en-USur-PK
  |  
02

کیا انجیل ِشریف میں تحریف واقع ہوئی ہے ؟

posted on
کیا انجیل ِشریف میں تحریف واقع ہوئی ہے ؟

 Thursday, May 02, 2013

کیا انجیل ِشریف میں تحریف واقع ہوئی ہے ؟

 Has Gospel Has been changed?

چند روز ہوئے ایک مسلمان دوست نے باتوں باتوں میں اپنے ایک عیسائی دوست سے پوچھا۔کیا آ پ بتاسکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ  کے بارے میں جنہیں آپ یسوع کہتے ہیں کوئی شخص مزید علم کس طرح حاصل کرسکتا ہے ؟عیسائی دوست نے جواب دیا " آپ انجیل شریف پڑھئيے۔ حضور المسیح کے بارے میں واقفیت  کے لئے عیسائی انجیل شریف کو پڑھتے ہیں۔ یہ کتاب آپ کے لئے بھی برکت کا باعث ہوسکتی ہے۔" مسلمان دوست کو یہ بات پسند آئی اور اس نے انجیل شریف کی ایک جلد حاصل کرلی۔

          تو بھی اس سلسلے میں بہت تعجب خیر بات یہ ہے کہ مسلمان بھائيوں کے ذہنوں میں انجیل شریف کے بارے میں چند شہبات پاتے جاتے ہیں۔جب ان کا کوئی عیسائی دوست انہیں انجیل شریف کے مستند ہونے پر اپنا شبہ ظاہر کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ ایک مسلمان دوست نے اس عیسائی سے کہا تھا " عیسایئوں نے انجیل شریف میں تحریف نہیں کی ہے ؟ ایک دوسرے مسلمان دوست نے اپنا خیال يوں ظاہر کیا تھا " کیا قرآن شریف نے  انجیل شریف کو مسنوخ نہیں کردیا؟ ایک اور مسلمان دوست نے ا س سے کہا تھا " ہم جانتے ہیں کہ  انجیل شریف حضرت عیسیٰ  کے آسمان پر اٹھائے جانے کے وقت ان کے ساتھ ہی اوپر اٹھالی گئی اور موجودہ انجیل جسے آپ استعمال کرتے ہیں حقیقی  انجیل شریف نہیں ہے"

          اس عیسائی نے انجیل شریف کے متعلق اپنے مسلمانوں دوستوں سے ایسی باتیں سن کر یہ پتہ چلانا چاہا کہ وہ لوگ انجیل شریف کے بارے میں ایسے تہمات کیوں ظاہر کرتے ہیں  اسے جلدہی یہ معلوم ہوگیا کہ اس کے مسلمان دوستوں نے ایسی  باتیں مدرسہ میں یا اپنے کسی بزرگ سے سنی ہیں اور اس سلسلہ میں مسلم طبقہ کے بعض راہنما انہیں یہ مشورہ بھی دیا کرتے ہیں کہ  وہ عیسائیوں کی پیش کی ہوئی انجیل شریف کو ہر گز قبول نہ کریں۔اس عیسائی  کو ایک موقع پر ایک مسلمان عالم سے اپنی گفتگو بھی ياد آئی مسلمان عالم نے دعویٰ کیا تھا کہ قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے کہ عیسايئوں کی موجودہ انجیل میں تحریف ہوئی ہے اور جب اس عیسائی نے اس مسلمان عالم سے پوچھا تھا کہ " قبلہ کیا آپ قرآن شریف کی کوئی ایسی  آیت پڑھ سکتے ہیں یا اس کا حوالہ دے سکتے ہیں جس سے ظاہر ہو کہ انجیل شریف  کے  متن میں تحریف  ہوئی ہے تاکہ مجھے بھی اس بات کا علم ہوجائے ۔" تو اس مسلمان عالم نے تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد  کہا تھا " اس وقت تو مجھے کوئی ایسی آیت یاد نہیں ہے لیکن میں قرآن مجید میں دیکھوں گا اور وہ آیت آپ کو بتاؤں گا تاکہ آپ کو معلو ہوجائے کہ آپ کی یہ انجیل اصلی انجیل نہیں ہے " گو اس بات کو بہت عرصہ ہوگیا لیکن ابھی تک  وہ کوئی ایسی شہادت پیش نہ کرسکے۔

          بہر حال اس واقعہ کے بعد اس عالم نے یا دوسرے علماء نے اب تک کوئی ایسی آیت پیش نہیں  کی بہ مشکل ہوتاہے کہ قرآن شریف میں ایسی کوئی آیت نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ انجیل شریف کے متن میں نعوذباالله تحریف ہوئی ہے۔اس عیسائی نے چونکہ ایسا دعویٰ بہت بار سنا تھا  اس لئے اس نے یہ فیصلہ کیاکہ  وہ خود قرآن شریف کی شہادتوں کا مطالعہ کرے گا اور پتہ چلائے گا کہ ایسا دعویٰ کہاں تک صحیح ہے۔

          اس عیسائی کی اپنی تحقیقات  کا پورا نتیجہ اس مختصر رسالہ میں  بیان کرنا مشکل ہے تو بھی اس کی تحقیق کا مختصر خلاصہ پیش کیا جارہا ہے تاکہ اس مسئلہ پر اگر آپ کے خیالات بھی اس مسلمان دوست کی طرح  ہیں کہ موجودہ  انجیل شریف  اصلی انجیل شریف  نہیں ہے تو یہ مطالعہ  آپ کے لئے  فائدہ بخش اور دلچسپی کا باعث ہوگا ۔

           اس عیسائی کی تحقیقات کا نتیجہ مختصراً حسب ذیل ہے:

1۔ قرآن شریف میں بار بار انجیل شریف اور عیسائيوں کاذکر آیا ہے۔

2۔قرآن شریف فرماتا ہے کہ  انجیل (شریف ) میں ہدایت اور نور ہے ملاحظہ فرمائيے ۔

سورہ المائدہ آیت 46

وَآتَيْنَاهُ الإِنجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ

(اور ہم نے ان کو  انجیل دی جس میں ہدایت اور نور ہے )

3۔قرآن شریف بیان کرتا ہے کہ انجیل (شریف ) میں تمام بنی نوع انسان کے لئے ہدایت ہے۔دیکھئے سورہ  آل عمران آیت 3

وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ مِن قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ

(اور اس نے اس سے پہلے انسانوں کی ہدایت کے لئے توریت (شریف) اور انجیل (شریف )نازل کی

4۔قرآن شریف کی شہادت  ہے کہ یہودی اور عیسائی کتاب الله پڑھتے ہیں ۔

سورہ البقرہ آیت 113

وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ

(اور وہ دونوں کتاب الله پڑھتے ہیں)

5۔قرآن شریف فرماتا ہے کہ  عیسائی انجیل شریف کے مطابق  حکم دیں ۔

سورہ المائدہ آیت 47

وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الإِنجِيلِ بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فِيهِ

(انجیل والوں کو جوکچھ الله نے اس میں نازل کیا ہے اس کے مطابق  حکم کرنا چاہیے ۔)

6۔قرآن شریف میں حضرت محمد ﷺ سے مخاطب ہوکر کہتا ہے کہ  اگر آپ کو قرآن شریف کے بارے میں کچھ شک ہو تو یہودیوں اور عیسائیوں سے رجوع فرمائیں ۔

سورہ یونس آیت 94

فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَؤُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ

(اگر اس قرآن شریف کے بارے میں تم (محمد)کو شک ہو تو جو لوگ (یہودی اورعیسائی) تم سے پہلے کتاب الله پڑھا کرتے ہیں ان سے پوچھو)

7۔قرآن شریف  میں یہ کہیں نہیں ہے کہ انجیل شریف کے متن میں تحریف ہوئی ہے اس عیسائی کو قرآن شریف کی ان شہادتوں پر نہایت حیرت ہوئی کیونکہ یہ شہادتیں  انجیل شریف کے متن کی صحت کی تائید میں ہیں۔اس نے اپنے دل میں سوچا "اگر میرے مسلمان دوستوں کے خیالات کے مطابق  انجیل شریف  میں تحریف کی گئی ہوتی۔ تو قرآن شریف یہ کیسے بیان کرسکتا تھاکہ عیسائی کتاب الله پڑھتے ہیں؟ اگر میرے دوستوں کے قول کے مطابق  انجیل شریف  میں تحریف ہوئی کی گئی ہوتی تو وہ منسوخ ہوگئی ہوتی یا آسمان پر اٹھالی گئی ہوتی تو قرآن شریف عیسائيوں کو یہ مشورہ کیوں دیتا ہے کہ  عیسائی انجیل شریف کے مطابق  حکم دی؟ یقیناً  قرآن شریف  عیسائيوں کو ایک  محرف یا منسوخ کتاب (یا ایسی کتاب جس کا اب وجود نہیں ہے اور وہ آسمان پر اٹھا لی گئی ہے )کے مطابق حکم کرنے کی تلقین نہ کرتا۔ مزید براں اگر اہل کتاب کے صحیفوں میں تحریف ہوئی ہوتی تو قرآن شریف حضر ت محمد کو یہ مشورہ کیوں دیتا کہ کسی وحی کے بارے میں شک کی حالت میں وہ اہل کتاب  سے رجوع فرمائیں؟یہ سچ ہے کہ قرآن شریف  کسی نہ کسی  وجہ سے عیسائیوں کو نصیحت کرتا ہے کہ  وہ اپنے طریقوں کی اصلاح کریں لیکن قرآن شریف کہیں بھی یہ نہیں کہتا ہے کہ عیسائیوں  کی موجودہ انجیل شریف کے متن میں تحریف  ہوئی ہے اور اب وہ انسانوں کے اعتبار کے لائق نہیں۔

          آخر مسلمان احباب کو عیسائيوں کی پیش کردہ پاک انجیل کی صحت کے متعلق  یہ عجیب شہبات کیوں ہیں؟ وہ مسلمان جو انجیل شریف کی صحت پر شک کرتے ہیں اوراس کے بارہ میں قرآن شریف کی شہادتوں کو نظرانداز کئے جاتے ہیں  کیا اپنے اس رویہ سے خود قرآن شریف کی توہین نہیں کرتے ؟ یہ بھی تو ممکن ہے کہ جو لو گ انجیل شریف کے محرف ہونے پر بہت اصرار کرتے ہیں وہ قرآن شریف  کے پیغام سے عدم واقفیت کا ثبوت دیتے ہیں یا کم از کم قرآن شریف کے پیغام کے ایک حصہ سے غفلت برت رہے ہیں۔

          اس مطالعہ نے واقعی اس عیسائی کی ہمت افزائی کی کہ وہ اپنے مسلمان بھائيوں اور بہنوں کو انجیل شریف کی برکات میں شریک ہونے کی دعوت دینے کی کوشش کو جاری رکھے بہر حال اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ  وہ اس شہادت  کو محض اپنے مسلمان دوستوں کے ساتھ بحث کرنے میں ہی استعمال کرے۔ اس کی تمنا تو یہ ہے کہ لوگ بذات خود قرآن شریف کی اس شہادت  کو پرکھیں اور اس کا اپنے شہبات سے مقابلہ کریں۔اسے امید ہے کہ مسلم احباب اس شہادت کی روشنی میں انجیل شریف  کے پیغام کا کشادہ دلی اور دعا کے ساتھ مطالعہ کریں گے۔

          دوستو! وہ عیسائی حضرت عیسیٰ کے بے شمار پیروی کرنے والوں میں سے ایک ہے جنہو ں انجیل شریف کی شیرینی چکھی ہے ۔ ا ن کے لئے  انجیل شریف کا  پیغام شہد سے زیادہ  شیرین ہے اور وہ دلوں کو راحت بخشتا ہے ۔ یہ پیغام ان کے لئے  ایسی بڑی  روحانی دولت ہے جسے وہ خود غرضی سے صرف اپنے لئے  چھپا کرنہیں رکھ سکتے ۔ جس طرح  کنجوس سونا چھپا کر رکھتے ہیں ۔ انہیں خوب معلوم ہے کہ ان کے آقا و مولا سیدنا عیسیٰ نے آسمان پر صعود فرمانے سے پہلے انہیں حکم دیا تھاکہ وہ انجیل کا پیغام تمام بنی نوع انسان تک پہنچائیں ۔آخر کار انجیل شریف باری تعالیٰ کی پاک کتاب ہے اس کی بشارت  دنیا کے تمام آدمیوں  کے لئے ہے جس طرح باری تعالیٰ نے ماضی میں اپنے  کلام انجیل شریف کی حفاظت کی ہے اسی طرح وہ اس کی ہمیشہ  کے لئے حفاظت پر قادر ہے ۔ اس سے کس کو انکار ہوسکتا ہے ؟ جب آپ انجیل پا ک کا پیغام پڑھتے ہیں تو دعا فرمائیں اور باری تعالیٰ کی حمدو ثنا کریں اوراس کے شکر گزار ہوں۔

 

 

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, اسلام, غلط فہمیاں | Tags: | Comments (1) | View Count: (11156)

Comments

  • بھاٸی آپ قرآنی آیات کا حوالہ دے رہے ہو ادھورا ۔۔۔ کیا اپ کی انجیل جن کو اپ مستند مانتے ہو ٤ نہی ہیں۔۔۔۔ اور وہ بھی کوٸی ٣٠٠ اناجیل می سے اپ کو مہں١ کتاب بتاتا ہوں اس کا مطالعہ کر لیں اپ کی تسلی ہو جاۓگی کہ انجیل میں تحریف ہوٸی ہے یا نہیں باقی بات اپ کی کہ اج تک کسی مسلم عالم نے کوٸی ثبوت نہی دیا تو یہ ہو ہی نہی سکتا کہ ہو عالم اور ثبوت نہ دے سکے وہ پھر کوٸی جھوٹا ہو گا جو اپنے اپ کو عالم کہتا ہے ورنہ جو عالم ہو گا وہ ١ نہی کٸی ایات اپ کو دکھا دے گا کہ قران میں کتنی جگہ پہ تحریف کا بتایا گیا ہے
    30/08/2018 3:48:52 AM Reply

Post a Comment

English Blog