیں

 

Posted in: مسیحی تعلیمات, یسوع ألمسیح, اسلام, غلط فہمیاں | Tags: | Comments (0) | View Count: (10144)

Post a Comment

English Blog