en-USur-PK
  |  
04

اشتراکیت یا مسیحیت

posted on
اشتراکیت یا مسیحیت

Communism & Christianity

By

Allama Barkat Ullah

اشتراکیت یا مسیحیت

مصنف

علامہ مرحوم برکت الله

مسیحیت

(1)

          فی زمانہ بے روزگاری کے مسئلہ نےپاکستان کی توجہ اپنی طرف ایسی جذب کرلی ہے ۔ کہ لوگ کسی اور مسئلہ کی جانب توجہ ہی نہیں دیتے ۔ جد ھر آنکھ اٹھاؤ  بے روزگاروں اور بے کاروں کی قطار ورقطار نظر آتی ہے ۔ ہر طرف سے ایک ہی صدا کا نوں میں پڑتی ہے ۔ کہ "چور خورو بامدا فرزندم" ہائے روٹی "کی چیخ وپکار  کے سامنے دنیا کا ہر قسم کا شور اور غل مدھم پڑگیا ہے ۔ دورحاضرہ میں کسی شخص کے لئے اور بالخصوص  تعلیم یافتہ طبقہ کے لئے کوئی ایسا امر دلچسپی کا باعث نہیں ہوتا جس کا تعلق  روٹی کے ساتھ نہ ہو۔ پاکستان کی موجودہ  سیاسیات  میں اقتصادیات کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے  کہ مذہی اصول اور دینیات تک کو اس کے تحت کردیا گیا ہے ۔ اور ان کو ذریعہ معاش بنادیا گیا ہے ۔ مختلف  مذاہب کے پیرو اپنے اپنےمذہب کی آڑ میں اپنے ذاتی اغراض ومقاصد کو پورا کرکے اس مقولہ پر عمل کررہے ہیں کہ "ایمان برائے طاعت ومذہب برائے جنگ۔" جس کا نتیجہ یہ ہوگیاہے ۔ کہ فرقہ وارانہ شعلوں نے کشمیر بے نظیر سے لے کر رکراچی تک پاکستان بھر میں آگ لگادی ہے ۔ اور پاکستان جو تیس سال پہلے دارالامان تھا۔ اب باہمی نزاع اور نفاق کی وجہ سے دارا الحرب بن گیا ہے ۔ اندرین حالات دور حاضرہ کے نوجوان جن کے آباؤ اجداد خدا اور مذہب کے نام پر مرمٹنا سعادت دارین کاموجب سمجھتے تھے۔ وہ مذہب کے نام سے نہ صرف بیزار دکھائی دیتے ہیں۔ بلکہ مذہبی مباحث اور دینی مشاغل سے  متنفر ہوکر ان سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔ ان کی نظریں مشرق کے انبیا اور پاکستان کے اولیا کی طرف سے ہٹ کر روس کی جانب جا لگی ہیں۔جہاں بے روزگاری زمانہ ماضی کی داستان پارینہ ہوچکی ہے اور اشتراکیت  نے مصنوعی  درجہ بندیوں کو مٹا کرہر ایک شخص کے لئے روٹی  ،تعلیم،رہائش اور آسائش کا انتظام کرکے مواسات کو عالم امکان سے عالم وجود میں  لاکر پردہ شہود  پر رونما کردیاہے ۔ اور اب ہر روشن خیال شخص  یہ سوال پوچھتا ہے ۔ کہ اگر اشتراکیت  نے روس جیسے پس ماندہ  ملک میں بیس سال کے اندر اعجازی کرشمے دکھا کر انقلاب برپا کردیا ہے ۔ تو کیا پاکستان کے لئے اشتراکیت  کا قیام اس کے اقتصادی مسائل  کے لئے نفع بحش نہیں ہوگا؟پاکستان کے کروڑوں  باشندوں  کے لئے یہ سوال زندگی اور موت کا سوال ہوگیا ہے ۔

(2)

          اگر بنظر تعمق دیکھا جائے ۔ تو اقتصادی معتقدات اور موجودہ حالات کے اندر فساد کی جڑ تقابل اور Competitionہے ۔ ہماری اقتصادی عمارت مقابلہ کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے۔

پس۔۔۔

خشت اول چوں نہد معمار کج

تاثریا مے رود دیوار کج

          مقابلہ کی روح کی یہ خصوصیت ہے کہ ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ دوسروں کو جائز وناجائز طریقوں سے پچھاڑ کر خود آگے بڑھے۔ پس موجودہ اقتصادیات اس دوڑ کی مانند ہے۔ جس میں ہر شخص  اسی سر توڑ کوشش میں لگا رہتا ہے ۔ کہ میں کامیاب ہوکر دوسروں  سے گوئے سبقت لے جاؤں ۔ اور باقی تمام حریف  دیوالیہ ہوجائیں۔پس خودی اور طمع سرمایہ داری کی عمارت کے بنیادی پتھر ہیں۔ جوہر  قسم کے اتفاق ، یگانگت اور محبت کے جانی دشمن ہیں۔ اب تلخ تجربہ  نے ہم پر ظاہر کردیا ہے کہ مغرب  کے زیر اثر مانچسٹر کے مدرسہ اقتصادیات  (Manchester School of Economics)نے جو سبز باغ ہم کو شروع سروع میں دکھائے تھے۔ ان کی حقیقت  اور وقعت  سراب سے زیادہ نہیں ہے ۔ اور پاکستانی  قوم ہر گز ترقی نہیں کرسکتی ۔ اگر وہ معدودے  چند خوشحال سرمایہ داروں  پر اور پچانوے یا زیادہ فی صد  بھوکوں پر مشتمل ہوگی۔ جہاں سرمایہ دار فاقہ مستوں کو مخاطب کرکے کہیں۔

غوغائے کارخانہ آہنگری زمن     گلبا نگ ارغنون کلیسا زآن تو

نخلے کہ شہ خراج برومی نہذمن    باغ بہشت وسدرہ وطوبی ٰز آن تو

تلخابہ کہ درد سر آروزآن من    صہبائے پاک آدم وحوا ازان تو

مرغابی وتدرود کبوتر ازآن من    ظل ہما دشہپر عنقا ازآن تو

ایں خاک وآنچہ از شکم ادزان من وز خاک تابہ عرش معلی ازآن تو

          سرمایہ داری میں سرے سے یہ صلاحیت ہی نہیں۔ کہ دنیا کی اچھی چیزوں اور نعمتوں کو محبت اور انصاف کے اصول کے مطابق  تقسیم کرے۔ لیکن خدا نے اس دنیا کی نعمتیں سب کے لئے  رکھی ہیں۔ اور اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے ۔ کہ ان نعتموں کی تقسیم موجودہ اقتصادی حالات کے مطابق  خودی اور طمع کی بنا پر کی جائے ۔

(3)

          فی زمانہ میں روس ایک ایسا ملک ہے جس میں اشتراکیت  نے اپنی اقتصادیات  کی بنیاد مقابلہ کی بجائے اتفاق ، موالات اور کوآپریشن پر رکھ کر بیس سال کے اندر عظیم پیمانے پر ایسا انقلاب  پیدا کردیا ہے ۔ جس کی نظیر  تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ پس ہمار ے ملک کے نوجوان خیال کرتے ہیں کہ اگر پاکستان میں بھی اشتراکیت  کا بول بالا ہوجائے ۔ تو ہمارے کل اقتصادی  مسائل حل ہوجائیں گے ۔ اس میں کچھ شک نہیں ۔ کہ اشتراکیت  کا سب سے زیادہ دلکش اور روشن  پہلو یہی ہے کہ اس نے اپنی اقتصادیات کی بنیاد کوآپریشن پر رکھی ہے ۔لیکن کوئی صحیح العقل شخص اشتراکیت  کے بدنما داغوں کی طرف سے  اپنی آنکھیں بند نہیں کرسکتا۔ اشتراکیت  سوسائٹی  کے مختلف طبقوں میں منافرت کے جذبات پھیلاتی ہے ۔ اور مزدوروں کی جماعت کو یہ تلقین کرتی ہے کہ سرمایہ داروں کے وجود کو دنیا سے نابود کردیا جائے علاوہ ازیں اشتراکیت  کے پاس ایسے محرکات  اور معلات نہیں۔ جن کے ذریعہ وہ لوگوں کو سرمایہ داری کی جانب سے ہٹا سکے ۔ اور انسان کی خودی  اور طمع پر غالب آسکے۔ پس وہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کےلئے  لوگوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اس کے پروگرام پر عمل کریں ۔پس اشتراکیت  خودی اور طمع کا قلع قمع نہیں کرسکتی۔ کیونکہ ان کا تعلق  غیر مادی امور کے ساتھ ہے ۔ جن کا اشتراکیت  سرے سے انکار کرتی ہے ۔ اشتراکیت تعدی ، جبرو تشدد ، قتل اور خون کے ہتھیاروں سے اپنا کام نکالتی ہے ۔ اور آزادی کی دشمن ہے ، مادیت ، المحاد، اور لا مذہبی اس کی بنیاد یں ہیں۔ وقت کو تاہ وقصہ طولانی ، ورنہ روس کی گذشتہ بیس سالہ تاریخ  سے ثابت کیا جاسکتا ہے ۔ کہ اس کا ایک ایک ورق ان باتوں کی زندہ مثال ہے ۔

(4)

          پس لازم ہے کہ پاکستان کسی ایسے سیاسی اور اقتصادی  لائحہ عمل کی تلاش کرے۔ جس میں اشتراکیت  کی تمام خوبیاں موجود ہوں۔ لیکن اس کی برائیاں  مفقود ہوں۔ مسیحی مذہب کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کے پاس اس قسم کا تعمیری پروگرام موجو دہے۔ جس کا نام مسیحی اصطلاح نے "خدا کی بادشاہت " رکھا ہے ۔ اور وہ پروگرام روسی اشتراکیت  کا جواب ہے ۔ مسیحیت  کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ بادشاہت اٹل ہے ۔ اور اس کا بادشاہ ازلی اور ابدی بے نظیر  شخصیت  کا مالک ہے ۔ اور اس کا لائحہ عمل  ایک ایسا پروگرام ہے۔ جو عالمگیر ہے ۔ یہ بادشاہت  پروگرام کو مرتب کرتی ہے ۔ اور اس کا بادشاہ لوگوں کو اس کے پروگرام پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرتا ہے ۔ آؤ ہم چند لمحوں کے لئے دیکھیں، کہ آیا مادہ پرست اور ملحدانہ اشتراکیت  پاکستان کی اقتصادی مشکلات  کو حل کرے گی یا اس مبارک کام میں "خدا کی بادشاہت  " کے اصول ہمارے راہنما ہوں گے ۔

(5)

          خدا کی بادہشت کے بنیادی اصول یہ ہیں۔ کہ خدا ہمارا باپ ہے ۔ جو ہر فرد بشر سے ازلی اور ابدی  محبت کرتاہے۔ او رکل بنی نوع انسان  بلا لحاظ ذات ، مذہب ، نسل ، رنگ ، قوم اور ملک وغیرہ  ایک دوسرے کے بھائی اور خدا کی بادشاہت  کے شریک ہیں۔ اس بادشاہت  کے بانی کا ارشاد ہے کہ "تمہارا باپ ایک ہی ہے جو آسمان پر ہے اور تم سب بھائی ہو(حضرت متی رکوع 23آیت 8)۔

یہ پہلا سبق ہے کتاب ہدا کا       کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا

          اس مواخات  کی وجہ سے ہر شخص پر یہ فرض عائد کردیا گیا ہے کہ  وہ دوسروں سے اس طرح  محبت کرے ۔ جس طرح اپنے آپ سے محبت کرتا ہے ۔ ہر ایک شخص کو جو خدا کی بادشاہت کا ممبر ہے  مساوی حقوق حاصل ہیں۔ پس خدا کی بادشاہت  کا اصل الاصول محبت ہے ۔ اور اخوت ومساوات  اس بادشاہت کے بنیادی اصول ہیں۔

          محبت ،اخوت اور مساوات کےاصول کا یہ تقاضہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا جائے ، جو ہر انسان اپنے لئے چاہتاہے ۔ سچ پوچھو، تو حقیقت یہ ہے کہ  اگر انسان محبت  کے اصول پر عمل کرے  تو یہ جان لو کہ اس نے تمام شریعت پر عمل کرلیا۔ چنانچہ انجیل جلیل میں ارشاد ہوا ہے کہ "آپس  کی محبت کے سوا کسی چیز میں کسی کے قرضدار نہ ہو۔کیونکہ جو شخص دوسرے سے محبت  رکھتا ہے ۔ اس نے شریعت پر پورا عمل کرلیا۔ کیونکہ یہ احکام کہ زنانہ  کر، خون نہ کر، چوری نہ کر، لالچ نہ کر، اور ان کےسوا اور جو کوئی حکم ہو ، ان سب کا خلاصہ اس بات میں پایا جاتا ہے کہ اپنے ابنائے جنس سے اپنی مانند محبت رکھ ۔ محبت  اپنے ابنائے جنس سے بد ی نہیں کرتی ۔ اس واسطے محبت شریعت کی تعمیل وتکمیل ہے ۔"(خط رومیوں رکوع 13)۔تمام حقوق العباد اسی زمرہ میں آ جاتے ہیں۔ پس محبت  کا اصل الاصول جامع اور مانع ہے ۔ جو تمام آئین وقوانین اور فقہ پر حاوی ہے۔

خلل پذیر بود ہر بنا کہ مے  بینی

مگر بنائے محبت کہ خالی از خلل است

          یہ اصل انسان کے روزمرہ کے فرائض کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے ۔ اور انسانی اخلاق کا نصب العین قرار دے دیا گیا ہے ۔ پس خدا کی بادشاہت کے اس اصل نے ہر قسم کی درجہ بندی تفریق  اور تمیز  کو مٹادیا۔ اور جس بات کو اشتراکیت  نے آج جبر اور تشدد کے ذریعہ حاصل کیا ہے دوہزار سال ہوئے ، کلمتہ الله نے محبت کے زرین اصل کے ذریعہ اس کو حاصل کرنے کا راستہ دکھادیا تھا۔

          محبت کا اصل خودی کا عین نقیض ہے ۔ محبت اور خودی اجتماع  الضدین ہیں۔ جہاں محبت ہے وہاں خودی نہیں ہوسکتی ۔ کیونکہ محبت کا جوہر خود انکاری اور ایثار نفسی  ہے ۔ اسی طرح طمع  اور محبت  دونوں ایک دوسرے سے بیگانہ ہیں کلمتہ الله نے سرمایہ داروں کو فرمایاکہ " کوئی شخص  دو مالکوں کی خدمت نہیں کرسکتا ۔ کیونکہ یا تو وہ ایک سے عداوت رکھیگا ۔ اور دوسرے سے محبت  ، اور یاایک سے ملارہیگا۔ اور دوسرے کو ناچیز جانے گا۔ تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کرسکتے۔" (حضرت متی رکوع 6 آیت 24)۔ ابن الله  نے طامع  لوگوں کو فرمایا: خبردار ہر طرح کے لالچ  سے اپنے آپ کو بچائے رکھو کیونکہ کسی کی زندگی اس کے مال کی کثرت پر موقوف نہیں (حضرت لوقا رکوع 12 آیت 15)کلمتہ الله کی نگاہ میں طمع گناہ کبیرہ میں سے تھا۔ چنانچہ انجیل مقدس میں وارد ہوا ہے کہ " لالچ بت پرستی کے برابر ہے ۔" (خط کلسیوں رکوع 3 آیت 5)یہی وجہ تھی کہ مالدار اور سرمایہ دار اشخاص کلمتہ الله اور آپ کے حوارئین سے کنارہ کش رہتے تھے۔

(6)

          پس کلمتہ الله کی تعلیم کے مطابق  خدا کی بادشاہت  کی بنیاد کسی ایسے اصل پر مبنی نہیں ہوسکتی ۔ جس کاتعلق خودی اور طمع  کے ساتھ ہو۔ پس اس بادشاہت کے اقتصادی  نظام اور اصول تقابل  اور (Competition)پر قائم نہیں ہوسکتے ۔ بلکہ صرف کوآپریشن موالات اور محبت  کے اصول پر  ہی قائم ہوسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

          ایسا کوآپریشن اشتراکیت  کی طرح جبر وتشدد قتل، وخون کے ذریعہ معرض وجود میں نہیں آسکتا۔ بلکہ الہیٰ ، محبت ، اخوت، اورمساوات  اس بادشاہت کی سیاسیات  اور اقتصادیات  کی محرک  اوربنیاد ہیں۔ پس خدا کی بادشاہت  کے تصور میں  وہ عنصر جو اشتراکیت  کا روشن پہلو ہے ۔ بطرز احسن  موجود ہے۔اور وہ تمام عناصر جو اشتراکیت پر بدنما دھبے ہیں۔ اس تصور سے نکیتہً غائب ہیں۔ اس بادشاہت  میں ملوکیت  اور اشتراکیت  کے بدترین عناصر  یعنی جوروظلم، تعدی اور استبداد  ،عقوبت وتعذیب ، جدال وقتال کو دخل نہیں، کیونکہ اس کی اقتصادیات ،محبت ، وشفقت ، ہمدردی  اور رحم ،حق  اور عدل ،فروتنی انکساری اور خلق  خدا کی خدمت پر قائم ہیں۔ پس اس بادشاہت  کے ممبروں  پر عداوت اور نزاع ۔ کینہ اور حسد، غصہ اور شقاق بغض، اور قتل ،مستی اور لہو ولعب ممنوع اور حرام ہیں۔ کیونکہ یہ سب باتیں  اس کے اصول کے خلاف ہیں۔ کیونکہ  محبت اور خوشی اطمینان اور تحمل، نیکی اور ایمانداری ۔تواضع اور پرہیزگاری اس بادشاہت کے اصول کے عملی نتائج ہیں(خط گلتیوں رکوع 5 آیت 19وغیرہ)۔

          پس کلمتہ الله نے خدا کی بادشاہت  کے قوانین کو ایک جامع اصل محبت  کے ماتحت کردیا۔ اور مسیحیت  نے اپنے اقتصادی لائحہ عمل کو اس جامع  اصل کے ماتحت مرتب کیا ہے ۔ اگر ہم اپنے ابنائے  جنس سے اپنے برابر محبت  کریں گے۔تو افلاس  اور غریبی کا خود بخود قلع قمع ہوجائے گا۔ چنانچہ عبرانیوں  کی انجیل میں ایک واقعہ کاذکر ہے جو انجیل متی پر مبنی ہے کہ "ایک دولتمند  نے جناب مسیح کو کہا "اے آقا میں کیا کروں کہ زندگی حاصل کروں۔" آپ نے جواب دیا "میاں شریعت اور صحائف انبیاء پر عمل  کر۔" اس نے کہا کہ "ان سب پر میں نے عمل کیا ہے۔ " آپ نے جواب دیاکہ " جا جو کچھ تیرا ہے بیچ کر غریبوں کو دے ۔ اور آکر میرے پیچھے ہولے ۔" اس پروہ سرمایہ دار برہم ہوگیا۔ کیونکہ یہ بات اس کی طبع پر ناگوار گذری ۔ جناب مسیح نے اس کو کہا ۔ تو کس طرح  کہہ سکتا ہے کہ میں نے شریعت اور صحائف انبیا پر عمل کیا ہے۔ درآنحالیکہ شریعت میں لکھا ہے کہ اپنے ابنائے جنس  سے اپنی مانند محبت رکھ۔ دیکھ تیرے  بہت سے بھائی  جو آل ابراہیم ہیں چیتھڑوں  میں زندگی  بسر کررہے ہیں۔ اور بھوکوں مررہے ہیں ۔ اور تیرا گھر مال ، اسباب اور سامان خوردونوش سے بھرا پڑا ہے۔ اور اس میں سے کچھ نہیں نکلتا۔"

(7)

          جب ابن الله معبوث ہوئے۔ اور آپ نے خلق خدا کو نجات کا پیغام دینا شروع کیا۔ تو ابتدا ہی  میں پہلی بات جو آپ نے کی وہ یہ تھی ۔کہ آپ نے خدا کی بادشاہت  کا پروگرام مرتب کیا۔ اور مرتے دم تک آپ اس لائحہ عمل پر کار فرما رہے ۔ آپ نے سبت کے روزجب خلق  خدا ناصرت کے عبادت خانہ میں جمع تھی۔ بھرے مجمع میں کھڑے ہوکر اپنی زبان معجز بیان سے فرمایا: خدا نے  مجھے مسح کیا ہے ۔ تاکہ غریبوں کو جن کو دولتمندوں نے پاؤ ں تلے  روند رکھا ہے ۔ خوشخبری دوں۔ ان کو جو مجلسی اور سیاسی قیود کی زنجیزوں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ رستگاری  بخشوں ۔ ان کو جن کے بدن چور  اور شکستہ ہیں۔ اور جن کے ماحول ناگفتہ بہ ہیں۔ شفا اور طاقت دوں کچلے ہوؤں کو آزاد کروں۔ اور سب کو خدا کی بادشاہت  کی بشارت دوں۔"(حضرت لوقا رکوع 4)۔ اس پروگرام کاپہلا قدم غریبوں اور مفلسوں سے متعلق تھا۔ اور آپ نے ببانگ  بلند فرمایا کہ " مبارک ہیں وہ جو مفلس ہیں۔ کیونکہ خدا کی بادشاہت  انہیں کی ہے (حضرت متی  رکوع 5)۔ابن الله اس دنیا میں معبوث ہو کر آئے ۔ تاکہ دنیا کی کایا پلٹ دیں۔ اور ایک نیا آسمان اور نئی زمین معرض وجود میں آئے ۔ اور یہ دنیا جو خدا اور اس کے مسیح کی ہوجائے ۔ بالفاظ دیگر خدا کی بادشاہت  موجود ہ دور کی جگہ لے لے ۔ اس مقصد کو مد نظر رکھ کر جناب مسیح  نے اپنا لائحہ عمل تجویز فرمایا۔ تاکہ خدا کی بادشاہت  عالمگیر پیمانہ پر اس دنیا میں ہمیشہ  کےلئے قائم ہوجائے ۔

(8)

          ابن الله نے اس پروگرام کی تفصیل کو تمثیلوں کے ذریعہ دنیا کے ذہن نشین کردیا۔ اور سکھلایا کہ ہر شخص کی آمدنی اس کی ضروریات کے مطابق ہونی چاہیے۔ طوالت کے خوف کی وجہ سے  میں صرف ایک تمثیل  پر اکتفا کرتاہوں۔ آپ نے فرمایاکہ " آسمان کی بادشاہت  اس گھر کے مالک کی مانند ہے جو سویرے نکلا ، تاکہ اپنے انگوری باغ میں مزدور لگائے ۔اور نے مزدوروں سے ایک دینار  روز ٹھہرا کر  ان کو اپنے  باغ میں بھیج دیا۔ پھر پہر دن چڑھے کے قریب  نکل کر اس نے اوروں  کو بازار میں بیکار کھڑے دیکھا۔ اور ان سے کہا " تم بھی باغ میں چلے جاؤ۔ جو واجب ہے کہ تم کو دوں گا ۔" پس وہ چلے گئے ۔ پھر اس نے  دوپہر  اور تیسرے پہرکے قریب نکل کر ویسا ہی کیا۔ اور کوئی گھنٹہ دن رہے پھر نکل کر اوروں کو کھڑے پایا۔ اور ان سے کہا تم کیوں  یہاں تمام دن بیکار کھڑے رہے ؟ انہوں نے اس سے کہا  " اس لئے کہ  کسی نے ہم کو مزدوری پر نہیں لگایا ۔" اس نے ان سے کہا ۔ تم بھی باغ میں چلے جاؤ ۔ جب شام ہوئی تو باغ کے مالک نے اپنے کارندے سے کہا کہ " مزدوروں کو بلا اور پچھلوں سے لے کر پہلوں تک ان کو مزدوری دیدے۔" جب وہ آئے ۔ جو گھنٹہ  بھر دن رہے لگائے گئے تھے۔ تو ان کو ایک ایک دینار  ملا۔ جب پہلے مزدور آئے ۔ تو انہوں نے  یہ سمجھا کہ  ہم کوزیادہ ملیگا لیکن  ان کو بھی ایک ہی دینار ملا۔ تب وہ گھر کے مالک سے یہ کہہ کر  شکایت کرنے لگے کہ ان پچھلوں  نے ایک ہی گھنٹہ کام کیا ہے ۔ اور تونے ان کو ہمارے برابر کردیا۔ جنہوں نے  دن بھر کا بوجھ اٹھایا۔ اور سخت  دھوپ سہی۔" اس نے جواب دیا۔" میاں میں تیرے ساتھ بے انصافی نہیں کرتا۔ کیا تیرا مجھ سے ایک دینار نہیں ٹھہرا تھا؟  جو تیرا ہے اٹھالے اور چلا جا ۔ میری مرضی یہ ہے کہ  جتنا تجھے  دیتا ہوں۔ اس پچھلے کو بھی ا تنا ہی دوں۔ کیا مجھے روا نہیں۔ کہ اپنے مال کے ساتھ جو چاہوں سوکروں؟ (حضرت متی  رکوع 20)۔

          اس تمثیل میں ہم دیکھتے ہیں ۔ کہ مالک کو بیکاروں سے ہمدردی تھی۔ اور اس نے ان کو پوری مزدوری دے دی ۔ کیونکہ اگر وہ  بیکار تھے ۔ تو وہ اپنے کسی قصور کی وجہ سے بیکار نہ تھے۔ بلکہ حض اسلئے بیکار تھے ۔ کہ ان کو کسی نے مزدوری پر نہ لگایاتھا۔ اوربیکاری کے زمانہ  میں ان کی ضروریات  بدستور سابق تھیں۔ اور مالک  نے ان کی ضروریات  کے مطاقب  ان کو مزدوری  دی۔ دوسری بات جو اس تمثیل  سے عیاں ہے وہ یہ ہے کہ  ہر مزدور  کے حقوق  مساویانہ ہیں۔ مالک نے کہا کہ " میری مرضی یہ ہے کہ جتنا تجھے دیتا ہوں ۔ اس پچھلے کو بھی اتنا ہی دوں،" پس خدا کی مرضی یہی ہے کہ اس دنیا کی نعمتوں کی تقسیم میں سب مزدوروں کے حقوق مساویانہ ہوں۔ اور ہر شخص  کو ان کی ضروریات  کے مطابق  انصاف سے بانٹا جائے ۔لیکن جس طرح اس تمثیل  میں دیگر  مزدوروں  نے مالک کی منصفانہ تقسیم پر اعتراض کیا۔ اسی طرح فی زمانہ سرمایہ دار غربا کے حقوق تلف  کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ اور  نہیں چاہتے کہ ان کی حاجتوں اور ضرورتوں کے مطابق  ان کی آمدنی  ہو  ۔لیکن خدا کی مرضی یہ ہے کہ  ہر طرح  کا غیر مساویانہ سلوک جو فطرت  پر مبنی نہیں۔ خدا کی بادشاہت  میں سے خارج کردیا جائے کیونکہ  یہ باتیں موجودہ طرز معاشرت نے سوسائٹی  میں داخل کردی ہیں۔لیکن وہ فطرت کے خلاف ہیں۔ خدا کی بادشاہت  کا طرز  معاشرت ایسا ہے ۔ جس میں ہر انسانی بچے کے لئے جود نیا میں پیدا ہوتا ہے  یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ دوسروں کی طرح  اپنے فطری  قواء کے استعمال سےا علیٰ ترین زینہ پر پہنچ سکے۔ پس خدا کی بادشاہت  میں وہ دیواریں  جو موجودہ سوسائٹی  نے مختلف  انسانوں کے درمیان حائل کر رکھی ہیں۔ مسمار کر دی جائینگی ۔ اور ہر انسان کے بچے کو مساوی موقعہ دیا جائيگا۔ تاکہ اس کے مختلف  فطری قواء مناسب ماحول میں نشوونما پاکر بنی نوع انسان کی ترقی کا موجب بنیں۔

          ایک اور تمثیل کے ذریعہ(حضرت متی رکوع 25)۔کلمتہ الله نے ہم کو یہ سبق سکھلایا ہے کہ جس شخص کو خدا نے اعلیٰ پیمانہ پر فطری قواء عطا کئے ہیں۔ اس سے خدا کی بادشاہت  میں یہ امید کی جائیگی  کہ وہ ان قواء کو اس طور پر استعمال کرے ۔ کہ وہ وقواء خدا کی بادشاہت کے قیام اور اس کے ممبروں کی ترقی  کا باعث ہوں ۔ پس ان دونوں  تمثیلوں سے ہم یہ اخذ کرتے ہیں کہ مسیحیت  کی اقتصادیات  ان دو قوانین پر منحصر ہیں کہ اول مال کی فراوانی کے بہم پہنچانے میں ہر شخص اپنی اپنی  لیاقت کے اندازے کے مطابق  کام کرے ۔ تاکہ نوع انسانی  مرفہ الحال ہوجائے ۔ اور دوم ۔ مال کی تقسیم کے وقت ہر شخص کو اس کی ضروریات کے مطابق  بانٹا جائے ۔ ان اقتصادی قوانین پر عمل کرنے سے اعلیٰ لیاقت کے انسان اپنے قواء کو اپنی ذاتی  اغراض  اور منفعت  کی تحصیل  کی خاطر  استعمال نہیں کریں گے ۔ بلکہ ان کے قواء نوع انسانی کی ترقی اور خوشحالی کے لئے  استعمال ہوں گے  بلکہ ان کے قواء  نوع انسانی کی ترقی اور خوشحالی  کے لئے  استعمال ہوں گے ۔ خدا کی بادشاہت  میں اعلیٰ  لیاقت کا شخص  سیم وزر میں اور ادنیٰ لیاقت کا شخص خاک وخاشاک میں لیٹتا  نظر نہیں آئیگا۔ بلکہ اعلیٰ  اور ادنیٰ  لیاقت  کے انسان اپنی اپنی قابلیتوں کو بنی نوع انسان کی مرفہ الحال میں خرچ کریں گے ۔ تاکہ ان لیاقتوں کے مجموعی نتائج اور ثمرات  سے ہر شخص کا گھر پھلے اور پھولے۔

(9)

          تاریخ کلیسیا  میں ایسا زمانہ بھی گزراہے جب خدا کی بادشاہت  کے مذکورہ  بالا اقتصادی  اصولوں  پر عمل بھی کیا گیا۔ اور اس تجربہ نے  یہ ثابت کردیا ۔ کہ  یہ اصول  محض کتابی اصول ہی نہیں  بلکہ وہ عملی  اصول بھی ہیں ۔ چنانچہ جب ابن الله نے اس دنیا سے صعود فرمایا۔ تو انجیل جلیل میں لکھا ہے کہ  "سب ایماندار  ایک جگہ رہتے تھے اور ساری  چیزوں  میں شریک تھے۔ اور اپنی جائیداد  او راملاک  وموال کو فروخت  کرکے ہر ایک کی ضرورت کے موافق  تقسیم کردیا کرتے تھے۔اور ہر  روز یکدل  ہوکر جمع ہوا کرتے تھے اور خدا کی حمد کرتے تھے اور سب لوگوں کو عزیز تھے۔اور مومنین کی جماعت ایک دل اور ایک جان تھی۔ یہاں تک کہ کوئی شخص بھی اپنے مال کو اپنی ملکیت نہ سمجھتا تھا۔ بلکہ ان کی سب  چیزیں مشترک تھیں۔ اور ان سب پر فیض عظیم تھا۔ کیونکہ  اس گروہ میں سے ایک شخص محتاج نہ تھا۔اس لئے کہ جو سرمایہ دار زمینوں  یاگھروں کے مالک تھے۔ وہ ان کو بیچ بیچ  کر فروخت  کردہ چیزوں  کی قیمت  لاکر رسولو ں کے قدموں میں ڈال دیتے تھے۔ پھر ہر ایک کو اس کی ضرورت اور احتیاج  کے مطابق  بانٹ دیا جاتا تھا (اعمال الرسل رکوع 2 اور رکوع 4)۔

          یہ اشتراکیت  مسیحی اصول اقتصادیات  کا نتیجہ تھی۔لیکن ا س قسم کی اشتراکیت  میں اور روسی  اشتراکیت  میں بعد المشرقین ہے ۔کیونکہ  اول۔ اس اشتراکیت  کی بنیاد  مادیت، دہریت اور الحاد  کی بجائے  روحانیت  اور خدا کی محبت پر قائم تھی۔ دوم۔ یہ اشتراکیت  انسانی محبت پر  مبنی تھی نہ کہ جبر  اور تشدد  پر ،کسی  شخص کو مجبور نہیں کیا جاتا تھا۔ کہ وہ اپنے املاک وموال کو فروخت  کرکے  ہر ایک  کی ضرورت کے مطابق  سب میں تقسیم کردے ۔ سوم۔ اس اشتراکیت  کے قیام  کا طریقہ  یہ نہیں تھا۔کہ سرمایہ داروں کے خلاف منافرت کےجذبات  مشتعل کئے جائیں۔ تاکہ مزدوروں کی جماعت  اور سرمایہ داروں کے طبقہ  میں تصادم اور جنگ اشتراکیت  کا پیش خیمہ ہوں۔ بلکہ سرمایہ داروں  نے ازراہ محبت  اپنے بھائیوں  کی حاجتوں  کو رفع کرنے کے لئے  خود بخوشی  خاطر اپنا مال واسباب فروخت کرکے سب چیزوں کو مشترک بنادیا تھا ۔

          اس قسم کی اشتراکیت  اوائل  مسیحی صدیوں میں قائم رہی۔ چنانچہ برنباس  کے خط (70تا 110ء) میں ہے ۔ تو اپنی تمام چیزیں اپنےہم جنسوں  کے ساتھ مشترک رکھ اور اپنے کسی مال کو اپنی  ذاتی ملکیت  نہ سمجھ۔ جسٹن شہید اور ٹرٹولین (110ء تا 180ء) غیر مسیحی بت پرست سرمایہ داروں  کو کہتے ہیں کہ  ہم مسیحی سب چیزوں کو مشرک رکھتے ہیں۔ پطرس  کے موعظت  (دوسری صدی) میں  مرقوم ہے کہ  " اے سرمایہ داروں ! یاد رکھو، کہ تمہارا فرض ہے کہ دوسروں کی خدمت کرو۔ کیونکہ  تمہارے پاس تمہاری ضروریات  سے کہیں زیادہ چیزيں موجود ہیں۔ یاد رکھو کہ جو چیزيں  تمہارے پاس فراوانی  سے موجود ہیں۔ وہ دوسروں کے پاس نہیں ہیں۔ پس وہ چیزیں  ان کو دیدو۔ کیونکہ  ان کا حق  رکھنا تمہارے لئے شرم کا باعث ہے ۔ خدا کے انصاف اور محبت  کی پیروی کرو۔ تو تمہاری  جماعت  میں ایک شخص بھی محتاج نہیں رہیگا۔" چوتھی صدی میں مقدس آگسٹین  کہتا ہے کہ " ذاتی ملکیت  رکھنا۔ ایک غیر فطرتی حرکت ہے ۔ کیونکہ اس کی وجہ سے دنیا میں حسد ، کینہ ، بغض، عناد، جنگ وجدال ،گناہ اور کشت  وخون واقع ہوتے ہیں۔" بشپ کلیمنس اول کہتا ہے کہ "تمام دنیاوی  چیزيں  سب کے استعمال کے لئے مشترک ہونی چاہئیں ۔ کسی کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ یہ شے میری ہے ۔ وہ چیزتیری ہے اور فلاں چیز اس کی ہے ۔کیونکہ اسی سے انسانوں میں جدائیاں  اور عدواتیں پڑتی ہیں۔"

(10)

          پس پاکستان کی پیچیدہ مالی مشکلات اور گنجیدہ اقتصادی مسائل کو سلجھانے کا واحد ذریعہ مسیحیت کے بانی کے پاس ہے ۔ کلمتہ الله نے خدا کی بادشاہت کے تصور کے ذریعہ  ایک ایسا لائحہ عمل  پاکستان کے سامنے پیش کردیا ہے ۔ جس کا اصل الاصول محبت ہے ۔ اور اس کی علت غائی  یہ ہے کہ  ہر قسم کی خودی اور طمع  کا استیصال کردیا جائے تاکہ ان کی بجائے ایثار نفسی او رہمدردی  ،حق اور عدل کا بول بالا ہو۔ اور ہر طرح  کی درجہ بندی تفریق  اور تمیز  کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکا جائے۔تاکہ ان کی جگہ محبت اخوت اور مساوات  قائم ہوں۔ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے  مسیحیت  کے پاس  محرکات  بھی موجود ہیں۔ اس بادشاہت  کا لائحہ عمل  اس بنا پر مرتب کیا گیا ہے کہ ہر شخص کوآپریشن (امداد باہمی) کے اصولوں کے ماتحت  اپنی لیاقت  کے اندازه کے مطابق کام کرے۔ تاکہ نوع انسانی  مرفہ الحال ہوجائے اور ہر ایک شخص کے لئے  اس کی حاجتوں کے مطابق  ضروریات  زندگی  مہیاہوسکیں۔ اور اس دنیا میں کوئی فرد بشر محتاج نہ رہے ۔ اور موجودہ معاشرت کی جگہ خدا کی بادشاہت قائم ہوجائے  ۔ جس کی نسبت ہر شخص کہہ سکے کہ ۔

ایں زمیں را آسمانے دیگر است

 

 

Posted in: مسیحی تعلیمات, یسوع ألمسیح | Tags: | Comments (0) | View Count: (9360)

Post a Comment

English Blog