en-USur-PK
  |  
14

عظیم کون ہے؟ مسیح ناصری یا محمد عربی

posted on
عظیم کون ہے؟ مسیح ناصری یا محمد عربی

 

عظیم کون ہے؟

مسیح ناصری یا محمد عربی

Who is the Unique?

Jesus of Nazareth or Muhammad of Arabia

A Question that Demands an Answer!

ایک سوال جوآپ سے، جواب کا تقصاضہ کرتاہے!

ایک حقیقی گفتگو کا خلاصہ

تعارف

آج کے تیز اور ترقی یافتہ زمانہ میں جبکہ ہوائی سفر نے دُور دراز کے براعظموں کو قریب تر کردیا ہے ۔ بہت سے لوگ ایک سے دوسرے ملک کا سفربآسانی کرسکتے ہیں۔ اب تویہ کرہ ارض ایک گاؤں سے بن گیا ہے۔ روز مرہ کتابوں کی اشاعت ، ٹیلی وژن  اور ریڈیو پر وگراموں نے سب کے ذہنوں پر اثر کیا ہے ، جوکبھی کبھار مایوسی اور ذہنی الجھن کا سبب بھی ہے۔ یہ دنیا ہر قسم کے مسائل کا شکار ہے۔ مگر ناقابلِ یقین ٹیکنالوجی میں ترقی کے باوجود ایک قدیم سوال بدستور موجود ہے۔ حقیقی سچائی کیا ہے؟ اگرہم ایک دوسرے کی سنیں توہم اپنی نظر کے دائرہ افق کووسیع کرسکتے اورمات کردینے والے سوال کا جواب تلاش کرسکتے ہیں۔

۱۔خیالات کوچونکادینے والا سوال

          ایک عرب ریاست میں ایک مومن کو اجازت ملی کہ وہ قید خانہ میں قیدیوں سے ملاقات کرسکتا،جہاں اُس نے جرائم پیشہ قیدیوں کو حقیقی راہِ زندگی بیان کی۔اُسکے پاس اُن قیدیوں سے ملاقات کرنے کے لئے سرکاری اجازت نامہ تھا، جوخدائی امن اور سچائی کا پیغام سننے کے خواہشمند تھے۔ جس سے اُن کے دلوں میں پاکیزگی آتی اور ذہن تبدیل ہوجاتے۔ اس مومن کوکسی نگران کے بغیر (اسکے اصرار پر کہ اسکی نگرانی نہ کی جائے ) آزادی سے قیدیوں کے کمرہ میں داخل ہونے کی اجازت ملی۔اُسے یقین تھاکہ بغیر نگرانی کے قیدی اپنے آپ کو اس مخلصانہ بات چیت میں آزادی محسوس کریں گے ۔ خدا کا یہ بندہ دلیری سے قیدیوں کے کمروں میں داخل ہوکر تنہائی میں اُن کے ساتھ بیٹھ سکتا۔ ایک بار وہ ایک ایسے کمرے میں داخل ہوا جو خطرناک پیشہ ورانہ  مجرموں سے بھرا ہوا تھا جنہیں زیادہ مدت کی قید تھی۔ وہ اس بندہ خدا کی گزشتہ ملاقاتوں اوراُس کے پیغام کوسننے کے عادی تھے۔ اُسکی ملاقات کے بعد وہ دنوں تک بڑے جوش کے ساتھ اُسکے مسیحی پیغام پر بحث کرتے رہتے۔ اس بار ملاقات کے موقع پر، اُنہوں نے اچانک دروازہ بند کردیا اور کہنے لگے ،" کہ ہم آپ کو جانے کی اجازت نہیں دیں گے جب تک آپ ایمانداری اور سچائی سے ہمارے سوال کا جواب نہیں دیتے"۔ اُس نے جواب دیا" میں رضاکارانہ بغیر کسی مسلح نگران کے آپ کے پاس آیا ہوں"۔ میں پروردگار کے کلام کے مطابق جو میرے علم میں ہے ، آپ کے سوال کا جواب دینے کو تیار ہوں۔ اورجومیرے علم میں نہیں، اُس کا جواب دینے سے قاصر ہوں"۔ اُنہوں نے اُس سے کہا " ہم آپ سے کائنات  کے پوشیدہ راز نہیں پوچھتے ، ہم آپ کو دیانتدار آدمی سمجھتے ہوئے صرف یہ پوچھتے ہیں کہ آپ ہمیں اس فرق کا واضع جواب دیں ، جس نے ہمیں جھنجھوڑا ہے کہ :

سیدنا عیسیٰ ناصری عظیم ہیں یامحمد عربی

جب اس خدا کے بندہ نے یہ سوال سنا، تووہ کچھ وقت کے لئے رُکا اور گہری سانس لی، اوراپنے آپ سے مخاطب  ہوا": اگرمیں کہوں کہ محمد بڑا ہے ، تومسیحی قیدی مخالفت کے ساتھ مجھ پر حملہ آور ہونگے۔اور اگر میں کہوں کہ سیدنا مسیح بڑے ہیں تومسلم قیدی مجھے ہلاک کرنے کی کوشش کریں گے"۔ وہ جانتا تھا کہ محمد ﷺ کے خلاف کسی قسم کی گستاخی یا توہین آمیز لفظ موت کا سبب ہے۔ خدا کے اس بندہ نے اپنے دل میں دُعا کی کہ رب العالمین ان قیدیوں کو معقول جواب دینے کے لئے حکمت عطا کرے۔ اور جب وہ اکیلا قیدیوں کے درمیان کھڑا ہوا تو خدا کی پاک روح نے اس مسیحی خادم کی راہنمائی کی، کہ وہ بند دروازے کے پیچھے، حلیمی اور سچائی اور اختیار اور الہٰی قدرت و حکمت کے ساتھ صاف اور واضع ،برحق جواب دے سکتا۔

جب خدا کے اس بندہ کا جواب جلد نہ ملا کہ وہ خاموشی میں دُعا کررہا تھا ، تب قیدیوں نے اس سے اصرار کیا:" کہ آپ اپنی ذمہ داری سے رُوپوش نہ ہوں۔ بزدلی کا مظاہرہ نہ کیجئے ۔ ہمیں سچائی بیان کریں۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آپ جوبھی کہیں گے، آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ آپ ہم سے جھوٹ نہیں بولیں ، اوراس مضمون کے مطابق اپنے اندرونی خیالات پوشیدہ نہ رکھیں۔ہمیں تمام حقیقت سے آگاہ کریں"۔ تب خدا کے اس بندے نے جواب دیا" میں آپ کو درست حقائق بتانے کے لئے تیار ہوں۔اور سوال جس کا مجھے سامنا ہے ، وہ آج کے پیغام میں نہیں جومیں نے تیار کیا ہے۔ لیکن اگرآپ نے مسیح اور محمد کے درمیان فرق کی بابت سننے کا فیصلہ کرہی لیا ہے ، تومیں اپنی دلی حقیقت  کو پوشیدہ نہیں رکھوں گا۔ہر طرح سے آپ کو سمجھنا چاہیئے کہ اُن منفی نتائج کا جو آج کی مذہبی گفتگو کے ہوسکتے ہیں ، اُن کا میں ذمہ دار نہیں ہوں۔ اورجس سوال کا جواب طلبی آپ چاہتے ہیں وہ میں نے نہ تواٹھایاہے اورنہ ہی بیان کیا ہے ۔ بلکہ یہ سوال آپ کی طرف سے ہے اور آپ خود اُس کے جواب کے بھی ذمہ دار ہیں"۔

خدا کے اس بندے نے بات کو جاری رکھا" میں خود تونہیں کہوں گا کہ عظیم کون ہے۔ یہ فیصلہ میں قرآن اور اسلامی روایات پر چھوڑتا ہوں کیونکہ ان کتب میں پہلے ہی سے فیصلہ کن اور قائل کرنے والا جواب موجود ہے۔ آپ اس پوشیدہ حقیقت کے متعلق جوقرآن میں ہے، غور کرسکتے ہیں اور آسمانی سچائی اور خدا کا کلام ہی آپ کو رجوع لانے کے لئے حکمت، قائلیت ،فضل عطا کرے گا"۔

۲۔سیدناعیسیٰ سلام وعلینہ اور محمد ﷺ کی پیدائش

                        یہ ایک عام فہم کی بات ہے کہ محمدﷺ کے والد کا نام عبداللہ اور والدہ کا نام آمنہ بی بی تھا۔ محمدﷺ ایک عام سے انسان تھے جنکی پیدائش جانے پہچانے والد اور والدہ سے اُن کی  باہمی (نفس کی شہوت پرستی کے تحت ، آپس کی بے حرمتی کی حالت میں ) ہوئی۔ نہ توقرآن شریف اورنہ ہی کوئی اسلامی فلسفہ  دان دعویٰ کرتاہے کہ محمدﷺ کی پیدائش مافوق الفطرت (فطرت سے بالا) طورپر ہوئی۔ محمدﷺ کی پیدائش کا نہ توکسی فرشتہ نے اعلان کیا اورنہ ہی محمدﷺ خدا تعالیٰ کے کلام کی قدرت سے پیدا ہوئے۔محمدﷺ کی پیدائش ہم سب عام انسانوں کی طرح ، انسانی والدہ اور زمینی انسانی والد سے تھی۔ جس کو اسلام کے مطابق شیطان نے بھی چھوکر ناپاک کیا۔ مگر سیدنا عیسیٰ مسیح ناصری کے لئے قرآن شریف میں یہ متعدد بار آیا ہے کہ مسیح کی پیدائش عام انسانوں کی طرح ، فطرتی نہیں تھی جیسے کہ ہم ہیں۔ سیدنا مسیح کا باپ انسانی نہیں تھا بلکہ روحانی ۔ سیدنا مسیح کا جنم ، انسانی والد کے جسمانی /شہوانی/بدنی بے حرمتی کے تعلق کے بغیر، ایک کنواری مریم سے ہوئے ۔ جب خدا تعالیٰ  نے اپنی روح کا دم بی بی مریم بتولہ میں پھونکا۔اس طرح سیدنا مسیح کی شخصیت منفر ہوجاتی ہے۔ تمام دنیا میں سیدنا مسیح ہی کی واحد شخصیت ہے جو خدا کے اپنے ہی پاک کلام اورخدا کی اپنی ہی پاک روح سے برائے راست پیدا ہوئی، جس کو شیطان نہ چھو سکا ، کہ سیدنا مسیح اپنی ذات میں ہی  کلمتہ اللہ اور روح اللہ ہیں ۔

إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ (سورہ النسا ء آیت 171)

ترجمہ:  حقیقت یہ ہے کہ   یعنی عیسیٰ ابن مریم کے بیٹے ، خدا کا ایلچی ، رسول، اور خدا کا کلمہ  بشارت ہیں جو اُس نے مریم کی طرف بھیجا اوراُسکی طرف سے ایک روح ہیں"۔

فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا(سورہ انبیاء آیت ۹۱)

                        ترجمہ: ہم (خدا) نے اُس (مریم کے بطن / رحم) میں اپنی روح پھونک دی۔

فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا(سورہ التحریم آیت ۱۲)

ترجمہ:ہم(خدا) نے اُس (مریم) کے (رحم کے ) اندر (عیسیٰ مسیح کی صورت میں ) اپنی روح پھونک دی۔

سیدنا مسیح محض ایک عام انسان نہیں ہیں، بلکہ الہٰی روح ہیں، جو مجسم ہوئی یعنی انسانی جسم لیا، یعنی خدا کی اپنی ہی پاک روح نے انسانی رُوپ لے لیا۔ اس طرح وہ (سیدنا مسیح) کنواری مریم بتولہ سے خدا کی روح کی قدرت کے وسیلہ سے پیدا ہوئے۔ اس کے برعکس ، محمد ﷺ تمام بنی نوع انسان کی طرح زمینی اورجسمانی ماں اور والد کے گنہگار زمینی جسم کے ارادہ ، رغبت اور تعلق سے ، مرد وعورت کی شہوت وباہمی بے حرمتی کی حالت میں پیدا ہوئے۔ افسوس !محمدﷺ خدا کی پاک روح سے پیدا نہ ہوسکے۔ 

۳۔ سیدنا عیسیٰ ناصری سلام وعلینہ اور

محمد عربی ﷺ کے الہامی وعدے

                        اُن الہامی وعدوں کو جو بی بی مریم بتولہ کو ، سیدنا مسیح (ابن مریم) ، (ابن آدم)  (روحِ خدا ، کلمہ خدا) کے متعلق ملے، ہم قرآن شریف ہی سے پڑھیں گے :

يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ(سورہ آل عمران آیت ۴۵)۔

ترجمہ:اے مریم !خدا تم کو اپنی طرف سے ایک کلام (کلمتہ اللہ ) کی خوشخبری دیتاہے۔ جس کا نام مسیح ، عیسی ابن مریم ہوگا، اُسکی اس دنیا اور آنے والی دنیا میں سب سے زیادہ عزت اور تعظیم ہوگی اور وہ (مسیح) ان (انبیاء) میں صرف ایک ہوگا۔ جوخدا کے نزدیک لائے گئے ہوں گے"۔

          قادر مطلق خدا نے بذاتِ  خود مریم کومسیح کی پیدائش کے متعلق بشارت اور آگاہی دی اور "اپنا کلام"  کہہ کر پکارا۔ تمام انبیاء  نے خدا کے کلام کوسنا اور دیانتداری سے صحیفوں میں لکھا۔ لیکن سیدنا مسیح نے نہ صرف الہامی کلام کوسُنا بلکہ مسیح توخود ، الہامی کلام تھے ۔ جومجسم ہوا (انسانی جسم لیا) کیونکہ الوہیت (خدا کی خدائی ) کی ساری معموری اُسی ( مسیح) میں مجسم ہوکر سکونت کرتی، جس (مسیح) میں تخلیق ، شفا  ،معافی اور تجدید کی قدرت ہے۔ اسی لاثانی  حقیقت کے پیشِ نظر خدا نے خود مریم کو مسیح کی پیدائش  کی آگاہی دیا اور اس عظیم  معجزے (رُوحِ خدا اور کلمتہ اللہ  خدا کی پیدائش ) کی حقیقت  کو ثابت اور مستحکم کیا۔

          ہم قرآن شریف میں یہ کہیں بھی نہیں پڑھ سکتے کہ محمد ﷺ کی پیدائش خدا کے الہامی کلام سے ہوئی ۔ محمدﷺ نے اللہ تعالیٰ( بائبل کی روح سے کسی نامعلوم خدا ) کا کلام (کسی ؟) فرشتہ کی معرفت  سنا اور وہی اپنے مریدوں کو سنادیا۔ خدا نے آمنہ بی بی  کوبھی محمدﷺ  کی پیدائش کی بشارت نہ دی، اورنہ ہی خدا کی روح، آمنہ بی بی میں پھونکی گئی۔ اسکے برعکس  خدا کے فرشتہ  جبرائیل (آمین روح)  نے مریم سے روبرو کلام کیا، جو (فرشتہ) خدا کی طرف سے بڑی شفقت  کے ساتھ ، روح  القدس کی قدرت کے کام کو، جو اُس (مریم) میں ہونے والا تھا ، بیان کرنے کے لئے بھیجا گیا۔ صرف  بی بی مریم بتولہ ہی  کو تمام عورتوں میں سے چنا گیا ہے۔ (آمنہ بی بی، غلام احمد مرزا، یا بہاء اللہ کی والدہ کوہر گز نہیں )۔ جیساکہ قرآن شریف میں درج ہے:

يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ (سورہ عمران آیت 42)

ترجمہ: اے مریم ! خدا نے (صرف) تم کو چنا ، اورپاکیزہ کیا ہے، خدا نے تجھے (مریم کو) جہان کی تمام عورتوں میں منتخب کیا ہے"۔

                        بی بی مریم بتولہ کا نام قرآن شریف میں ۳۴ میں بار دھرایا گیاہے! مگر اس کے برعکس محمدﷺ کی والدہ ،آمنہ بی بی کا نام قرآن شریف میں کسی ایک جگہ بھی بیان نہیں کیا گیا ہے۔ایک دفعہ بھی نہیں! جب محمدﷺ نے اپنی والدہ کے انتقال کے بعد آمنہ بی بی کے گناہوں کے لئے خدا سے معافی کی درخواست کرنا چاہی، تواللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو ایسا کرنے سے بھی روک دیا تھا۔ جس پر محمدﷺ زار وقطار روئے تھے۔ سیدنا مسیح نے اپنی والدہ ماجدہ مریم بتولہ کےگناہوں کیک معافی کی کبھی دعا نہ کی جس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ بی بی مریم بتولہ ،بی بی آمنہ کی طرح گنہگار نہ تھیں۔

۴ ۔ سیدنا عیسیٰ مسیح ناصری سلام وعلینہ کی اور

محمد ﷺ کی راستبازی

کہا جاتاہے کہ جب حضرت محمدﷺ بچے ہی تھے تب دو فرشتوں نے  آکر محمدﷺ کے (گندے اورناپاک) دل کو پاک صاف کرنے کی کوشش کی۔

          (اگرمحمدﷺ کا  دل پیدائش ہی سے پاک اور بے گناہ ہوتا، تو محمدﷺ کےدل کو، فرشتوں کےآپریشن کے ذریعہ پاک کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی؟ کیا اس سے یہ ثابت  نہیں ہوتاکہ محمدﷺ بھی آدم اور حوا کے باغِ عدن کے گمراہی کے گناہ کے باعث گنہگار تھے؟ کیا اسی طرح آج میرا(قاری کا دل) پہلے آدم کی نافرمانی کے گناہ کے باعث ناپاک اور گنہگار نہیں؟ کیا مجھے آج بھی اپنے ناپاک دل کو پاک کرنے کےآپریشن کی ضرورت نہیں؟ مگر آج تک کسی مسلمان کے دل کو کسی فرشتہ نے پاک کرنے کا آپریشن نہیں کیا۔ آج میرے دل کو کون پاک کرسکتاہے؟ ہاں صرف سیدنا عیسیٰ مسیح جو پاک دل ہیں  جوروحِ خدا ہیں، جو خدا کا کلمہ یعنی کلام خدا ہیں۔ مسیح اس قابل ہیں کہ آپ کی زندگی میں گناہ، گناہ کے احساس کی شرمندگی ، اور گناہ کے باعث ابدی موت کے اثر کو تمام کرکے ، مجھ کو آپ (قاری کو) اورتمام انسانیت کو نیا دل  اور نئی روح عطا کریں ۔ اگرہم ایمان سے خدا باپ آسمانی سے سیدنا مسیح کے نام میں اپنے اپنے گناہوں کی معافی  مانگ کر خدا سے نئے دل اور نئی روح کی دعا کریں۔ کیونکہ سیدنا مسیح نے پاک انجیل شریف میں فرمایاکہ پرانی چیزیں  (پرانی ا نسانیت) جاتی رہیں، اور دیکھو ! میں (مسیح) سب کچھ نیا بنادیتا ہوں ۔ حضرت داؤد نے اپنے (زناکاری اور قتل کے) گناہ کی حالت میں خدائے پاک کے حضور میں پاک دل کے لئے اورگناہوں سے توبہ کرتے یوں دعا مانگی تھی!

          "اے خدا ! اپنی شفقت کے مطابق مجھ پر رحم کر، اپنی رحمت کی کثرت کےمطابق میری خطائیں  مٹادے۔ میری بدی کو مجھ سے  دھو ڈال اور میرے گناہ سے مجھے پاک کر۔ کیونکہ میں اپنی خطاؤں کو مانتاہوں اور میرا گناہ ہمیشہ میرے سامنے ہے(اے خدا) میں نے فقط تیرا ہی گناہ کیا ہے اور وہ کام کیا جو تیری نظر میں بُرا ہے۔ تاکہ تواپنی باتوں میں راست ٹھہرے اور اپنی عدالت میں بے عیب رہے۔ دیکھ! میں (انسان) نے بدی میں صورت پکڑی اور میں گناہ(مرد اور عورت کی بے حرمتی کی) کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑا ۔ دیکھ توباطن کی سچائی کو پسند کرتا ہے اورباطن ہی میں مجھے دانائی سیکھائے گا۔ زوفے سے مجھے صاف کر تو میں پاک ہوں گا۔ مجھے دھو اور میں برف سے زیادہ سفید ہوگا۔ مجھے خوشی اور خُرمی کی خبر سنا ، تاکہ وہ ہڈیاں جو تونے توڑ  ڈالی ہیں شادمان ہوں۔ میرے گناہوں کی طرف سے اپنامنہ پھیرلے اورمیری سب بدکاری مٹاڈال۔ اے خدا!میرے اندر پاک دل پیدا کر اورمیرے باطن میں ازسر نومستقیم روح ڈال۔ مجھے اپنے حضور سے خارج نہ کر اوراپنی پاک روح(روح اللہ ) کے مجھ سے جدا نہ کر۔ اپنی نجات کی شادمانی مجھے پھر عنایت کر اور مستعدروح سے مجھے سنبھال ۔ تب میں خطاکاروں کو تیری راہیں سکھاؤں گا اورگنہگار تیری طرف رجوع کریں گے۔ اے خدا ! اے میری نجات بخش خدا! مجھے (زنا اور ) خون کے جُرم سے چھڑا۔۔۔۔۔(احساسِ جرم، گناہوں سے ندامت اور شرمندگی اور توبہ کی حاجت کے باعث)۔۔۔۔شکستہ روح ، خدا (حضور معقول) قربانی ہے۔ زبور شریف رکوع ۵۱۔

          یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ انسان میں ندامت اور پچھتا وا کی حالت کیسی ہونی چاہیے ۔ کس طرح ہر انسان ، مرد اور عورت کی باہمی بے حرمتی کی حالت میں ، گناہ آلودہ طریقہ سے پیدا ہوتا اورپھر یہ کہ انسان کوکیسے اپنے گناہوں کا اقرار کرکے اپنے گناہوں سے توبہ کرناچاہیے ۔ یہاں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں  کہ خدا ، دلوں کو کیسے پاک اور صاف کرتاہے(خدا نے کسی فرشتہ کے وسیلہ آپریشن سے اپنے سچے نبی حضرت داؤد  کے دل کو صاف نہیں کیا، بلکہ خدا ، اپنے کلام (کلمتہ اللہ ) اوراپنی روح ۔۔۔۔(روح اللہ ) سے دلوں کو پاک اور صاف کرتا اورنیا بنادیتا ہے۔۔۔۔

          مسلمان علماء محمدﷺ کے ناپاک دل کو کسی آپریشن کے ذریعہ پاک کرنے کی بات کو مندرجہ ذیل قرآنی آیات سے تقویت دیتے ہیں:

                        أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ(سورہ النشرح آیت ۱سے ۳)

ترجمہ: اے محمد کیا ہم نے تمہارا سینہ کھول نہیں دیا؟ بیشک کھول دیا اورتم پر سے (گناہ ، بدی، ناپاکی، بدکاری کا )بوجھ بھی اُتاردیا جس نے تمہاری (یعنی محمد کی ) پیٹھ (کمر) توڑ رکھی تھی"۔

(گناہوں کے بوجھ سے ٹوٹی ہوئی پیٹھ (کمر) والا عربی نبی)؟

          مگر محمدﷺ نے اپنے لئے ایک باعزت لقب، المصطفیٰ (چنا ہوا) اختیار کیا۔محمدﷺ اپنےطور پر(اپنے آپ میں) توپاک اور راست نہ تھا، مگر دوفرشتوں نے محمدﷺ کے دل کے (گناہ کا) بوجھ ہلکا کرکے ، محمدﷺ کو پاک کرنے کی کوشش کی ۔محمدﷺ کوپاک ہونے کے لئے اللہ ، کا نبی اور پیغمبر بننے کے لئے دل کوپاک کرنے کی آپریشن  کی ضرورت پڑی۔ (محمدﷺ کے ناپاک دل کو پاک کرنے کے آپریشن کے باوجود، محمدﷺ میں گناہ آلودہ نفسانی اور جسمانی اور شہوانی فطرت باقی تھی۔ اسی لئے تو بعد میں بھی اللہ تعالیٰ ، محمدﷺ کواپنے گناہوں کی معافیاں  مانگنے کوکہتا ، جن گناہوں نے محمدﷺ کی کمر اور پیٹھ کو توڑ رکھاتھا۔ کیا اس سے  ثابت نہیں ہوتاکہ فرشتوں کی بچپن میں محمدﷺ کے ناپاک دل کو پاک کرنے کے آپریشن کا یہ بیان ، محض فرضی عربی کہاوت (کہانی) سے بڑھ کر نہیں ہوسکتا؟ اگر واقعی سچے خدا کے سچے فرشتوں نے محمدﷺ کے ناپاک دل کو پاک کرنے کا آپریشن کیا بھی ہوتا، تومحمد ﷺ سے بعد میں گناہ سرزد ہونا ممکن ہی نہ ہوتا! مگر محمدﷺ  کے ماضی اور مستقبل کے گناہوں کا قرآنی حوالہ، کیا واقعی یہ ثابت نہیں کرتا کہ فرشتوں کے وسیلہ، دل کے آپریشن سے بھی محمدﷺ گناہوں سے محفوظ  نہ رہ سکتا؟ کیونکہ کسی بھی قسم کے دل کے آپریشن سے آدم اور حوا کے گناہ کے باعث  انسان کی پرانی گناہ آلودہ انسانیت کو گنہگار  انسان کے گنہگار تخم وانسانی روح سے ختم کیا جاتا ہرگز ممکن ہی نہیں ہوسکتا۔ فرشتوں سے بھی نہیں۔ سوائے خدا کے!

          اسکے برعکس قرآن شریف میں ہم یہ پڑھتے ہیں کہ ابن مریم (سیدنا عیٰسی مسیح) اپنی پیدائش  ہی سے"پاک ترین " ہوگا۔ فرشتہ (جبرائیل ) نے اُس (مریم) سے کہا:

                        إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا(سورہ مریم آیت ۱۹)

ترجمہ: کہ میں (جبرائیل ) توتمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا ہوں ، کہ تمہیں (مریم) کو پاک ترین لڑکا بخشوں"۔

                        مسلم فلسفہ دان الطبری، البیضاوی ، والزمحشری اس بیان سے متفق ہیں کہ "پاک ترین" جس کے معنی بے الزام، بے گناہ اور معصوم ہیں(محمدﷺ) اس (پاک ترین لڑکا) کے لقب سے بھی محروم رہے) ۔ مسیح کی پیدائش  سے قبل الہٰی روح نے اس بات کی بشارت دی کہ مسیح ، وہ جو خدائی روح سے پیدا ہونے والا ہے وہ ہمیشہ پاک اور بغیر کسی ایک گناہ کے ابد تک رہے گا۔ مسیح کو اپنا دل کو پاک کرنے یا فرشتوں کومسیح کا دل پاک کرنے کی ضرورت نہ تھی ، کیونکہ مسیح (روح اللہ اور کلمتہ اللہ ہوتے ہوئے ) بذاتِ خود پاک تھے۔ابن مریم نے خدا کے کلام کو صرف سنا ہی نہیں بلکہ مسیح خود خدا کا کلام (کلمتہ اللہ ) تھے۔  مسیح کے کلام اوراُس کے اعمال میں کوئی فرق نہیں تھا۔مگر محمد ﷺ نے توخدا کی روح اورنہ ہی محمد خدا کا کلام تھا۔ محمدﷺ پاک بھی نہ تھے اورنہ ہی محمدﷺ فرشتوں کے کسی قسم کے آ پریشن کے باوجود بھی پاک کئے جاسکے۔

          سیدنا مسیح اپنی تمام حیات میں بے گناہ اور بے الزام ہی رہے۔ قرآن متعدد بار تصدیق کرتاہےکہ مختلف انبیاء  نےخاص خاص  گناہ کئے، سوائے سیدنا مسیح کے سو مسیح ہمیشہ پاک اور بے گناہ رہے۔ خدا کے روح نے مسیح کی پیدائش ہی سے مکمل پاکیزگی میں رکھا اگرچہ مسیح ایک انسان کی طرح بھی تھے۔ توبھی مسیح کسی بھی آزمائش میں نہ پڑے کیونکہ مسیح، انسانی  جسم میں خدا کی روح تھے۔

          محمدﷺ (اسلامی نبی؟) کو کھلے عام تین بار قرآن میں اپنے گناہوں کی معافی کے لئے اللہ کے سامنے اقرار کرنا پڑا، جن گناہوں نے اسکی کمر توڑ رکھی تھی!۔

            وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ(سورہ غافر آیت ۵۵)

ترجمہ:ا ور(اے محمد) اپنے گناہوں کی معافی مانگ اور صبح شام  اپنے رب کی حمد کر"۔

(کسی پکے گنہگار ہی کو گناہوں سے معافی مانگنے کوکہا جاسکتا ہے نہ کہ کسی معصوم، پاک اور راست کو؟)

                        وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ(سورہ محمد آیت ۱۹)

ترجمہ:اور"(اے محمدﷺ) اپنے گناہوں کی معافی مانگ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی۔ اوراللہ تمہارے (سراطِ مستقیم سے؟) ادھر اُدھر ہوجانے اور (گناہ میں ؟) ٹھہرنے سے واقف ہے"۔

                        إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ(سورہ الفتح آیت ۱سے ۲)

ترجمہ:"(اے محمد!) ہم نےتم کو صاف فتح دی(؟) تاکہ اللہ تمہارے(محمدﷺ کے) ماضی اور مستقبل کے تمام گناہوں کو بخش دے (معاف کردے)"۔

          (کیا اس قرآنی آیت میں قرآن خود ہی یہ ثابت نہیں کرتا کہ محمدﷺ بچپن میں ، فرشتوں کے وسیلہ دل کےپاک کرنے کے آپریشن کے باوجود بھی ، گنہگار ہی رہ گیا تھا۔ اورکیا اللہ کی جانب سے محمدﷺ  کے ماضی اور مستقبل کے گناہوں کے ذکر کے باعث، محمدﷺ کے پکے گناہ گار ہونے پر پھر سے مہر ثبت نہیں ہوتی؟)۔

          بعض مسلمان ، محمدﷺ کے گنہگار ہونے کی بابت ان قرآنی آیات کا جوصاف طورپر قرآن میں درج ہیں قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ جبکہ دوسرے مسلم حضرات  ان قرآنی آیات کی حقیقت سے چشم پوشی کا باطل جواز تلاش کرتے ہیں۔

          محمدﷺ ایک عام انسان تھے ، جو(گنہگار نسل ا نسانی والے) والدین سے پیدا ہوئے۔ محمدﷺ نے عام فطرتی زندگی بسر کی اورجس طرح ہم گناہ کرتے ہیں اسی طرح محمدﷺ نے بھی گناہ کئے ۔ کئی بار اللہ نے محمدﷺ کو گناہوں کی معافی کے لئے حکم دیا۔ جبکہ سیدنا مسیح خداکی روح سے (روح اللہ ) پیدا ہوئے ۔ مسیح خدا کا کلمہ (کلمتہ اللہ) مجسم تھے اور اپنی پیدائش ہی سے اپنی تمام عمر بھر مکمل پاکیزگی  اورکامل بے گناہی میں رہے۔ جس طرح کہ خدا باپ آسمانی پاک ہے!

۵۔الہامِ مسیح سلام وعلینہ اورالہامِ ﷺ

                        وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ(سورہ النعکبوت آیت ۲۷)۔

                ترجمہ:"اورہم (خدا) نے اس(ابراہیم) اوران(اسحاق اور یعقوب) بخش دئیے (اسماعیل کا یہاں ہرگز ذکر نہیں) ۔ اوران (اسحاق اور یعقوب) کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب مقرر کردی اوران کو دنیا میں ان کا صلہ دیا اور وہ (اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد (بنی اسرائیل) آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے"۔

          اس قرآنی آیت کے مطابق پاک نوشتوں کی کتابوں (توریت ، زبور اور انبیاء  کے صحائف  اورانجیل) اور تمام پیغمبروں کو صرف اور صرف ، ابراہیم کے بیٹے اسحاق اور اسحاق کی اولاد یعقوب (بنی اسرائیل ) اورپھر یعقوب  کی اولاد (بنی اسرائیل ) سے آنا فرض  اورلازم اور مقرر ہے ۔ اوراس قرآنی آیت کے مطابق ، اسماعیل اور اسماعیل کی اولاد، کے ساتھ کسی کتاب اور پیغمبری  کا کوئی وعدہ ہے ہی نہیں، پھر بھی مختلف مسلما، قرآن کی اس آیت کورد کرتے ہوئے ،محمدﷺ غلام احمد مرزا ،بہاء اللہ  کوکتاب وپیغمبری  میں شامل کرنے سے باز نہیں آتے۔

          دعویٰ کیا جاتاہے کہ محمدﷺ کوایک فرشتہ بنام جبرائیل سے کسی قسم کی وحی ملی۔ خود اسلامی روایات میں یہ بہت دفعہ واضح کیا گیا ہے کہ جب بھی محمد ﷺ پر وحی نازل ہوئی ، تومحمدﷺ نیم بے ہوشی کی حالت میں (دورہ کی حالت میں ) غش کھاتے۔ ایک اسلامی عربی روایت ہے کہ محمدﷺ کی عام حالت تبدیل ہوکر یوں ہوتی جیسے کوئی شراب میں نشے کی حالت میں مرنے والا ہو۔کئی مسلمان علماء کا کہنا ہے کہ جیسے کہ محمدﷺ کو اس دنیا سے اٹھاہی لیا گیا ہو یعنی پژمردہ کی سی حالت ہوگئی ہو مگر اسکے برعکس سیدنا مسیح کو وحی کی حالت میں محمدﷺ جیسے مرگی کی بیماری کے دوروں  کا سامنہ نہ ہوا۔ سیدنا مسیح توہر وقت خدا کا کلام تھے۔ خدا کی روح تھے (اورآج بھی اسی حالت میں ہیں)۔ سیدنا مسیح پر کوئی فرشتہ ظاہر نہ ہوتا کہ مسیح کو اقراء کا حکم دے۔ بلکہ سیدنا مسیح توخود کلمتہ اللہ ہوتے ہوئے ، ان تمام عجیب وغریب حالتوں سے پاک تھے۔ جن کا سامنہ محمدﷺ کو وحی کے وقت کرنا پڑا۔

          ابوہریرہ نے کہا" جب محمدﷺ پر وحی نازل ہوتی تومحمد ﷺ دہشت کے مارے ہوئے دکھائی دیتے، اسلامی روایات میں تحریر ہے " کہ محمدﷺ کا چہرہ پژمردہ سادکھائی دیتااور محمدﷺکی آنکھیں اندر کی جانب دھنس جاتیں۔ کبھی کبھار محمدﷺ گہری نیند میں چلے جاتے۔" عمربن الخطاب  نے کہا " جب وحی محمدﷺ پر نازل ہوتی توایک آواز جیسے شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ آپکے چہرے  کے ارد گرد سنائی دیتی ۔ محمدﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے تومحمدﷺ نے جواب میں کہا" کبھی کبھار وحی  گھنٹیوں کی آواز  کی صورت میں نازل ہوتی جوکہ (محمدﷺ) لئے وحی کے اتُرنے  کی دُشوار صورت ہے کیونکہ جب میں (محمدﷺ) اس حالت میں گزرجاتا تومیں (محمدﷺ) سنی گئی بات کو یادرکھتا ہوں"۔

          مسلمان علماء یہ تائید کرتے ہیں کہ"محمدﷺ پر جب بھی وحی نازل ہوئی اُنہیں بے حد مشکل اور بھاری بوجھ کا احساس ہوا اُن کا ماتھا ٹھنڈے پانی سے شرابور ہوجاتا بعض اوقات  گہری نیند کا غلبہ طاری ہوجاتا اورآنکھیں سُرخی مائل ہوجاتیں"۔

          زید بن ثابت کا بیان یوں ہے " جب محمدﷺ پر وحی اُترتی تومحمدﷺ کا جسم بھاری بھرکم ہوجاتا ۔ ایک بار تومحمدﷺ کی ٹانگ میری ٹانگ پر چڑھ گئی اورمیں اللہ کی قسم کھا کر کہتاہوں۔ کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنی بھاری چیز محسوس نہیں کی جتنا کہ محمدﷺ کی ٹانگ کو بھاری محسوس کیا۔اُونٹ کی سواری کے دوران جب محمدﷺ پر وحی نازل ہوئی تب محمدﷺ جیسے بے جان سے ہوگئے اوریہ خیال کیا کہ ٹانگ ٹوٹ گئی ، اورکبھی کبھار تو دھرنا مار کر بیٹھ جاتے"(السیوطی ۱: ۴۵تا ۴۶)۔

          مسلمان علماء کی گواہیوں کے مطابق، خدا نے کبھی بھی محمدﷺ سے براہ راست  کلام نہ کیا۔(حتیٰ کہ واقعہ معراج پربھی؟)بلکہ ایک فرشتہ کے ذریعے۔اورخدا نے اپنے آپ کو محمدﷺ سے دُور (پرے) ہی رکھا حتیٰ کہ وحی نازل ہونے کے وقت پر بھی اور محمدﷺ نے خود بھی قرآن میں اللہ ، الہام یا اپنے نبی ہونے کی بابت اپنی اصلی یعنی خالی حالت (بے نبوتی کی سی حالت) کا یوں اعتراف کرلیا ہے کہ:

                        قُل لَّا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ(سورہ انعام آیت ۴۹)

                ترجمہ:"میں(محمدﷺ) تم سے یہ نہیں کہ میرے (محمدﷺ)کے پاس اللہ کے(کسی قسم کے روحانی )خزانے ہیں اورنہ یہ کہ میں (محمدﷺ) ا ن دیکھے خدا(اللہ)کوجانتاہوں"۔

                        اس کے برعکس خدا نے جبرائیل فرشتہ کوسیدنا مسیح کے پاس نہ بھیجا اورنہ ہی کسی دوسرے گروہ کے ذریعہ وحی کومسیح پر نازل کیا ۔وہ(سیدنا مسیح ) بذات خود حقیقی اور ابدی کلمہء مجسم(کلمتہ اللہ) اورخدا کی الہٰی روح (روح اللہ) اورخدا کی کامل مرضی کا مظہر تھے ۔ اگر کوئی خدا کی کامل مرضی کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہے ۔ تووہ سیدنا مسیح کی زندگی کا انجیل شریف میں گہرائی سے مطالعہ کرے کیونکہ سیدنا مسیح ہی قادر مطلق کی کامل مرضی کا مظہر ہیں۔ قرآن شریف اس کی مزید وضاحت بیان کرتاہے کہ خدا نے بذاتِ خود ہی اپنا کلام آسمانی علم ، پاک توریت اورپاک انجیل کو، سیدنا مسیح کے مجسم (روح کے انسانی جسم لینے کی حالت) ہونے سےپہلے ہی مسیح کو سکھادی تھیں:

                        وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ(سورہ آل عمران آیت ۴۸)

                ترجمہ:اوروہ(خدا) اُنہیں(مسیح کو) الکتب ، دانائی اور توریت  اورانجیل سیکھائے گا"۔

                        سیدنا مسیح آسمان اور زمین کے تمام پوشیدہ رازوں سےواقف ہیں، کیونکہ خدانے تمام الہامی نوشتے، مکمل توریت اور سلیمان کی حکمت اورانجیل سیدنا مسیح کو بتائے۔ پس سیدنا مسیح خدا کا بھر پور کلام(کلمتہ اللہ ) تھے۔ جس نے سوائے خدا کے کلام کے اور کوئی کلام نہ کیا۔ قرآن شریف کے مطابق سیدنا مسیح نے پیدائش کے فوراً بعد بالغوں کی مانند اپنی والدہ سے تسلی اور راہنمائی کے کلمے اپنے منہ سے نکالے۔

                        فَنَادَاهَا مِن تَحْتِهَا أَلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا فَكُلِي وَاشْرَبِي وَقَرِّي عَيْنًا ۖ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَدًا فَقُولِي إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَٰنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ الْيَوْمَ إِنسِيًّا(سورہ  مریم آیت ۲۲سے ۲۵)۔

                ترجمہ:مگر اس (مسیح) نے جو(اپنی پیدائش کے فوراً بعد) مریم (کی کمر سے ) نیچے تھے اُس نے مریم کو یوں پکار کر کہا کہ غمناک نہ ہو۔ دیکھو تمہارے خداوند نے تمہارے (بطن کے ) نیچے سے ایک عظیم ترین انسان کو جنم دیاہے ۔کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف بلاؤ تم پر تازہ تازہ کھجوریں جھڑپڑ یں گی۔ سو کھاؤ اورپیو اور آسودہ ہوجاؤ۔ اگرتم کسی کوبھی دیکھوتوکہنا ،کہ میں (مریم) نے رحم کرنے والے خدا کے لئے روزے کی منت مانی ہے، آج میں (مریم) کسی آدمی سے نہیں بولوں گی"۔

                        قرآن شریف کے مطابق سیدنا مسیح، ابھی شیر خوار ہی تھے تب ہی خدا کے کلام کی قدرت سے، سیدنا مسیح ہم کلام ہوئے ۔ اُنہیں کسی فرشتے یا درمیانی کی ضرورت نہ تھی ۔ کیونکہ وہ (مسیح) خدا کا کلام (کلامِ خدا یعنی کلمتہ اللہ ) اورخدا کی روح (روح اللہ ، روح خدا )ہے۔اسی وجہ سے خدا کی الہٰی قدرت جو تخلیقی ، شفا بخش ، معافی ، اور اطمینان دینے والی ہے۔ ابن مریم (سیدنا مسیح) میں ظاہر ہوتی ہے۔

          الشریعہ، قرآن اوراسلامی روایات میں درج محمدﷺ  پر وحی نازل ہونے والے مجموعہ کا نام ہے۔ جواسلامی احکام اورممانعت پر مشتمل ہے۔ اسلامی وحی نازل ہونے کی آخری مشکل کوایک کتابچہ کی صورت دے دی گئی ہے۔ جبکہ الشعریہ قرآن اوراسلامی روایات کا خلاصہ ہے۔

          الہامِ مسیح "توبذاتِ خود" ہی خدا کا کلام ہے۔ مسیح کا کلام یعنی انجیل اُن کی زندگی کا مکاشفہ ، اوراُنکی پاک ذات کوبیان کرتی ہے۔ اسکے ساتھ مسیح نے اپنے پیروکاروں کو روح القدس  کی قدرت اورطاقت بخشی تاکہ وہ انجیل میں لکھے مسیح کے احکام کو پورا کرسکیں۔ مسیح کے پیروکار بنیادی طورپر کسی کتاب یا مذہب پر اعتقاد نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی قانون کے پابند ہیں بلکہ اس سے زیادہ الہٰی ذات پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ شخصی طورپر مسیح میں مضبوطی سے قائم رہتے اورمسیح کے پاک کلام کی پیروی کرتے۔ مسیح ہی ،کلام اور روح میں خدائے واحد کی مکمل ذات الہٰی ہے۔

۶۔سیدنا عیسیٰ مسیح ناصری سلام وعلینہ

اورمحمد ﷺ کی نشانیاں

                        مسلمان علماء کا دعویٰ ہے کہ اللہ نےمحمدﷺ کواپنی معجزانہ قدرت قرآنی سورہ کی آیات میں عطا کیں، اسلئے محمدﷺ کے معجزات عملی نہیں بلکہ لفظی ہی رہے۔ قرآن مسیح کے منفرد کاموں اور شفا بخش قدرت کو بیان کرتا اوراُنکی تصدیق کرتاہے۔سیدنا مسیح نے اپنے دشمنوں کولعنت نہ کی اورنہ ہی ظالمانہ رویہ رکھا۔ مسیح نے اپنے آپ کو مہربانی کا سرچشمہ اورمحبت ورحمت کے ذریعہ کے طورپر ظاہر کیا ۔ خدا کی الہٰی قدرت بہت سے عجیب کاموں اورنشانیوں کے لئے مسیح میں سے ہوکر نکلتی تھی۔

مبارک طبیبِ اعظم

                        قرآن شریف تصدیق کرتاہے کہ مسیح نے اندھے آدمی کوبغیر کسی سرجیکل آپریشن اور دوائی  کے شفابخشی بلکہ شفا بخش الہٰی کلام سے شفا بخشی۔مسیح کے پاک الہامی کلام(انجیل ) میں شفا کی قدرت تھی جواب بھی ہے۔ قرآن مسیح کی بابت یوں فرماتاہے:

                        وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا(سورہ مریم آیت ۳۱)۔

                ترجمہ:"اس (خدا) نے مجھے (مسیح) کومبارک بنایا اور بابرکت ٹھہرایاہے، (اس دنیا میں یا اگلی دنیا میں ) جہاں کہیں بھی میں (مسیح) ہوں گا"۔

إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَىٰ وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدتُّكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا ۖ وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ ۖ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي ۖ وَتُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنكَ إِذْ جِئْتَهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ(سورہ مائدہ آیت ۱۰۹ تا ۱۱۰)۔

ترجمہ:جب خدا (عیسیٰ سے) فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! میرے ان احسانوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کئے جب میں نے روح القدس (یعنی جبرئیل) سے تمہاری مدد کی تم جھولے میں اور جوان ہو کر (ایک ہی نسق پر) لوگوں سے گفتگو کرتے تھے اور جب میں نے تم کو کتاب اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائی اور جب تم میرے حکم سے مٹی کا جانور بنا کر اس میں پھونک مار دیتے تھے تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا تھا اور مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے چنگا کر دیتے تھے اور مردے کو میرے حکم سے (زندہ کرکے قبر سے) نکال کھڑا کرتے تھے اور جب میں نے بنی اسرائیل (کے ہاتھوں) کو تم سے روک دیا جب تم ان کے پاس کھلے نشان لے کر آئے تو جو ان میں سے کافر تھے کہنے لگے کہ یہ صریح جادو ہے۔

وَرَسُولًا إِلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنِّي قَدْ جِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ ۖ وَأُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَأُحْيِي الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ اللَّهِ ۖ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ(سورہ آل عمران آیت ۴۹)۔

اور (عیسیٰ) بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر (ہو کر جائیں گے اور کہیں گے) کہ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں وہ یہ کہ تمہارے سامنے مٹی کی مورت بشکل پرند بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے (سچ مچ) جانور ہو جاتا ہے اور اندھے اور ابرص کو تندرست کر دیتا ہوں اور خدا کے حکم سے مردے میں جان ڈال دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کر آتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو سب تم کو بتا دیتا ہوں اگر تم صاحب ایمان ہو تو ان باتوں میں تمہارے لیے (قدرت خدا کی) نشانی ہے۔

سیدنا مسیح ناصری سلام وعلینہ نے مردوں کو زندہ کیا

سیدنا مسیح کے عظیم معجزات میں سے ایک معجزہ یہ تھا کہ آپ نے مردوں کو زندہ کیا، انجیل کے ساتھ، قرآن شریف میں بھی سیدنا مسیح کے ان الہٰی معجزات کی تصدیق کرتا ہے۔سیدنا مسیح نے ایک نوجوان لڑکی، ایک نوجوان لڑکے اورایک آدمی کوجبکہ وہ مرگئے تھے ، زندہ کیا۔ کون کسی مردے کو زندہ کرسکتا ہے؟ سوائے خدا کے! یہ ہم سب کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ ہم ان کئی قرآنی آیات کے مطلب اوراُنکی گہرائی کوجان سکیں جو قابلِ انکار حقائق کو، کہ مسیح نے مُردوں کوزندہ کیا ، بار بار بیان کرتی ہیں :

(سورہ آل عمران کی آیت ۴۹ اور المائدہ کی آیت ۱۱۰)۔

                        بعض سطحی اورنام نہاد مسلم نکتہ چینی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مریم کا بیٹا (مسیح) اپنے طورپر یہ معجزات کرنے سے قاصر تھا(مگریہ ان نکتہ چینی کرنے والے مسلمانوں کے منہ بالکل بند سے ہوجاتے ہیں جب وہ محمدﷺ کو ایسی معجزات کرنے کی قدرت سے بالکل ہی محروم پاتے!) لیکن خداکی الہٰی قدرت اورپاک رُوح کے وسیلہ سے مسیح مختلف معجزات اور عجائب کوکرنے پر قادر تھا۔ اُن کے اس بے بنیاد دعویٰ کی بنیاد مندرجہ ذیل قرآنی آیات پر مبنی ہیں:

                        وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ(سورہ بقرہ آیت ۸۷)۔

                ترجمہ:اور"(ہم خدا نے ) عیسیٰ ابن مریم کو واضح اورکھلے نشانات بخشے اور قدوس خدا کی روح سے ، اُس(مسیح) کو تقویت عطاکی"۔

                        تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ ۚ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ(سورہ بقرہ آیت ۲۵۳)۔

                ترجمہ:"ان میں سے ہم (خدا ) نے بعض (انبیاء) بعض (انبیاء) پر ترجیح دی ہے۔ بعض (انبیاء) ایسے ہیں جن سے خدا خود ہم کلام ہوا اور بعض (انبیاء) کے درجے بلند کئے۔ مگر عیسٰی ابن مریم کوہم(خدا) نے کھلی اور صاف نشانیاں عطا کیں اور قدوس خدا کی روح سے اُس(مسیح) کو تقویت بخشی"۔

(افسوس کہ اللہ نے محمدﷺ کو ایسا درجہ یا صاف نشانیاں یا تقویت نہ بخشی)۔

إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَىٰ وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدتُّكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا ۖ وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ ۖ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي ۖ وَتُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنكَ إِذْ جِئْتَهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ(سورہ  المائدہ آیت ۱۱۰)۔

                        ترجمہ:جب خدا نے کہا ، کہ اے عیسیٰ ابن مریم ! میرے اُن برکتوں کویاد کر و جو میں نے تم(مسیح) پر اورتمہاری والدہ (مریم) کوعطاکیں جب میں قدوس خداکی روح نے ، تم (مسیح) کو تقویت عطاکی ، کہ تم جھولے میں، ایک بالغ کی طرح ، آدمیوں سے بول سکتے اورجب میں (خدا) نے تم کو کتاب اور دانائی اور توریت اور انجیل سکھائی اورجب تم میری (خدا کی ) رضا سے مٹی سے جانور جیسی تخلیق کرکے اُس میں پھونک ماردیتے تھے تووہ میری  رضا سے وہ حقیقت میں پرندہ بن جاتا تھا، اور تم (مسیح) نے ، میری رضا سے ، اندھوں اور کوڑھیوں (جزام والوں) کوشفادی اور میری رضا سے تم(مسیح) مردوں کوزندہ کرتے تھے ۔۔۔مگر اُن میں سے بے ایمان یہ کہنے لگے کہ یہ توصریح جادو کے علاوہ اورکچھ نہیں ہے"۔

(افسوس محمدﷺ ان سب اعزازات  سےبھی محروم نظر آتے ہیں)۔

                        یہ کتنی عجیب خیزبات ہے کہ قرآن بار بار ،خدا خود، مسیح ، اور روح القدس کے درمیان ایک مکمل اشتراک کی گواہی دیتا ہے۔ خدا ان تینوں (خدا، مسیح اور پاک روح) ایک کامل واحد نیت  میں مل جل کر ، مسیح کے معجزات کوسرانجام دیتا ہے۔ سچے مسیحی ایماندار بھی اس پاک تثلیث (خُدا، روح القدس ، مسیح) کی ایک ہی کامل واحد ذات پر یقین رکھتے ہیں۔(نوٹ) سچے مسیحی ایماندار لوگ، مسلمانوں  والی (نعوذ بااللہ)اسلامی ناپاک تثلیث (خدا باپ ،خدا مریم اور بیٹا) پرہرگز یقین نہیں کرتے بلکہ کیا ایسا سوچنے والا ہر کوئی مسلمان توگناہ کبیرہ کا شکار اورکافرنہ ہوا؟

کمسن خالق

ہم انجیل شریف میں نہیں بلکہ قرآن شریف میں پڑھتے ہیں کہ سیدنا مسیح ابھی بچے ہی تھے ، آپ نے مٹی سے پرندے کی مانند کچھ بنایا اور اپنی سانس اُس میں ڈالی تووہ زندہ پرندہ بن کر آسمان پر اڑنے لگ گیا۔(افسوس کہ محمدﷺ تویہ بھی کرنے کے قابل نہ تھے)۔

                        أَنِّي قَدْ جِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ وَأُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَأُحْيِي الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ اللَّهِ(سورہ عمران آیت ۴۹)۔

                ترجمہ:" میں(مسیح) تمہارے پاس تمہارے خداوند کی طرف سے نشان لے کر  آیا ہوں، میں (مسیح) تمہارے لئے ، مٹی سے پرندہ کی مانند جیسی تخلیق کروں گا۔ پھر اس میں دم پھونکوں گا اوریہ ۔۔۔ پرندہ بن جائے گا۔ میں (مسیح) خدا کی قدرت سے اندھوں اور جزام والے کوڑھیوں کو شفا بخشوں گا اور مُردوں میں زندگی لاؤ ں گا"۔

                        اس آیت میں ہمیں یہ بے مثال بیان ملتاہے "میں (مسیح) تمہارے لئے تخلیق کروں گا ، اس سے واضح ہے کہ مسیح خالق ہیں۔ ایک عام انسان (جیسا کہ محمدﷺ) یا ہم سب ) نہ توکچھ تخلیق کرسکتے ہیں اورنہ ہی کسی بے جان میں زندگی ڈال سکتے ہیں۔قرآن شریف تائید کرتاہے کہ مسیح اپنے دم سے زندگی دینے کی قدرت رکھتے ہیں۔ سیدنا مسیح نے اپنی زندگی کا دم مٹی کے پرندہ میں پھونکا تووہ پرندہ جیتی جان ہوا بالکل اسی طرح جیسا کہ خدا نے آدم میں اپنی زندگی کا دم پھونکا۔ اس کامطلب ہے مسیح اپنے میں زندگی دینے کی قدرت رکھتے ہیں۔وہ بے جان مٹی میں زندگی کا دم بھرنے کی قدرت رکھتے ہیں جب کہ محمدﷺ ایسی زندگی بخش قدرت سے بالکل محروم یا خالی ہیں۔

سیدنا مسیح شفیق پروردگار کے طورپر

(مہیاکرنے والے ہیں)

فلسطین کے بڑےہجوم نے جب ابن مریم عیسیٰ کی لامحدود قدرت کودیکھا ، اوریہاں تک کہ ویران جگہ میں ، وقت کی پرواہ کئے بغیر، تمام مشکل حالات کونظر انداز کرتے ہوئے تمام لوگ سیدنا مسیح کے پیچھے ہولئے ۔ دنیا مسیح کے کلام کو دن کے ڈھلنے تک سنتے رہتی۔ قرآن اس کی تائید کرتاہے کہ مسیح نے ویران جگہ میں اُس بڑے ہجوم کے لئے آسمان سےکھانا مہیا کیا کہ وہ سیروآسودہ ہوسکتے ۔

                        إِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ ۖ قَالَ اتَّقُوا اللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ قَالُوا نُرِيدُ أَن نَّأْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ الشَّاهِدِينَ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِّنكَ ۖ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ قَالَ اللَّهُ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۖ فَمَن يَكْفُرْ بَعْدُ مِنكُمْ فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَّا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ(سورہ المائدہ آیت ۱۱۲ سے ۱۱۵)۔

                ترجمہ:"حواریوں (مسیح کے صحابہ کرام) نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تمہارا خدا، آسمان پر سے ہمارے لئے دسترخوان نازل کرنے پر قادر ہے؟(مسیح) نے کہا کہ اگر تم ایمان رکھتے ہو توخدا سے ڈرو۔وہ (شاگرد) بولے کہ ہماری خواہش ہے کہ ہم اس میں سے کھائیں اورہمارے دل تسلی پائیں۔ اور ہم جان سکیں کہ تو(مسیح) نے ہم سے (الہٰی) سچائی بیان کی ہے اورہم اس سچائی پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔ تب عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی کہ اے خداوند ہمارے خدا ، ہم پر آسمان سے دستر خوان نازل فرما کہ وہ ہمارے اگلوں اور پچھلوں سب کے لئے عید کا جشن ہو، اور وہ تیری طرف سے نشان ہو اورہمیں رزق مہیا کرکہ توسب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ خدا نے فرمایا ، کہ میں تم پر ضرور خوارک (خوان) نازل فرماؤ ں گا لیکن جو اسکے بعد تم میں سے (مسیح پر) ایمان نہ لائے گا اُسے ایسے غضب کے ساتھ، عذاب دونگا کہ اہلِ عالم میں کسی کوایسا عذاب نہ دوں گا"۔

          مسلمان علماء نے مختلف پہلوؤں سے اُس طعام کی مقدار اورمعیار کی بابت جو ویرانے میں مہیا کیا گیا تھا بحث توکی ہے۔ مگر اُس الہٰی ذات(مسیح) کی بابت مسلمان بات نہیں کرتے ۔ جس نے کھانا مہیا کیا۔ مقدس انجیل شریف کے مطابق سیدنا مسیح نے پانچ روٹیوں اور دومچھلیوں کولیا، شکرگزاری کی دُعا مانگی اوراُن سے عورتوں اور بچوں کے علاوہ پانچ ہزار آ دمیوں کو کھانا کھلایا۔اس معجزے سے سیدنا مسیح نے لامحدود تخلیقی قدرت کو عملی طورپر ظاہر کیا۔ مسیح کا کلام محض خالی الفاظ ہی نہ تھے، سیدنا مسیح نے جوکچھ سکھایا اور کلام وہ عملی طورپرکیا اوراپنی الہٰی مرضی اور شفقت کو ان عظیم معجزوں کی قدرت سے اس دنیا پر خدائی اختیار میں ہوتے ہوئے ہم پر بھی ظاہر کیا۔

خدائی پوشیدہ رازوں کا انکشاف کرنے والامگرکون

سیدنا مسیح خداکی روح اور کلمتہ اللہ ہوتے ہوئے انسان پر خدا کے پوشیدہ رازوں کوظاہر کرتے ہیں مگر قرآن شریف میں محمدﷺ اپنی ہی بابت خدا اوراُس کے خزانہ کی بابت یوں بیان کرتاہے۔

                        قُل لَّا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ(سورہ المائدہ آیت ۵۰)

        ترجمہ: میں(محمدﷺ) تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے(محمدکے)پاس اللہ کے (پاک روحانی) خزانے (خدا کا کلام اور روح) ہیں اورنہ یہ کہ میں(محمدﷺ) ان دیکھے خدا کا جانتاہوں "۔

                        (کیامحمدﷺ کے اس اپنے ہی دعویٰ کے مطابق، اسلام کا واقعہ معراج کا فرضی مفروضہ بالکل ہی غلط ثابت نہیں ہوجاتا کہ محمدﷺ یروشلیم کی کسی فرضی مسجد سے کسی انسانی شکل جیسے جانور؟ پر سواری کرکے چاند کے دوٹکڑے کرتے ہوئے ، آسمانی خدا کے پاس گئے"کیونکہ اس وقت یروشلیم میں نہ تو کوئی مسجد ہوتی تھی ، اورنہ ہی اسلام یروشلیم تک پھیلا ہوا تھا؟ اورمحمدﷺ یہودیوں کی بیت اللہ سے اوپر جاتے؟ اورکیا موجودہ وقت میں امریکہ نے چاند پر جاکر حقیقت میں ثابت نہیں کردیاہے کہ چاند کے دوٹکڑے ممکن نہیں ؟ محمدﷺ کی اپنی ایک بیوی کے مطابق محمدﷺ کا زمینی جسم توزمین پر گھر میں موجود تھا ، مگر صرف محمدﷺ کوایسا گمان گزرا کہ محمدﷺ آسمان پر گئے ہیں۔اور اگر محمدﷺ کی اللہ سے ملاقات کہیں ہوئی بھی ہوتی تو کیا قرآن کی اس آیت کے مطابق محمدﷺ کویوں بیان کرنا ضرور نہ تھاکہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور میں (محمدﷺ) اندیکھے  خدا کو جانتاہوں یا میں (محمدﷺ) نے اللہ کودیکھا اوراللہ سے براہ راست قرآن لے آیا ہوں؟ اگراس واقعہ  سے صرف محمدﷺ کو نماز کی تعداد ہی ملی، جوپچاس نمازوں سے کم کرکے پانچ نمازوں تک کی گئی ، تونمازوں کی درست تعداد کا قرآن میں ذکرکیوں نہیں؟ اورپچاس نمازوں کے اللہ کے حکم کو باطل کرنے کی محمدﷺ کی جرات اس طرح ایک درست ذہن کوضرور درست سوچ کا موقعہ ملتا کہ کیا واقعی محمدﷺ آسمان پر گئے؟ کیا محمدﷺ کوواقعی نبوت اورکلام یعنی روحانی خزانے ملے؟ کیا محمدﷺ نے کبھی خدا سے ملاقات کی؟ کیا واقعہ معراج ماضی کی عربی/ایرانی کہانی نہیں؟)

          لیکن سیدنا مسیح کے لئے یہ بیان مختلف ہے۔ محمدﷺ سیدنا مسیح کی طرف اشارہ کرکے یوں فرماتے ہیں کہ مسیح کی ہستی ہی وہ واحد ہستی ہے جسے خدا اور آدمیوں کے پوشیدہ رازوں اورغیب کا علم ہے، یہ صلاحیتیں توصرف خدا ہی کے لئے مخصوص ہوسکتی ہیں(محمدﷺ ان صلاحیتوں سے محروم ہیں) ۔ محمدﷺ قرآن شریف میں سیدنا مسیح کے بارے میں یوں حوالہ دیتے ہیں :

وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ(سورہ آل عمران آیت ۴۹)۔

                        ترجمہ: میں(عیسیٰ) تم (لوگوں) کومعلومات دوں گا کہ تم کوکیا کھانا ہے، اور تم کو اپنے مسکن میں کیا ذخیرہ کرناہے۔ اگرتم(لوگ) ایمان لانے والے ہو تویقیناً اسی میں ، تمہارے لئے قدرتِ خدا کی ایک نشانی (مسیح )ہے"۔

                        محمدﷺ نے مسیح ہی کو تمام غیبوں کوجاننے کی صلاحیت رکھنے والا کہہ کر بیان کیا، تاکہ (محمد) اپنے بعض خودغرض پیروکاروں کوخبردار کرتا اورملامت کرسکتا۔ محمدﷺ نے مدینہ کے بعض مسلمانوں کے لئے اپنی سخت بے زاری کا اظہار اُس وقت کیا ، جب انہوں نے اپنے گھروں میں خوارک اور دیگر دوسرے مال کو چھپا لیا، اورمکہ سے ہجرت کرکے آئے ہوئے لوگوں کے ساتھ اپنے مال اور دولت میں شریک کرنے سے انکار کردیا تھا۔تب اُس(محمدﷺ) نے لوگوں کوخبردار کیاکہ ، مسیح الہٰی منصف کے طورپر جلد آنے والا ہے ، کہ وہ (مسیح) روزِ عدالت یعنی قیامت پر حکمرانی کرے۔محمدﷺ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح ہی واقف ہونگے اُن کاموں کے لئے جو انہوں نے پوشیدگی میں اپنے گھر میں کئے۔ سیدنا مسیح نہ صرف یہ کہ اُنہوں نے کیا کھایا بلکہ جوکچھ اُنہوں نے چھپایا وہ بھی جان لیں گے۔ روزِ عدالت پر کوئی بھی اس(مسیح) کی آنکھ سے بچ نہ سکے گا۔ محمدﷺ کی جانب سے ، مسیح کی الہٰی ذات  کی بابت شاید ہی اس سے زیادہ اعتراف شدہ، عظیم ثبوت ہمیں کہیں اورملے (محمدﷺ) تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح دلوں کے خفیہ راز اور پوشیدہ خدائی حقائق سے واقف ہیں۔سیدنا مسیح بڑی تفصیل سے ہمارے تمام بھیدوں سے واقف ہیں۔ مسیح، ہماری نیکی اور بدی کے کاموں کو ہم پرظاہر کریں گے کیونکہ مسیح، کل علم کے جاننے والا ،باحکمت ہیں۔ کوئی بھی سیدنا مسیح کی پاک حضوری سے کچھ چھپا نہیں سکتا ہے (محمدﷺ کی ایسی روحانی بصیرت ؟؟؟؟؟؟؟؟)۔

الہٰی حکمت والا قانون ساز مسیحا

                        ہم قرآن میں یوں پڑھتے ہیں کہ مسیح نےا پنے پیروکاروں کو اُن باتوں کی منظوری دی جوحضرت موسیٰ کی شریعت کے تحت ممنوع تھیں۔مسیح(انسانیت کو)، موسیٰ کے تمام (شرعی) قوانین کو پورا کرنے کےلئے مجبور نہ کیا۔ مقدس انجیل میں مسیح نے واضح طورپر بیان کیاکہ خوراک جو منہ میں جاتی ہے وہ آدمی کو ناپاک نہیں کرتی بلکہ بُرے خیالات انسان کے اندر سے نکلتے ہیں وہی ہمیں ناپاک کرتے ہیں۔"کیونکہ بُرے خیال ، خون ریزیاں ، زناکاریاں ، حرامکاریاں ، چوریاں ، جھوٹی گواہیاں ، دل ہی سے نکلتی ہیں"(انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت متی رکوع ۱۵آیت ۱۹)۔

          سیدنا مسیح نے ایک انقلاب برپا کردینے والی شریعت کا الہام دیا۔ مسیح الہٰی شریعت کہ دینےوالے اورالہٰی قانون ساز تھے۔اور سیدنا مسیح ہی اس الہٰی شریعت کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کا جواز اور اختیار بھی رکھتے تھے۔ قرآن، سیدنا مسیح کے اس الہٰی منفر اختیار کی تصدیق کرتا ہے۔ کہ مسیح شریعت کے ماتحت نہ تھے بلکہ شریعت پر حکمرانی کرنے والے اوراُسکی تکمیل تھے۔ حضرت موسیٰ اورتمام انبیاء  اورہر (شخص یا انبیاء) جوسیدنا مسیح سے قبل یا بائبل مقدس کے حصہ میں تھے وہ سب شریعت کے ماتحت رہے۔ اورشریعت کے احکامات کی تابعداری کرنا ان پر فرض تھا۔ لیکن مسیح شریعت کی تکمیل کے لئے اختیار اور قدرت رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے محمدﷺ قرآن شریف میں اس کی وضاحت کرتےہیں:۔

                        وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ(سورہ آل عمران آیت ۴۹)۔

                        ترجمہ: اور مجھ سے پہلے جو تورات (نازل ہوئی) تھی اس کی تصدیق بھی کرتا ہوں اور میں(سیدنا عیسیٰ) اس لیے بھی (آیا ہوں) کہ بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو تمہارے لیے حلال کر دوں۔

     انجیل شریف میں سیدنا مسیح نے

(آسمان کی بادشاہی کے چند بنیادی اصولوں کویوں )فرمایا"

غصہ کے بارے میں درس

                        (۲۱) تم سن چکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ خون نہ کرنا اور جو کوئی خون کرے گا وہ عدالت کی سزا کے لائق ہوگا۔ (۲۲) لیکن میں تم سے یہ کہتا ہو ں جو کوئی اپنے بھائی پر غصے ہوگا وہ عدالت کی سزا کے لائق ہوگا اور جو کوئی  اپنے بھائی کو پاگل کہے گا وہ صدر عدالت  کی سزا کے لائق ہوگا  اور جو اس کو احمق کہے گا وہ آتش ِ جہنم کا سزا وار ہوگا۔ (۲۳) پس اگر تم قربان گاپر اپنی قربانی  پیش کررہے ہو اور وہاں تمہیں ياد آئے کہ میرے بھائی کو مجھ سے کچھ شکایت ہے۔(۲۴) تو وہیں قربان گاہ کے آگے اپنی قربانی چھوڑ دو اور جاکر پہلے اپنے بھائی سے ملاپ کرو۔ تب آکر اپنی قربانی پیش کرو۔(۲۵) جب تک اپنے مدُعی  کے ساتھ راہ میں ہو اس سے جلدصلح کرلو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مدُعی  تمہیں منصف  کے حوالہ کردے اور منصف تمہیں سپاہی کے حوالہ کردے اور تم قید خانہ میں ڈالےجاؤ۔ (۲۶) میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک تم کوڑی کوڑی ادا نہ کردو گے وہاں سے ہرگز نہ چھوٹو گے۔

زنا کے بارے میں درس

          (۲۷)تم سن چکے ہو کہاگیا تھا کہ زنا نہ کرنا۔ (۲۸) لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ جس کسی نے برُی خواہش سے کسی عورت پر نگاہ کی وہ اپنے دل میں اس کے ساتھ زنا کرچکا ۔ (۲۹) اگر تمہاری دہنی آنکھ تمہیں  ٹھوکر کھلائے تواسے نکال کر اپنے پاس سے پھینک دوکیوں کہ تمہارے  لئے یہی  بہتر ہے کہ تمہارے  اعضا میں سے ایک  جاتا رہے اور تمہارا بدن جہنم میں نہ ڈالا جائے ۔(۳۰)اور اگر تمہارا دہناہاتھ تمہیں ٹھوکر  کھلائے تو اس کو کاٹ کر اپنے پاس سےپھینک دو کیونکہ  تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ تمہارے  اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تمہارا سارا بدن جہنم میں نہ جائے ۔

طلاق  کے بارے میں درس

          (۳۱) یہ بھی کہا گیا تھاکہ جو کوئی بیوی کو چھوڑ ے اسے طلاق نامہ لکھ دے ۔(۳۲) لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ جوکوئی اپنی بیوی کو حرام کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑدے وہ اس سے زنا کراتاہے اور جوکوئی اس چھوڑی ہوئی سے بیاہ کرے وہ زنا کرتا ہے ۔

قسم کے بارے میں درس

          (۳۳) پھر تم سن چکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ جھوٹی قسم نہ کھانا بلکہ اپنی قسمیں پروردگار کے لئے پوری کرنا۔(۳۴) لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ بالکل قسم نہ کھانا ،نہ تو آسمان کی کیونکہ وہ رب العالمین  کا تخت ہے۔(۳۵) نہ زمین کی کیونکہ وہ اس کے پاؤں کی چوکی ہے۔نہ یروشلیم کی کیونکہ وہ بزرگ بادشاہ کا شہر ہے۔(۳۶) نہ اپنے سر کی قسم کھانا کیونکہ تم ایک بال کو بھی سفید  یا کا لا نہیں کرسکتے ۔ (۳۷) بلکہ تمہارا کلام ہاں ہاں یا نہیں نہیں  ہو کیونکہ جو اس سے زیادہ ہے وہ بدی سے ہے

بدلہ لینے کے بارے میں درس

          (۳۸) تم سن چکے ہو کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت ۔ (۳۹) لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی  تمہارے دہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیردو۔ (۴۰) اور اگر کوئی  تم پر نالش کرکے تمہارا کرُتا لینا چاہے تو چوغہ بھی اسے لے لینے دو۔(۴۱)اور جو کوئی  تمہیں ایک کوس بیگار میں لے جائے اس کےساتھ دو کوس چلے جاؤ۔(۴۲)جو کوئی تم سے مانگے اسے دو اور جو تم سے قرض چاہے اس سے منہ نہ موڑو۔

دشمنوں کے لئے محبت

تم سن چکے ہو کہا گیا تھا کہ اپنے پڑوسی سے محبت رکھو اور اپنے دشمن سے عداوت ۔ (۴۴)لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ اپنےدشمنوں سے محبت رکھو اور اپنے ستانے والوں کے لئے دعا کرو۔(۴۵) تاکہ تم اپنے پروردگار کے جو آسمان پر ہے پیارے ٹھہروکیونکہ وہ اپنے سورج کو بدوں اور نیکوں دونوں پر چمکاتا ہے اور دیانتدار اور بددیانت  دونوں پر مینہ برساتا ہے۔(۴۶) کیونکہ اگر تم اپنے محبت رکھنے والوں ہی سے محبت  رکھو تو تمہارا لئے کیا اجر ہے؟ کیا محصول لینے والے بھی ایسا نہیں کرتے؟(۴۷)اور اگر تم فقط اپنے  بھائیوں ہی کو سلام کرو تو کیا زیادہ کرتے ہو؟ مشرکین  بھی ایسا نہیں کرتے ؟ (۴۸) پس  چاہیے کہ تم کامل ہو جیسا تمہارا پروردگار  کامل ہے۔

خیرات کے بارے میں درس

          (۱) خبردار اپنے دیانتداری کےکام آدمیوں کےسامنے دکھانے کے لئے نہ کرو۔ نہیں توتمہارے پروردگار کے پا س جو آسمان پرہے تمہارے لئےکچھ اجر نہیں ہے۔(۲)پس جب تم خیرات کرو تو اپنے آگے نرسنگا نہ بجوا جیسا منافق عباد ت خانوں اور کوچوں میں کرتے ہیں تاکہ لوگ ان کی بڑائی کریں۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجر پاچکے ۔ (۳) بلکہ جب تم خیرات  کرو تو جو تمہارا دہنا ہاتھ کرتا ہے اسے تمہارا بایاں ہاتھ نہ جانے ۔(۴) تاکہ تمہاری خیرات  پوشیدہ رہے ۔ اس صورت میں تمہارا پروردگار  جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے تمہیں اجر دے گا۔

دعا کے بارے میں درس

(۵)اور جب تم دعا کرو تو منافقوں کی مانند نہ بنو  کیونکہ وہ عبادت خانوں میں اور بازاروں کے موڑوں پر کھڑے ہوکر دعا کرنا پسند کرتےہیں  تاکہ لوگ ان کودیکھیں۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجر پا چکے ۔ (۶) بلکہ جب تم دعا کرو تو اپنی کوٹھڑی میں جاؤ اور دروازہ بند کرکے اپنے پروردگار سے جو پوشیدگی میں ہے دعا کرو۔ اس صورت میں تمہارا پروردگار جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے تمہیں اجر عطا کرے گا۔ (۷) اور دعا کرتے وقت مشرکین کی طرح طرح بک بک نہ کروکیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بہت بولنے  کے سبب سے ہماری سنی جائے گی ۔(۸)پس ان کی مانند نہ بنوکیوں کہ تمہارا پروردگارتمہارے مانگنے سے پہلے ہی جانتا ہے کہ تم کن کن چیزوں کے محتاج ہو(۹) پس تم اس طرح دعا کیا کروکہ اے ہمارے باپ (پروردگار) آپ جو آسمان پر ہیں آپ کا نام پاک مانا جائے ۔(۱۰) آپ کی بادشاہی آئے۔ آپ مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔ (۱۱)ہمار ی روز کی روٹی آج ہمیں عطا کیجئے ۔(۱۲)اور جس طرح ہم نے اپنے قرضداروں کو معاف کیا ہے آپ بھی ہمارے قرض معاف کیجئے ۔ (۱۳) اور ہمیں آزمائش  میں نہ لائيے بلکہ برائی سے بچائيے ۔(کیونکہ بادشاہی اور قدرت اور جلال ہمیشہ آپ ہی کے ہیں آمین۔) (۱۴) اس لئے کہ اگر تم آدمیوں کے قصور معاف کروگے تو تمہارا پروردگار  بھی تم کو معاف کرے گا۔(۱۵) اور اگر تم آدمیوں کے قصور معاف نہ کرو گے تو تمہارا پروردگار بھی تمہارے قصور معاف نہ کرے گا۔

روز ہ کے بار ے میں درس

          (۱۶) اور جب تم روزہ رکھو تو منافقین کی طرح اپنی صورت اداس نہ بناؤ کیونکہ وہ اپنا منہ بگاڑ تے ہیں تاکہ لوگ ان کو روزہ دار جانیں۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجرپاچکے ۔(۱۷) بلکہ جب تم روزہ رکھو تو اپنے سر میں تیل ڈالو اور منہ دھو ۔(۱۸) تاکہ آدمی نہیں بلکہ تمہارا پروردگار جو پوشیدگی میں ہے تمہیں روزہ دار جانے ۔ اس صورت میں تمہارا پروردگار  جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے تمہیں اجر عطا کرے  گا۔

آسمان میں خزانہ

          (۱۹) اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتاہے اور جہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں۔(۲۰) بلکہ اپنے لئے  آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کیڑا خراب کرتا ہے اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں ۔(۲۱) کیونکہ جہاں تمہارا مال ہے وہیں تمہارا دل بھی لگا رہے گا۔

بدن کا چراغ

          (۲۲) بدن کا چراغ آنکھ ہے۔ پس اگر تمہاری آنکھ درست ہو تو تمہارا سارابدن روشن ہوگا ۔(۲۳) اور اگر تمہاری  آنکھ خراب ہو تو تمہارا سارا بدن تاریک ہوگا۔پس اگر وہ روشنی جو تم میں ہے تاریکی ہو تو تاریکی کیسی بڑی ہوگی !۔

خدا  تعالی ٰاور دولت

          (۲۴)کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کرسکتا کیونکہ یا تو ایک سے عداوت رکھے گا اور دوسرے سے محبت یا ایک سے ملا رہے گا اور دوسرے کو ناچیز جانے گا۔ تم خدا  تعالیٰ اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کرسکتے ۔(۲۵)اس لئے میں تم سے کہتا ہوں اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے ؟ اور نہ اپنے بدن کی کیا پہنیں گے ؟ کیا جان خوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں؟ (۲۶)ہوا کے پرندوں کو دیکھو نہ بوتے ہیں نہ کاتتے ۔ نہ کوٹھیوں میں جمع کرتے ہیں تو بھی تمہارا  پروردگار  ان کو کھلاتا ہے ۔ کیا تم ان سے زیادہ قدر نہیں رکھتے ؟ (۲۷) تم میں ایسا کون ہے جو فکر کرکے اپنی  عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے ؟ (۲۸) اور پوشاک کے لئے کیوں  فکر کرتے ہو ؟ جنگلی سوسن کے درختوں کو غور سے دیکھو کہ وہ کس طر ح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے نہ کاتتے ہیں۔(۲۹) تو بھی میں تم سے کہتا ہوں کہ سلیمان بھی باوجود  اپنی ساری شان وشوکت  کے ان میں سے کسی کی مانند ملبُس نہ تھا۔(۳۰)پس جب پروردگار میدان کی گھاس کو جو آج ہے کل تنور میں جھونکی جائے گی ایسی پوشاک پہناتا ہے تو اے کم اعتقاد و تم کو کیوں نہ پہنائے گا ؟ (۳۱) اسلئے فکر مند ہوکر یہ نہ کہو کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پیئں گے یاکیا پہنے گئے ؟ (۳۲) کیونکہ ان سب چیزوں کی تلاش میں مشرکین رہتے ہیں  اور تمہارا پروردگار جانتا ہے کہ تم ان سب چیزوں کے محتاج ہو۔ (۳۳) بلکہ تم پہلے اس کی بادشاہی  اور اس کی سچائی تلاش کرو تو یہ سب چیزيں بھی تم کو مل جائیں گی۔(۳۴) پس کل کے لئے فکر نہ کرو کیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کرلے گا ۔ آج کے لئے آج ہی کا دکھ کافی ہے ۔

عیب جوئی

          (۱) عیب جوئی نہ کرو کہ تمہاری بھی عیب جوئی نہ کی جائے ۔(۲)کیونکہ جس طرح تم عیب جوئی کرتے ہو اسی طرح تمہاری  بھی عیب جوئی کی جائے گی اور جس پیمانہ سے تم ناپتے ہو اسی سے تمہارے واسطے ناپا جائے گا۔(۳) تم کیوں اپنے بھائی  کی آنکھ کے تنکے کو دیکھتے ہو اور اپنی آنکھ کے شہتیر  پر غور نہیں کرتے ؟ (۴) اور جب تمہاری ہی آنکھ میں شہتیر ہے تو تم اپنے بھائی  سے کیوں کر کہہ سکتے ہو کہ لاؤ تمہاری آنکھ سے تنکا نکال دوں؟ (۵) اے منافقو پہلے اپنی آنکھ میں سے شہتیر  نکالو پھر اپنے بھائی  کی آنکھ میں سے تنکے کو اچھی طرح  دیکھ کر نکال سکو گے۔(۶)پاک چیزکتوں کو نہ دو اور اپنے موتی سوروں کے آگے نہ ڈالو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ ان کو پاؤں تلے روندیں او رپلٹ کر تم کو پھاڑیں ۔

مانگو ، ڈھونڈو، پاؤ

          (۷) مانگو تو تم کیا عطا کیا جائے گا۔ڈھونڈو تو پاؤگے ۔ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔ (۸) کیونکہ جو کوئی مانگتا ہے اسے ملتا ہے اور جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اس کے واسطے کھولا جائے گا۔(۹) تم میں ایسا کون سا آدمی ہے کہ اگر اس کا بیٹا اس سے روٹی مانگے  تو وہ اسے پتھر دے ؟ (۱۰) یا اگر مچھلی مانگے تو اسے سانپ دے ؟ (۱۱) پس جب کہ تم برُے ہوکر اپنے بچوں کو اچھی چیزيں  دینا جانتے ہو تو تمہارا پروردگار  جو آسمان پر ہے اپنے مانگنے والوں کو اچھی چیزيں کیوں نہ عطا فرمائے گا ؟(۱۲) پس جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں وہی تم بھی ان کے ساتھ کروکیونکہ توریت  اور نبیوں کی تعلیم یہی ہے۔

تنگ دروازہ

          (۱۳) تنگ دروازہ سے داخل ہو کیونکہ وہ دروازه چوڑا ہے اور وہ راستہ کشادہ ہے جو ہلاکت کو پہنچاتا ہے اور اس سے داخل ہونے والے بہت ہیں۔(۱۴) کیونکہ وہ دراوزہ تنگ ہے اور وہ راستہ سکڑا ہے جو زندگی کو پہنچاتا ہے اور اس کے پانے والے تھوڑے ہیں۔

درخت اور اس کے پھل

          (۱۵) جھوٹے نبیوں سے خبردار رہو جو تمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے ہیں مگرباطن میں پھاڑنے والے بھیڑئیے ہیں۔(۱۶)ان کے پھلو ں سے تم ان کو پہچان لوگے ۔کیا جھاڑیوں سے انگور یا اونٹ کٹاروں سے انجیر توڑتے ہیں؟( ۱۷) اسی طرح  ہر ایک اچھا درخت  اچھا پھل لاتاہے اوربرادرخت  برا پھل لاتاہے ؟ (۱۸) اچھا درخت  براُ پھل نہیں لا سکتا اور نہ برُا درخت  اچھا پھل لا سکتا ہے ؟ (۱۹) جو درخت  اچھا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔(۲۰) پس ان کے پھلوں سے تم ان کو پہچان لو گے ۔

میں تمہیں نہیں جانتا

          (۲۱) جو مجھ سے اے مولا اے مولا کہتے ہیں ان میں سے ہر ایک "آسمان کی بادشاہی " میں داخل نہ ہوگا مگر وہی جو میرے پروردگار کی رضا کو پورا کرتا ہے۔ (۲۲) اس دن بہتیرے مجھ سے کہیں گے اے مولا ، اے مولا ! کیا ہم نے آپ کے نام سے نبوت نہیں کی اور آپ کے نام سے بدروحوں کو نہیں نکالا اور آپ کے نام سے بہت سے معجزے نہیں دکھائے ؟ (۲۳) اس وقت میں ان سے صاف کہہ دوں گا کہ میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی۔ اے بدکارو میرے پاس چلے جاؤ۔

دو معمار

(۲۴)پس جوکوئی میری یہ باتیں  سنتا اور ان پر عمل کرتاہے وہ اس عقل مند آدمی کی مانند ٹھہرے گا جس نے چٹان پر اپنا گھر بنایا۔(۲۵) اور مینہ برسا اور پانی چڑھا اور آندھیاں چلیں اور اس گھر پر ٹکریں لگیں  لیکن وہ نہ گرا کیونکہ اس کی بنیاد چٹان پر ڈالی گئی تھی۔(۲۶) اور جو کوئی  میری یہ باتیں  سنتا ہے اور ان پر عمل نہیں کرتا وہ اس بیوقوف  آدمی کی مانند ٹھہرے گا جس نے اپنا گھر ریت پر بنایا ۔(۲۷) اور مینہ برسا اور پانی چڑھا اور آندھیاں  چلیں اور اس گھر کو صدمہ پہنچایا اور وہ گر گیا اور بالکل برباد ہوگیا۔

سیدنا عیسیٰ مسیح کا اختیار

          (۲۸) جب سیدنا عیسیٰ نے یہ باتیں ختم فرمائیں تو ایسا ہوا کہ بھیڑ آپ کی تعلیم سے حیران ہوئی ۔ (۲۹) کیونکہ آپ ان کے دینی علماء کی طرح نہیں بلکہ صاحب ِ اختیار کی طرح ان کو تعلیم ارشاد فرماتے تھے۔

دلوں اور ذہنوں کو ازسر نو نیا بنانے والے مسیحا

            مبارک ہے وہ جویقین رکھتاہے کہ سیدنا مسیح محض ایک عام انسان یا عام نبی نہیں بلکہ خدا کی الہٰی قدرت کے ساتھ وہ الہٰی قانون ساز ہیں۔ مگر محمدﷺ فرشتہ کے حکم سے اہل کتب سے صلاح ڈھونڈتے تاکہ تاکہ اُس سے آپ وحی کا مطلب توسمجھ سکتے ۔

                        فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ(سورہ یونس آیت ۹۴)۔

                ترجمہ: اگر تم (محمدﷺ)کو اس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ(یہودی اور مسیحی) تم سے پہلے کی (توریت، زبور، انجیل ) کتابیں پڑھتے ہیں ان(یہودی اور مسیحی لوگوں ) سے پوچھ لو۔

          سیدنا مسیح نے موسوی شریعت کی حقیقت جاننے کے لئے کسی اُستاد سے نہ پوچھا، اورنہ ہی اُسکے الہام کی وضاحت سمجھنے کی ضرورت ہوئی ، کہ وہ بذات خود  خدا کا الہٰی کلام(کلمتہ اللہ) اورالہٰی قانون ساز تھے۔ حقیقت میں سیدنا مسیح ہی خدا کا الہٰی قانون جس نے انسانی جسم(مجسم) ہوئے۔ اورمسیح ہی حق دار ہیں کہ آپ کی تابعداری  کی جائے کہ مسیح ہی خدا کی روح اورکلام ہیں۔ قرآن شریف مسیح کے بارے میں یوں بیان کرتا ہے۔

                        فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ(سورہ آل عمران آیت ۵۰)۔

                ترجمہ:تم(لوگو!) خدا سے ڈرو اورمیری(عیسیٰ مسیح) کی اطاعت کرو، (مسیح کے انجیل شریف میں احکام کی تابعداری کرو)۔

          تمام بنی نوع انسان ، یہودیوں ، مسیحی لوگوں، مسلمانوں ، اورہند (غرض کہ تمام انسانیت کو) انجیل مقدس کابڑی عزت اور لحاظ کے ساتھ ، غوروفکر کرکے مطالعہ کرنا چاہیے۔ مسیح کی الہٰی قدرت اور الہٰی اختیار  کا تقاضہ یہ ہے کہ ہرفرد اس (مسیح) کی اطاعت کرے ! مسیح نے اپنے صحابہ کرام کو نہ صرف خدا کی طرف رجوع لانے کوکہا بلکہ مسیح نے انسانیت کواپنے (مسیح کے) پیچھے چلنے اوراپنی (مسیح کی انجیل میں لکھی ) تعلیمات پر کامل توجہ کے ساتھ (مسیح روح اللہ ) اورانجیل (کلمتہ اللہ ) کی پیروی کرنے کوبھی کہا۔ اسی وجہ سے قرآن شریف مسیح کے پیروکاروں کو بہترین القاب سے نوازتاہے جیسا کہ (مسیحی لوگ) خدا کے مددگار ، ایماندار ، سچے مسلمین مومنین ، خدا کے پیروکار اور شہید ہیں (آل عمران آیت ۵۲تا ۵۳)۔

                ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً(سورہ الحدید آیت ۲۷)۔

                ترجمہ:" پھر ان کے پیچھے انہی کے قدموں پر (اور) پیغمبر بھیجے اور ان کے پیچھے مریمؑ کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی۔ اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی۔

          کیا اس قرآنی حوالہ میں قرآن خود ہی اقرار نہیں کرتا کہ آخر میں سیدنا مسیح کو خدا نے بھیجا ، ناکہ محمدﷺ کو؟ شفقت ومہربانی صرف سیدنا مسیح کے پیروکاروں کے لئے ہے نہ کہ کسی اور قوم کے لئے؟ اورختمِ نبوت مسیح پر پوری ہوجاتی ہے نہ کہ محمدﷺ پر؟ مسیح نے انجیل شریف میں یوں فرمایا ہے کہ (تمام انبیاء اورپاک نوشتوں نے یحییٰ نبی تک نبوت کی )۔ سوانجیل کے مطابق توتمام الہامی کتب ونبوت وانبیاء یحییٰ نبی کے بعد تمام (آنا بند) ہوگئے (انجیل شریف بہ مطابق حضرت لوقا رکوع ۱۶آیت ۱۶)۔

          قرآن شریف میں سیدنا عیسیٰ کی بابت یوں بھی ارشاد ہواہےکہ

                        عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۖ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ(سورہ آل عمران آیت ۵۵)۔

                ترجمہ:"میں(اللہ) تمہاری(عیسیٰ مسیح) دنیامیں رہنے کی مدت پوری کرکے تم کو مرنے کے بعد اپنی طرف (مردوں میں سے زندہ کرکے ) اٹھالوں گا اور تمہیں کافروں کی صحبت سے پاک کروں گاجوتم (مسیح) پر ایمان نہیں لائے۔ اورجو (مسیحی )لوگ تمہاری (مسیح کی ) پیروی کریں گے اُن کو کافروں (غیر مسیحیوں) پر قیامت تک فائق اور غالب رکھوں گا۔ تب تم سب (دنیا کے لوگ) میری طرف پھرکر لوٹ آؤ گے"۔

          یہ قرآنی آیات مسیح کے سچے پیروکاروں کو بلند پائیہ ، خاص ،اعلیٰ ترین اور نمایاں جماعت  کےطورپر بیان کرتی ہیں۔ کہ یہ مسیحی لوگ حلیم ہیں، شیخی نہیں مارتےاور تکبر نہیں کرتے (کاشکہ مسلم لوگ بھی مسیح کی طرح حلیم اور فروتن ہوں اور شیخی نہ کریں)۔محمدﷺ ، مسیحی لوگوں کی بابت یوں وضاحت کرتے ہیں۔

            وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ(سورہ المائدہ آیت ۸۲)۔

                ترجمہ: اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم مسیحی ہیں یہ اس لیے کہ ان(مسیحی لوگوں ) میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے۔

          قرآن شریف میں لکھی گئی گواہیاں، مسیح کے عظیم ترین معجزات کی طرف اشارہ کرتی ہیں جوسیدنا مسیح کی اس قابلیت کوظاہر کرتی ہیں کہ سیدنا مسیح بغیر کسی جنگ کے اور بغیر کسی قسم کے دھوکے کے ، امن سے سماجی اورسیاسی تبدیلی لائے۔ سیدنا مسیح، نافرمان گنہگاروں کو ازسر نئی زندگی عطا کرکے تبدیل کرتے ہیں ، خود غرض  لوگوں کو پُرمحبت لوگ بناتے، اور متکبر راہنماؤں کوخدا کے حلیم خادم بناتے ہیں۔ سیدنا مسیح نے اپنی بابت ، بذاتِ خود یوں اقرار کیا کہ "ابن آدم (ابن مریم، ابن داؤد ،ابن اللہ) اس لئے نہیں آیاکہ خدمت  لے بلکہ اس لئے کہ خدمت کرے اوراپنی جان بہتیروں کے بدلے فدیہ(کفارہ/ عوض) میں دے"(انجیل عیسیٰ پارہ متی رکوع ۲۰آیت ۲۸)۔

          ہرکوئی جوسیدنا مسیح کے حیران کن کاموں کا، محمدﷺ سے موازانہ کرتاہے تواُس کو یہ انکشاف ملتا کہ محمدﷺ کا نشان تومحض الفاظ پر ہی مبنی تھا جبکہ سیدنا مسیح کی نشانیاں اُسکے عظیم معجزات تھے۔ جواُس کی الہٰی محبت اور پُرشفقت کاموں میں ظاہر ہوئیں۔

۷۔سیدنا عیسیٰ ناصری سلام وعلینہ کی وفات

 اور محمد ﷺ کی وفات

            بن ہاشم کی سوانح عمری میں یوں درج ہے کہ محمدﷺ کی وفات تیز بخار کی وجہ سے واقع ہوئی۔ اپنی موت سے قبل محمدﷺ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہودیوں کی طرف سے دئے گئے زہرنے اُن کے دل کو شکستہ سا کردیا تھا۔جب ایک یہودی ملازمہ  نے حضرت محمد کے کھانے میں زہرملادیا ، تواُس کے باعث ایک مہمان جواس کھانے میں شریک تھا وہ مرگیامگر محمدﷺ کو اس زہریلے کھانے کا احساس جیسے ہی ہوا توآپ نے کھانے کو نگلنے سے پہلے ہی اُگل دیا ۔ تاہم پھر بھی محمدﷺ کے بدن میں اس زہر کا اثر سرایت کرگیا جو آخرکار محمدﷺ کی زمینی موت کا سبب بنا۔

          لیکن قرآن شریف میں سیدنا مسیح کی موت کی واضح پیشین گوئی کی گئی تھی جوخداکے الہٰی منصوبہ کی تکمیل تھیں جس سے کل بنی نوع انسان کے لئے برکت ورحمت پاتے۔سورہ مریم کی ۳۳اور ۳۴ آیت میں قرآن شریف مسیح کی مبارک پیدائش، مبارک موت اور مبارک حالی میں مُردوں میں سے زندہ ہونے کی یوں تصدیق کرتا ، اور مسیح کے مرنے اور مُردوں میں سے جی اٹھنے کے اسلامی شک کویوں رد کرتا کہ:

                        وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا ذَٰلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ(سورہ مریم آیت ۳۳ اور ۳۴)۔

                        ترجمہ: اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام (ورحمت) ہے یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ہیں (اور یہ) سچی بات ہے جس میں(مسلم) لوگ شک کرتے ہیں۔

          قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے براہ راست مسیح سے یوں کلام کیا:

                        إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ(سورہ عمران آیت ۵۵)۔

                ترجمہ:میں(اللہ) تجھ(مسیح) کوموت دینے جارہا ہوں اورپھر تجھے اپنی طرف (مُردوں میں سے زندہ کرکے )اٹھالوں گا"۔

          یہ آیت انجیل سے نہیں بلکہ قرآن شریف سے ہے اور قرآن شریف کے مطابق، سیدنا مسیح کی وفات حادثاتی نہیں تھی، بلکہ خداتعالیٰ کی الہٰی مرضی کے موافق ، امن کی حالت میں سیدنا مسیح وفات پاگئے۔ قرآن شریف مسیح کی اس تواریخی وفات کا ہرگز انکار نہیں کرتا۔ جیساکہ چند (شک کرنے والے مسلم) بے دین یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

          ہم سورہ مریم کی آیت ۳۳ میں مسیح کی وفات کے متعلق قرآنی پیشین گوئی دیکھتے ہیں جو اللہ کی معرفت مسیح نے خود اپنے حق میں کہیں۔

          "مبارک ہے وہ دن یعنی (  Christmasکا )  دن جس دن میں (سیدنا مسیح ) پیدا ہوا اور جس دن (یعنی Good Friday ) کا دن مروں گا اور جس دن (یعنی (Easter) کے دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا۔ مجھ پر سلام ورحمت ہے"۔

          قرآن شریف میں دیا گیا یہ عظیم اقرار ثابت کرتاہے کہ مسیح، پیدا ہوئے ،مسیح نے وفات پائی اور مسیح قبر سے زندہ ہوئے۔اس بیان سے محمدﷺ نے انجیل شریف کی تعلیمات کومزید تقویت دی۔ جوکوئی مسلم، ان باترتیب تواریخی واقعات پر ایمان رکھتا ہے وہ مسیح کے ساتھ زندہ رہے گا جو(مسیح) خدا کی مانند کل اورآج اور ابد تک زندہ ہے!

          سیدنا مسیح کی اس دنیا میں دوسری آمد میں وہ(مسیح) کبھی نہیں وفات پائینگے۔ مسیح نے سورہ مریم میں یہ واضح نہیں کیا کہ وہ اپنی پیدائش کے بعد اور زندگی کے دورانیہ میں زمانہ بعید یا زمانہ ماضی میں وفات پائیں گے ۔ قرآن شریف تصدیق کرتاہے کہ مسیح پیدا ہوئے اور وفات پاگئےاور سلسلہ وار تاریخی واقعات میں مردوں میں سے جی اٹھے۔ مسیحی لوگ مسیح کی اس تواریخی وفات اورابن مریم(مسیح) کے مُردوں میں سے جی اٹھنے پر مکمل یقین رکھتے ہیں ۔ مسیح نے رضاکارانہ طورپر کامل سلامتی میں اپنی وفات کو پایا۔ہم قرآن شریف اور انجیل شریف میں یہ پڑھتے ہیں کہ مسیح پہلے سے ہی جانتے تھے کہ اُنکی وفات کیسی ہوگی۔ موسوی شریعت کے مطابق ، فسح کا کھانا کھاتے وقت مسیح نےا پنی موت کی گھڑی اور دن کی طرف اشارہ کیا۔ مسیح نے یہ ظاہر کیاکہ اُنکی وفات تمام اُن لوگوں کے لئے جو آپ پر ایمان رکھتے ہیں اُن کے گناہوں سے اورہمیشہ کی آگ سے نجات کے لئے کفارہ(فدیہ) کا باعث ہوگی۔ ہرایک انسان کوموت کا سامنا ہے۔ کیونکہ سب انسانوں (بشمول محمدﷺ) نے گناہ کیا اورخدا کے جلال سے محروم ہیں۔لیکن سیدنا مسیح نے کبھی گناہ نہ کیا۔قرآن اس کی کئی بار تائید کرتاہے ۔ مسیح اپنے گناہوں کے لئے نہیں فوت ہوئے لیکن ہمارے گناہ مسیح نے اپنے اُوپر اٹھائے اورہمارے بدلے میں جان دی۔

          سورہ مریم کے مطابق ایک معنی خیز الہٰی امن، مسیح کی موت کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے، کہ مسیح خدا کا برہ ہیں، جنہوں نے اپنی عظیم شفقت فضل اورمحبت میں تمام دنیا (میرے اورآپ کے ہم سب) کے گناہ اٹھالئے ۔ جب کہ محمدﷺ اپنے گناہوں میں عام انسانوں کی طرح مرے اور محمدﷺ کی روح کوخدا کے امن نے نہیں گھیراہوا جیسا کہ درود کی دُعا سےظاہر ہوتا ہے بلکہ عذابِ قیامت نے گھیرا ہوا ہے!

۸۔سیدنا عیسیٰ ناصری سلام وعلینہ اور

محمد ﷺاپنی اپنی وفات کے بعد

                        محمدﷺ کی وفات کے بعد اُنہیں مدینہ میں ، مٹی (خاک) کے تلے دفن کردیا گیا، اورآج کے دن تک محمدﷺ کی قبر اور قبر کے باقیات موجود ہیں۔ مسلمان یقین رکھتے ہیں کہ محمدﷺ کی روح بھی اُن مردہ ارواح کے درمیان ہیں یعنی عالم اسفل میں ہے ۔ جہاں مُردہ محمدﷺ کی روح، زندہ عیسیٰ مسیح کے ظاہر ہونے پر روزِ عدالت کا انتظا ر کرتی ہیں۔ جب سیدنا مسیح کے جلالی تخت  کے سامنے ہم سب انسانوں کو(بشمول محمدﷺ) اپنے ایمان اور اعمال کا بدلہ ملے گا اور جس کسی کی زندگی سیدنا مسیح کے آسمانی بادشاہی اصولوں کے مطابق نہ ہوگی وہ ابلیس (شیطان)اور ابلیس کے تابع دار فرشتوں (بُری ارواح) کے ہمراہ ہمیشہ کی جلنے والی آگ اور گندھک کی جھیل میں ڈالا جائے گا۔

          ہم قرآن شریف میں یہ پڑھتے ہیں کہ خدا نے اپنے وعدہ کے مطابق سیدنا مسیح کو زندہ کیا:

                عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ(سورہ آل عمران آیت ۵۵)۔

                ترجمہ:"میں (اللہ) تجھ(مسیح) کوموت دینے جارہاہوں، اورپھر تجھے اپنی طرف (زندہ کرکے) اٹھالوں گا"۔

          قرآن شریف میں مسیح کے مُردوں میں سے زندہ ہونے کے وعدے کی تائید اور تکمیل یوں ہوئی:

                        رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ(سورہ النساء آیت ۱۵۷)۔

                ترجمہ:بلکہ" خدا نے اُس (مسیح) کو اپنی طرف (زندہ کرکے ) اٹھالیا"۔

          دوسرے الفاظ میں ، خدا نے ابن مریم (عیٰسی)کوقبر میں سے پکارا اوراُنہیں مُردوں میں سے زندہ کیا۔ اب سیدنا مسیح خدا کی قربت میں ہیں۔ مسیح ہی اس دنیا میں اور آنے والی دنیا میں سب سے زیادہ ممتاز ترین ہیں۔ قرآن اُسکی تائید یوں کرتاہے:

                        يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ(سورہ مریم آیت ۴۵)۔

                ترجمہ:اے مریم !خدا تم کو اپنی طرف سے اپنے کلام(کلمتہ اللہ) کی بشارت دیتاہےجس کا نام مسیح، عیسٰی ابن مریم ہے۔ جس کی اس دنیا میں اور آنے والی دنیا میں بے انتہا تعظیم کی گئی ہے۔ (صرف وہی) مسیح خدا کی نزدیکی پانے والوں میں ہے"۔

          سیدنا مسیح کی قبر بالکل خالی ہے۔ کیونکہ سیدنا مسیح مُردوں میں سے جی اٹھے ہیں جس کی مسیح نے پہلے ہی بشارت دی ۔ لیکن محمدﷺ کی لاش کے نشانات ابھی تک قبر میں بکھرے موجود ہیں ۔ مسیح زندہ ہیں مگر محمدﷺ مردہ ہیں۔ محمدﷺ نہ توقبر سے زندہ گئےاورنہ ہی آسمان پر اٹھائے گئے۔ زندہ مسیح کی زندگی اورمحمدﷺ کی موت کے درمیان ایک ایسا شگاف ہے جسے جوڑاجانا ممکن نہیں۔ جیسا کہ زندگی موت سے بالاتر ہے۔ سومسیح محمدﷺ سے عظیم ترین ہیں۔ مسیح اپنی شخصیت میں ابدی زندگی ہیں۔ قرآن شریف زندہ مسیح کی بابت مسیح کے لئے واضح تصویر کشی کرتاہے جوابدی زندگی کے متلاشی ہیں۔

۹۔سیدنا عیسیٰ ناصری سلام وعلینہ کی سلامتی

 اور محمد ﷺ کی سلامتی

            تمام مسلمان جب بھی دعا کرتے ہیں توان کو اسمِ محمدﷺ کا یوں ذکر کرنا پڑتا ہے کہ:

                        إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

ترجمہ: بیشک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبی (مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے ہیں تاکہ اللہ اپنی سلامتی اُنہیں عطا کردیں۔

            مسلمانوں کی دُعا سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ اللہ کی سلامتی ابھی تک محمدﷺ پر نہیں آ سکی۔ اگرچہ محمدﷺ کے پیروکار وں نے صدیوں بھر محمدﷺ کے لئے دُعا کی اورکرتے رہیں گے۔ (اور عین ممکن ہے کہ آپ بھی محمدﷺ کی سلامتی کے لئے دعا گو ہوں، اورجس محمدﷺ کوابھی تک سلامتی نصیب نہیں ہوسکی ،کیا وہ محمدﷺ(نبی) آپکی ابدی سلامتی کا سبب بن بھی سکے گا، جواپنی بیٹی حضرت فاطمہ بی بی کو بھی فردوس کا دلاسہ نہ دے پایا تھا؟) بلکہ قرآن شریف میں تو محمدﷺ نے یہاں تک فرمایا دیا ہے کہ میرے بھروسے مت رہنا آئیے ہم قرآن شریف کی اس آیت کو پڑھتے ہیں جہاں وہ یہ فرماتے ہیں۔

قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ (سورہ احقاف آیت ۹)۔

ترجمہ: کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا۔ اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (کیا جائے گا)۔

          محمدﷺ کیسے نبی ہیں جسے اپنے پیروکاروں کی مسلسل خدا سے شفاعت کی ضرورت ہے؟ جبکہ حقیقت میں اس کے برعکس ہونا چاہیے تھا (کہ محمدﷺ ، سچے نبی ہوتے ہوئے اپنے پیروکاروں کے لئے شفاعت اورسلامتی کی دعا کرتے )۔قرآن شریف اس کی شہادت دیتا ہے کہ خود اللہ ، تمام فرشتوں اور تمام مسلمانوں کو شدت سے محمدﷺ کے لئے دعا کرنا چاہیے کہ کسی نہ کسی طرح محمدﷺ کوآخری عدالت کے دن (کی سزا) سے بچایا جاسکے۔

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا(سورہ احزاب آیت ۵۶)۔

ترجمہ: خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو۔

          مگرسورہ مریم میں سیدنا مسیح نے خود اپنی (سلامتی اور رحمت کی ) بابت یوں  تصدیق کی ہے کہ:

" اورجس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤ ں گا مجھ پر سلام ورحمت ہے"۔

          ابن مریم(عیسیٰ) خدائے قادر، ابدیت کا باپ  اورسلامتی کا شہزادہ ہے جس نے اپنی زمینی زندگی کو آغاز سے لے کر اختتام تک امن میں گزارہ۔ اُس (مسیح) سے ابدی سلامتی اوربرکاتِ خدا، جدا نہیں کی گئیں۔سیدنا مسیح کی پیدائش کنواری مریم سے خدا تعالیٰ کی الہٰی مرضی اور قدرت سے ہوئی۔ مسیح بغیر کسی گناہ کے پیدا ہوئے۔ خدا کا اطمینان اورسلامتی مسیح کے ساتھ شروع زندگی سے ہی رہا۔ مسیح کی پیدائش پر اسی حقیقت کے پیش نظر آسمان کھل گیا اورپاک آسمانی فرشتوں نے خدا باپ کی عزت میں اورمسیح کی مبارک پیدائش پر یوں حمد وستائش کا گیت گایا:

          "عالم بالا پر خداکی تمجید ہو اور زمین پر اُن آدمیوں میں جن سے وہ راضی ہے صلح"(انجیل عیسیٰ پارہ لوقا رکوع ۲: آیت ۱۴)۔

          سیدنا مسیح اپنی حقیقی موت مرے۔وہ(مسیح ) اپنے گناہوں کے لئے نہیں بلکہ ہمارے گناہوں کی خاطر وفات پائی۔ حتیٰ کہ مسیح نے اپنی موت بھی خدا کے ابدی سکون کوپایا انبیاء اورتمام انسان آدم کے موروثی گناہ اوراپنے نفرت انگیز اور گھنونے گناہوں کے باعث مرتے ہیں"۔کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے (انجیل شریف خطِ اہلِ رومیوں رکوع ۶آیت ۲۳)۔"جوجان گناہ کرے گی ضرور مرے گی(کتابِ مقدس صحیفہ حضرت حزقی یل رکوع ۲۰آیت ۱۸)۔لیکن یہ خدا کی بڑی خوشنودی تھی جب مسیح نے وفات پائی کیونکہ مسیح کی عوضی وفات سے خدا اور بنی نوع انسان درمیان صلح اورملاپ ہوا ہے۔ اورانسانیت پر خدا کا غضب جاتارہا ہے۔ سومسیح کی موت خدا کے ابدی اطمینان کے اختیار میں تھی اورمسیح کی موت اور زندہ ہونے پر ایمان لانے سے آج ہم بھی خدا کے اطمینان کی حالت میں مسیح کےساتھ ہوسکتے ہیں۔

          سیدنا مسیح کا مُردوں میں سے جی اٹھنا اُنکی پاکیزگی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اگرمسیح کی تمام زندگی میں صرف ایک بھی گناہ موجود ہوتا توموت کی جائیز طاقت اُسے پالیتی اوراُسے اپنی گرفت میں لئے رکھتی،محمدﷺ کوایسی یا (گناہ آلودہ موت کی) حالت کا سامنا ہوا اورمحمدﷺ ابھی تک موت کے شکنجے میں ہیں اور رہیں گے۔لیکن سیدنا مسیح نے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ ہرگز نہ کیا اسی وجہ سے ، مسیح کی موت کی تاریکی پر فتح مند ہوکر زندہ ہوا اور گناہ ، موت اور شیطان پر غالب ہوئے۔ مگرافسوس محمدﷺ مُردہ ہیں!

          تمام مسلمان اس حقیقت کا اقرار کرتے ہیں جب بھی وہ مسیح کے نام اظہار کرتے اورکہتےہیں " خدا کی سلامتی اُس(مسیح) پر ہے"۔(علیہ السلام)۔

          مسلمان بخوبی اس حقیقت سے واقف ہیں اورتائید کرتے ہیں کہ خدا کا کامل اطمینان مسیح کے ساتھ ہے۔

          اگرچہ محمدﷺ کومکہ میں ، مقامی عربوں کے جدی پُشتی  مذہبی ایمان کو چیلنج کرنے کےباعث ،ناگوار مصائب کا سامنا ہوا۔ لیکن جب محمدﷺ نے معاشی اورسیاسی طورپر غلبہ حاصل کرلیا، توتب محمدﷺ نے اپنے دشمنوں کے خلاف، نفرت سے بھرپور ، زبردست حملہ آورمہمات اورخونی جنگوں کا آغاز کردیا۔ بعض اوقات محمدﷺ کا رویہ ایسا ہوتا جس میں محمدﷺ نے توکسی کی برداشت کرتے اورنہ ہی محمدﷺ کسی کو معاف کرتے تھے۔قرآن شریف میں سولہ(۱۶) مرتبہ یہ حکم ہے کہ تمام بے دین دشمن مارے جائیں ۔ اور(بمطابق ۲ احادیث )نہایت ہی کمزورسی احادیث کے)جو کوئی مسلمان محمدیت کوترک کرے وہ بھی مارا جائے(جبکہ قرآن کی کوئی بھی ایک آیت، ترک اسلام کرنے والے کو قتل کی سزا نہیں دیتی)۔

          (کیا جب تک حیاتِ بانی اسلام میں اور قرآن /احادیث اور اسلامی شریعت میں قتل وغارت  ،خون وکشت ، جہاد ، نفرت ، انسانی تفریق ، عورتوں کے مردوں سے نصف حقوق ، غیروں کو کافر اورکم ترین اقرار دیا جاناباقی ہےاورجب تک مسلم اقوام کی جانب سے ایسے غیر انسانی بلکہ حیوانی  روئیے کا عملی طورپر اطلاق جاری ہے اور اخلاق سے گری گالیاں دینا ،غیر مسلموں کو اغوا کرنا، اورجنسی تشدد  کرنا ، لوٹ مارکرنا، اور اس طر ح کے دیگر گھنونے ھتکنڈے جوروز سننے میں آتے ہیں ۔کیا قرآن اور محمدیت اورموجودہ اسلامی حکومتیں ، دنیا میں انسانی اخوت ، مقامی اور عالمی امن، بھائی چارہ اورمحبت اور معافی ، برداشت ، انسانی مساوات  اور حقوق انسانی، مذہبی آزادی ، کوفروغ دینے کا دعویٰ کرسکتےہیں؟)کس طرح اسلام ،پاک معاشرہکی تشکیل کرسکے گا ، جب کہ محمد ﷺ خود ایک سے زائد چودہ بیویاں  رکھ کر زناکاری کا شکار رہے اور اسی طرح  اپنے پیروکار وں کو(چار عورتوں کے ساتھ شادی کی اجازت دے کر) زناکاری کو ا یک شرعی حیثیت دے گئے۔جب کہ خدا نے آدم کے لئے ایک بیوی کا انتظام کیا تھا ۔ اور سیدنا مسیح نے بھی آدمی کے لئے ایک ہی بیوی کی اجازت دے کرایک آدم اورایک حوا جیسی شادی کے الہٰی اصول کی تصدیق کی۔ (اسلامی مساوات کے مطابق مسلم مومون عورتوں  (کی خاموش آواز)!چار مرد رکھنے کی اجازت؟)۔

          (جس نے ایک انسان کو قتل کردیا اُس نے تمام انسانیت کو قتل کردیا ) اسلام کے اس دعویٰ کے مطابق بانیِ اسلام اورآج کا مسلم ضمیر ، خدا کو کیا جواب دے گا۔ جب حضرت محمدﷺ اورمسلمان جہاد والے خونی ہاتھوں سے خدا کے مسیح کی عدالت کے سامنے حاضر کئے جائیں گے؟ خداکی بنائی ہوئی ، انسانیت کے خلاف، قتل وغارت وتلوار وظلم وبربریت اورہر طرح کے تشدد کی بابت خود قرآنی احکامات کیا کہتے ہیں؟

          (اس قرآنی متن سے ہٹ کر مسلمانوں کی موجودہ ہر طرح کی نرم یا فرق تشریح ، بھلے مسلمان سے شروع کرکے آخری مسلمان کے ہاتھوں کو کیسے خون کے جرم سے خلاصی دے سکتی ہے؟)۔

                وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِن قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ

(سورہ بقرہ آیت ۱۹۱)۔

                ترجمہ: اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکے سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو۔ اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل وخونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا۔ ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کرڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے۔

          (مسلم علماء یہودیوں اور مسیحیوں کی بابت کفر (کافر)کافتویٰ لگانے کے ہر گز مجاز نہیں ہوسکتے  کیونکہ یہودی اور مسیحی لوگ دونوں خدا ، اسکے فرشتوں ، اسکے پاک نوشتوں (توریت ، زبور ، انجیل)اُن کتب میں درج  انبیاء اور قیامت اور روزِ جزا اور آئندہ کی زندگی کی بابت پختہ ایمان رکھتے ہیں اور کسی بھی مومن کے ایماندار ہونے کی بھی نشانیاں  بھی ہیں اور قرآن میں یہودیوں اور مسیحی لوگوں سے جہنم کا ہرگز وعدہ  نہیں۔ بلکہ یہودیوں اور مسیحیوں کو ان کو اپنی اپنی الہامی کتب کو ماننے اور قائم کرنے اور ان پر عمل کرنے کا قرآنی فیصلہ ہے۔اورجب یہودیوں اور مسیحیوں سے جہنم کا وعدہ  ہی نہیں بلکہ آسمان کی بادشاہت کا وعدہ ہے تواس طرح یہودیوں اور مسیحیوں کوکافر قرار دیا جانا ، ممکن ہی نہیں !مگر افسوس ہے کہ موجودہ مسلمان ذہن، الکتاب کے ماننے والوں (یہودیوں اور مسیحیوں کو اپنی بدنامِ زمانہ جاہلت  کی  بے شرمی  میں ابھی بھی) کافر ہی سمجھ کر اپنے اسلامی ایمان سے خود ہی منحرف ہونا اور دوزخ  وجہنم کی سزا کا حق دار بنتا جاتا ، اورخدا کا غضب کماتاہے۔

                        فَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِيَاءَ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ ۖ وَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا(سورہ نساء آیت ۸۹)۔

                ترجمہ: جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن کو) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ۔

          جہاں پاؤ قتل کردو۔ اور اُن میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ"۔

          (یہاں پھر ، انسانیت کے خلاف نفرت اور دشمنی کی تعلیم قرآن میں نظر آتی ہے اور غیر مسلمانوں  کا نقلِ وطن پر مجبور کیا جانا نظر آتا ہے۔ اور افسوس کہ خون وکشت کا شیطانی حکم بھی مسلمانوں کو قرآن میں ملتاہے۔ جب کہخدا تو انسان کی جان بچاتا مگر کیا شیطان  مسلمانوں میں ہوکر خدا کے اشرف المخلوقات  انسان کو تباہ اور برباد نہیں کرناچاہتا ؟)۔

                        وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ(سورہ انفال آیت ۳۹)۔

                        ترجمہ: اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے۔

          (یہاں قرآن محبت اور بھائی چارہ اورانسانی مساوات کے خلاف، لڑائی کا حکم دینا اور وہ بھی خدا کے ان لوگوں کے خلاف جن کو اس نے چن لیا اور یہودیت اور مسیحیت بھی خدا ہی کی طرف سے  مقرر کردہ الہٰی دین ہیں کیونکہ توریت اور زبور اور انجیل ، خدا ہی کاکلام ہیں اور اس کے ماننے والے بھی خدا ہی کے مومن لوگ ہیں!

                        فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ(سورہ توبہ آیت ۵)۔

                ترجمہ: جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو اور پکڑلو اور گھیرلو اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔

          (کیاعزت کے مہینوں نے کے علاوہ خدا کے باقی مہینے بے عزتی کے  مہینے نہیں؟ مشرکوں یعنی بت پرستوں کوکیا قتل کےذریعہ خدا کے پاس لایا جانا ممکن ہے۔ یا اُن کو قتل کرنے والا مسلمان خود بھی اور بُت پرست  بھی خدا کی جہنم میں دوزخی ٹھہریں؟(کیا یہودی لوگ، مشرک ہیں، جوخدا ہی کی طرف سے نازل شدہ سچی الہامی توریت، زبور کے ماننے ؟ کیا مسیحی لوگ مشرک ہیں، جو خدا، مسیح اورپاک روح کے باہمی ایک تعلق کو ، توریت اور زبور اورانجیل کے الہامی نوشتوں کے حکم ہی کے مطابق ماننے؟ اور توریت اورانجیل میں کسی طرح کی تحریف اور تبدیلی کو، ثبوتوں کے ساتھ ثابت کرنے میں ساری دنیا کے مسلمان سرے ہی سے ناکام ہیں؟)(یہاں قران مسلمانوں کوپھر خون بہانے قتل وغارت کرنے کا حکم دیتا اوراکساتا ہے ۔ کیا اسلام میں قتل وغارت کے علاوہ ، محبت اورنیکی وپاکیزگی کے عمدہ نمونہ کے ساتھ انسانیت کو خدا کے پاس لانے کا کوئی اورطریقہ نہیں۔ سوائے قتل وغارت ولڑائی واغواء اور زناکاری کے؟)

          ہائے افسوس! محمدﷺ اس دنیا میں امن لے کر نہیں آئے بلکہ بہت سی جنگیں۔ محمدﷺ نے اپنے پیروکاروں کو ۳۰ سے زیادہ مرتبہ مسلح معرکوں اورجہاد کے لئے بھیجا۔ وہ خود اُن جنگی حملوں میں شامل ہوئے اور ۲۹ مرتبہ جنگی مہمات کیں۔ آپ نے اپنے لوگوں حکم دیا کہ آپ کے تمام دشمن قتل کردئیے جائیں۔ محمدﷺ اسلامی مومنوں کے لئے قتل کرنے والے اور عرب ریاست میں جنگی  راہنما ٹھہرئے۔

          اس کے برعکس سیدنا مسیح دل کے فروتن اور حلیم تھے۔ یہودیوں نے آپ کو شدید ایذارسانی پہنچائی ، لیکن سیدنا مسیح نے اپنا دفاع تلوار سے نہیں کیا۔ آپ نے اپنے پیروکاروں کواُنکے دشمنوں کا خون بہانے سے منع کیا،آپ نے اپنے ایک صحابی (حضرت پطرس) کو حکم دیا " اپنی تلوار کومیان میں کرلو کیونکہ جو تلوار چلاتے ہیں وہ سب تلوار سے ہلاک کئے جائیں گے(انجیل شریف راوی حضرت متی رکوع ۲۶آیت ۵۲)۔کوئی بھی مسیحی جو جنگی ہتھیاروں کے ساتھ مسیحی دین کے پھیلاؤ کے لئے جنگ کرتا اور لوگوں کا خون بہاتا ، وہ خدا کی الہٰی مرضی کی خلاف ورزی کرتاہے۔ اورسلامتی کے شہزادہ (سیدنا مسیح ) کی نافرمانی کرنے پر، سزا کے لئے ضرور ہی روزِ عدالت میں حاضر کیا جائے گا۔ اس کے برعکس مسلمانوں کا یہ خیال ہے کہ جوکوئی جہاد میں مارا جائیگا وہ فوراً جنت کا حق دار ہوگا۔ مسیح واحد ہستی ہیں جنہوں نے بغیر کسی لڑائی اور قتل وغارت کے حقیقی امن کو قائم کر رکھا ہے۔ محمدﷺ نے ہر مسلمان پر یہ (شیطانی ) فرض عائد کیا ہےکہ وہ اپنے دشمن (انسانیت)  کے خلاف کریں(النساءآیت ۹۵تا ۹۶۔ الفرقان آیت ۵۲)۔

          سیدنا مسیح نے اپنے دشمنوں کوبچانے کے لئے اپنا بیش قیمت خون بہایا، کہ دشمن بھی سزا وار ٹھہرائے نہ جائیں۔ بلکہ مسیح نےا پنے دشمنوں کے لئے یوں دعا کی" اے باپ (پروردگار) اُن کومعاف کیجئے کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں(انجیل شریف راوی حضرت لوقا رکوع ۲۳آیت ۳۴)۔

 

۱۰۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بے مثال نشان

(آیت اللہ،کلمتہ اللہ،روح اللہ)

            اسلامی تخلیقی تحریک مسیح کو" آیت اللہ" کے طورپر پیش کرتی ہیں۔ اسلام کے مطابق خدا نے سیدنا مسیح اوراُنکی والدہ ماجدہ بی بی مریم بتولہ کو لوگوں کے لئے نشان ٹھہرایاہے:

                        وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ(سورہ مریم  آیت ۲۱)۔

            ترجمہ:"ہم  (اللہ) نے مسیح کو تمام لوگوں کے لئے اپنی طرف سے نشانی اور ذریعہ رحمت ومہربانی بناکر مقرر کیا ہے"۔

          (مسیح خدائی نشان اور رحمتِ باری ہیں!)۔

            فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِّلْعَالَمِينَ(سورہ الانبیاء آیت ۹۱)۔

                ترجمہ:"ہم(خدا) نے مریم کےبطن (رحم) میں اپنی (الہٰی) رُوح پھونک دی اورمریم کو اور مریم کے بیٹے کوتمام انسانیت کے لئے نشان ٹھہرادیا ہے"۔

          (یہاں توصرف اور صرف سیدنا مسیح کو ہی نشان ٹھہرایا گیا )!

          (افسوس کہ یہاں محمدﷺ اور محمدﷺ کی والدہ ماجدہ کو انسانیت کے لئے نشان نہیں قراردیا گیا)۔

          سیدنا مسیح نے بے مثال لقب آدمیوں سے نہیں پایا بلکہ براہ راست خدا سے پایا۔ آپ نے یہ لقب"آیت اللہ"  یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم میں کامیابی پانے کے بعد حاصل نہیں کیا۔ بلکہ سیدنا مسیح نے دنیا میں اپنی پیدائش ہی کے دن سے اس منفرد لقب کو پالیا۔ اس کے برعکس مسلمان شیعہ نے اس بلند رُتبہ کو اپنے اُن نمایاں  علماء کے لئے الگ کیا ہے۔ جنہوں نے اس رُتبے یعنی آیت اللہ ، کو حاصل کیا ، جس کامطلب " نشان اللہ" ہے۔ بہت سے مسلمان خمینی کو بڑھا چڑھا کر عزت دینے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ وہ نہ صرف اُسے " آیت اللہ" (نشانِ اللہ)بلکہ (نعوذ بااللہ)"روح اللہ" (اللہ کی روح ) کہتے ہیں۔ مسیحیوں (اور تمام دنیا کو)یہ" نشان خدا" (آیت اللہ) سیدنا مسیح کی صورت میں ۲۰۰۰ سے قبل ہی دیا جاچکا ہے ۔ شیعہ  مسلمانوں کا آیت اللہ توحال ہی میں دریافت ہوا ہے۔ اور سیدنا مسیح اور خمینی میں کیا فرق ہے؟ ان دونوں کے درمیا ایک ایسا خلا ہے جس کو عبور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مسیح نے بیماروں کو شفادی کوڑھیوں کو پاک صاف کیا۔ مُردوں کو زندہ کیا ۔ بھوکوں کو کھانا کھلایا ۔ مصیبت زدوں کے لئے تسلی کا باعث بنے ، دشمنوں کے لئے برکت چاہی ، خدا اور انسان کےدرمیان صلح کے بندھن کو قائم کیا اور کروڑوں بلکہ عربوں انسانوں کو روزِ محشر کی ہولناک تباہی سے بچایا۔ اس کے برعکس خمینی نے تباہ کن جنگوں میں لوگوں کی رہنمائی کی جوعراق اور افغانستان میں لڑی گئیں جہاں لاکھوں مسلمان اور دیگر لوگ ہلاک ہوئے، اپاہج ہوگئے، ماتم کا سامنا کرنا پڑا اپنے گھروں اور روزگار سے محروم ہوگئے۔ اُس نے ہرایک پر لعنت بھیجی جوبھی اُس کو اسلام کا دشمن نظر  آیا خاص کر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لئے۔ یہ کیسا ناقابلِ بیان فرق مسیحیوں کے آیت اللہ اور شیعہ کے آیت اللہ میں ہے۔سیدنا مسیح گنہگاروں گنہگاروں کو ڈھونڈنے اور نجات دینے آئے ہیں۔ جبکہ انسانی اورنام نہاد آیت اللہ ،انسانی زندگی کوتباہ اور برباد کرنے آئے۔ جس کی ایک مثال کیا رسلیمان رشدی جیسی نہیں، جس پر دنیاوی آیت اللہ نے قتل کا فتویٰ تودے دیا مگراسکے ٓخیالات(شیطانی آیات) کا قرآن یا اسلامی تاریخ سے نیکی ،محبت ومعافی سے جواب دینے قاصر رہے۔

          بچارے سُنی ملسمان علماء نے انسانی آیت اللہ خمینی کے لئے سخت ناراضگی کا اظہار کیا جب اُس نے اپنے پیروکاروں کو اپنے لئے (نعوذ بااللہ)"روح اللہ" یا " روح القدس " کہنے کوکہا۔ جبکہ محمدﷺ نے اپنے لئے ایسے کوئی القاب اختیار نہ کئے۔سُنی علماء مختلف عرب ممالک سے کازابلانکا(مراکش) میں جمع ہوئے اوراُنہوں نے خمینی کو اس کے لقب(روح اللہ) سے پکارنے کی اس مشق کو جاری رکھنے کے لئے مزاحمت کی۔ مراکش کے بادشاہ حسن دوئم نے عوام کے سامنے اعلان کیا کہ اگر خمینی  اپنے پیروکاروں کو روح اللہ یا روح القدس جیسے القاب کہلوانے سے نہیں روکے گا۔ تواُسے اسلام سے خارج کردیا جانا چاہیے اوربطور مسلمان ہونے کی حیثیت سے اُسے کوئی عزت نہیں ملنی چاہیے۔ فرمانرواشاہ حسین کے اس اعلان کی بنیا قرآنی  آیات پر تھی کہ تاریخِ دنیا میں ایک ہی واحد ہستی "روح اللہ" کہلوانے کی حق بجانب ہے۔ یعنی عیسیٰ ابن مریم ، کیونکہ وہ پاک روح سے پیدا ہوئے۔شیعہ حضرات کوملامت کرتے ہوئے سُنی حضرات  اس سچائی کا واضع اقرار کرتے، کہ مسیح ہی واحد شخصیت ہیں جو خدا کی روح سے پیدا ہوئےہیں۔ خمینی ، لوگوں کی طرف سے شیعہ حضرات کے لئے ، انسانوں کی طرف سے اللہ کا نشان مقرر کیا گیا جو بیشتر وقت ایران میں رہا۔ مگر سیدنا مسیح حقیقی" خدا کا نشان" (آیت اللہ) تمام بنی نوع انسان کے لئے ہیں۔ وہ نا صرف" خدا کا نشان" مسیحیو ں اور یہودیوں کے لئے، بلکہ ہندوؤں ،بدھ مت کے ماننے والوں، ملحدوں، مسلمانوں اور دیگر تمام دوسرے مذاہب کےلئے اور ہاں(قاری آپ لئے بھی )خدا کا نشان ہیں۔افسوس کے محمدﷺ ، خداکی طرف سے ایسے مسیحائی نشان کے لقب سے محروم ہی رہے۔ جوکوئی بھی مسیح کی زندگی کا گہرائی سے مطالعہ کرتا ہے وہ یہ جان لے گاکہ مسیح ہی روح اللہ اورکلمتہ اللہ ہوتے ہوئے کامل آیت اللہ اور حقیقی" خدا کا نشان"ہیں۔

۱۱۔مسیحا خدا کی رحمت حمت اللہ)

                        ہم قرآن شریف میں پڑھتے ہیں کہ اللہ نے مسیح کے لئے یہ کہہ کر پکارا:

                        وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا(سورہ مریم آیت ۲۱)۔

                ترجمہ:وہ(مسیح) لوگوں کے لئے ہماری (خدا کی ) طرف سے نشانی اور ذریعہ رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں"۔

          قتل وغارت اور زنا کرنے اورایسے ہی حکم دینے کے باوجود ، محمدﷺ کوبھی قرآن شریف میں "رحمت" کہا گیا :

                وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ(سورہ الانبیاء آیت ۱۰۷)۔

                ترجمہ:ہم نے تجھ(محمد) کونہیں بھیجا سوائے دنیا میں رحمت کے لئے"۔

          یہ جاننا لازم ہے کہ جس قسم کی وحی محمدﷺ پر نازل ہوئی وہ مسیح پر نازل ہونے والے الہام سے اُلٹ ہے۔مسیح اورمحمدﷺ پر نازل ہونے والی رحمت اورحمت کے معنی اور رحمت سے متعلقہ شامل شدہ باتیں  بھی بنیادی طورپر دونوں کے لئے فرق ہے۔

          کسی فرشتہ نے محمدﷺ کو قرآن بول بول کر لکھوایا(جب کہ محمدﷺ کو لکھنا اور پڑھنا نہیں آتا تھا) سیدنا مسیح کوکسی فرشتہ یا کسی اور وسیلہ کی ضرورت نہ ہوئی۔ کیونکہ وہ اپنی ہی ذات میں خدا کا کلام(کلمتہ اللہ ) تھا (جس کو خدا کی اپنی ذات نے خود لکھنا پڑھنا سکھایا تھا) جس نے انسانی جسم لیا۔ جس طرح کہ بائبل مقدس اور قرآن کے الہام میں وسیع فرق ہے اُسی طرح مسیح اور محمدﷺ پر رحمت نازل ہونے کا فرق اُسی طرح مسیح اورمحمدﷺ پر رحمت نازل ہونے کا فرق ایک ایسی خلیج کی مانند ہےجس کو عبور کیا جانا ممکن ہی نہیں۔ محمدﷺ کی وحی کی قرآن میں، اسکے اقوال ، احادیث، کی صورت (روایات اسلام) اورمحمد ﷺ کی عملی زندگی کے روز مرہ کے کام کاج میں آنے والی باتوں(سنت) میں بھی پائےجاتے ہیں۔ ان تینوں ذرائع (قرآن ،روایات اسلام اور سنت ) کو ایک ہی جگہ یکجا کرکے اسلامی قانون (شریعہ) کی تشکیل کی گئی ہے۔ جس میں کرنے اورنہ کرنے والے احکامات ہیں۔ قانونِ شریعہ،ایک مسلمان کی زندگی کے بیشتر پہلوؤں کومنظم کرتا، جس میں روز کی نماز،نماز سے پہلے کاوضو، رمضان میں روزے ،مذہبی ٹیکس(زکوات وغیرہ) حج،ختنہ اورکفن دفن شامل ہیں۔ شریعت ، خاندانی تصور، میراث، معاہدہ، جہاد(مذہب کے نام پر جنگ) اور ایذارسانی کی سزاؤں کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ مسلمان کی زندگی پر اسلامی یا محمدی شریعت کاراج ہے، جواسلامی فلسفہ کے مطابق، مسلمانوں پر اللہ کے آخری رحم کا اظہار ہوسکتا(؟)۔

          انجیل شریف سے ہمیں خبردار ی ملتی کہ کوئی انسان بھی شریعت کے تابع ہوکر راست باز نہیں ٹھہرسکتا۔ کیونکہ کوئی ایک شخص بھی شریعت کے ایک ایک (حکم) تقاضہ کو انتہائی درستگی سے پورا نہیں کرسکتا۔ حتیٰ کہ اسلامی قانون کی، خود مسلمانوں سے ،متواتر خلاف ورزی ہوتی رہتی۔ لاکھوں لاکھ مسلمان، روزانہ پانچ اوقات کی نماز کے حکم کی تعمیل سے نظر چُرا تے نظر آتے۔ کئی دوسرے لاکھوں مسلمان ، رمضان میں روزے کی باقاعدہ پابندی نہیں کر پاتے، بیشتر مسلمان اپنا مذہبی  ٹیکس (زکوات وغیرہ)کی پوری اورواجب رقم کی ادائیگی  میں دغا بازی سے کام لیتے ، جس کو ادا کرنا ان کا مذہبی فرض ہے۔ اور پیشتر مسلمان اپنے مقاماتِ مقدسہ(حج وغیرہ) پر حاضری دینے سے قاصر رہ جاتے، علاوہ ازیں ایک ایسا ہی شخص اپنی بیوی اور بچوں کے خلاف ، کئی بار گناہ کا مرتکب ہوتا اورکتنی بار وہ اپنے کاروبار کے معاہدوں کو دھوکہ مجبوری یا جبر سے توڑتا، اورکتنی بار ایسے اشخاص کے ہونٹوں نے مکر اور جھوٹ بولاہے؟ ان میں کوئی ایک ایسا شخص نہیں جوغرور ، عداوت، نفرت اورباطن کی اندرونی غلاظت سے کبھی میلا اورناپاک نہ ہوا ہو۔ خدا کی شریعت توہر ایک انسان کواسکے کاموں، الفاظ اور نیت اور گناہ آدم کے باعث مجرم ٹھہراتی ہےشریعت  کا انجام،توہرایک گنہگار کے لئے ، اسکی شریعت کو پورا نہ کرنے، اسکے جرم اوراسکی بدعنوان بگڑی حالت کے لئے سزا کی عدالت ہے۔ قانونِ محمدی میں مسلمانوں کواللہ کی جانب راغب کرنے کی کوشش نظر آتی۔ ابراہیم کی اولاد کے لئے موسیٰ کی شریعت کا مرکز خدا اوراُسکے کلام پر ہے۔ شریعت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو مکمل طورپرخالقِ خدا کے سپرد کریں اوراُسی کی ہی اطاعت کریں۔ لیکن کوئی بھی شریعت گنہگار کوراستباز ٹھہرا نہیں سکتی اورنہ ہی احساسِ جرم سے آزاد کرسکتی ہے۔ شریعت تو گنہگاروں کا انصاف کرنے اوراُن کو برباد کرنے کے لئے دی گئی تھی۔ کیونکہ شریعت کے مطابق آتش جہنم ہی سب کی منزل ہے۔ شریعت صرف ایک منصف کی حیثیت رکھتی ہے۔ کوئی بھی بشر اس قابل نہیں کہ شریعت کے تقاضوں کو پورا رکرسکے ۔ مذہبی رحجان رکھنے والا ہر شخص اپنے گناہوں سے خدا کی معافی کوحاصل کرنے اور نجات پانے آرزو اور اُمید رکھتاہے۔ مگر مسلمانوں کی سوچ یوں ہے " نیک اعمال بُرے اعمال کودُور کردیں گے"۔

إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ (سورہ ہود  آیت ۱۱۴)۔

                        لیکن اسلامی عقیدے کے مطابق کسی بھی مسلمان کوروزِ محشر پر اُسکے گناہوں کی معافی غیر یقینی ہے۔ اسلامی قوانین گناہوں کی متبادل قربانی پیش نہیں کرتے ، اورنہ ہی مسلمانوں کو اُن کے گناہوں سے نجات دلاسکتے ہیں۔

          ہرمسلمان کوقیامت کے دن اُسکے (گناہ آلودہ فطرت میں کئے ہوئے)۔ اعمال کا صحیح بدلہ ملے گا۔ جب اُسکی تمام بدکرداری اور سراسر ناکامی  ظاہر ہوگی۔ بلآخر شریعت خود اپنے پیروکاروں کو مجُرم ٹھہرائے گی۔صدافسوس !کہ محمدﷺ نے یہ تسلیم کیاکہ اُسکے تمام پیروکار یقینی طورپر جہنم کی آگ میں ڈالے جائیں گے:

                        فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَالشَّيَاطِينَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا۔۔۔۔۔۔۔ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا(سورہ مریم آیت ۶۸ اور ۷۱)۔

ترجمہ: ہم اُن کو جمع کریں گے اور شیطان کوبھی ، پھر ان سب کو جہنم کے گرد حاضر کریں گے اور وہ گھٹنوں پر گرے ہوئے ہونگے۔۔۔۔ اورتم میں ہرایک شخص کو ۔۔۔۔ اس (دوزخ) میں جانا ہوگا۔ یہ تمہارے خداوند کی طرف (تم پر) لازم مقرر ہے"۔

          یہاں اسلام میں اللہ اورقرآن نے وعدہ کیا ہے کہ ہر مسلمان کو دوزخ /جہنم میں جانا ہی ہوگا۔

                        جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ(سورہ ھود آیت ۱۱۹)۔

                ترجمہ: اوراسی طرح کے اختتام کے لئے اس (اللہ) نے ان (انسانوں اور جنات)کوپیدا کیا ہے اورتمہارے پروردگار کا قول پورا ہوگیا کہ میں (اللہ) دوزخ کو روحوں(جنات) اورانسانوں سب سے بھردونگا"۔

          (یہاں ہر مسلمان سے اسلامی اللہ اورقرآن پھر وعدہ کررہاہے کہ ہر محمدی کودوزح اورجہنم میں جانا ہی ہے۔ جبکہ سیدنا مسیح (کلمتہ اللہ اور روح اللہ) گنہگاروں کو ڈھونڈھنے اور نجات دینے اورانسانیت کی جان بچانے آیا ہے)۔

          ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ تمام یہودی ، مسیحی، ہندوؤں، بدھ مت کے ماننے والے اور تمام مسلمان فطرتی طور پر آدم اور حوا کے گناہ کے باعث گنہگار ہیں۔ کوئی بھی نیک نہیں، " اسلئے کہ سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں"۔ (انجیل شریف خط رومیوں رکوع ۳آیت ۲۳)۔صرف مسیح ہی نے شریعت کے مطابق زندگی بسر کی اور یہ تقاضہ کیا کہ ہم سب اُس کی پاک محبت اور فضل میں انجیلی احکام کوپورا کریں۔مسیح کے سامنے آخری منزل محض شریعت کو قائم کرنا ہی نہیں تھا جوبنی نوع انسان کو مجرم ٹھہراتی مگر مسیح نے خدا کے فضل کوسب پر ظاہر کیا اور بلاقیمت ان سب کو راستباز ٹھہرایا جو خدا پر سیدنا مسیح کے وسیلہ ایمان لائیں گے۔مسیح نے ویسے ہی زندگی بسر کی جیسے آپ کی تعلیم تھی اورآپ نے اپنی ذات میں شریعت کو مکمل کیا اورآپ نے یہ ثابت کردکھایا کہ آپ ہی وہ خدا کابرہ ہیں ۔ (کلمتہ اللہ، روح اللہ ) ہے جو دنیا کے گناہ اٹھالے جاتاہے۔(آپ قاری کے گناہ بھی) (انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا ۱: ۲۹)۔

          ۷۰۰ قبل از مسیح یسعیاہ نبی نے مسیح کے لئے یہ پیشین گوئی کہ ایک ایسا شخص آئے گا جوہمارا عوضی اور ہماری جگہ خدا کی عدالت کی سزا برداشت کرے گا" توبھی اس(مسیح) نے ہماری (انسانیت) کی مشتقتیں اٹھالیں اور ہمارے غموں کو برداشت کیا۔پر ہم نے اسے (مسیح) کو خدا کا مارا کوٹا اور ستایا ہوا سمجھا حالانکہ وہ (مسیح) ہماری (تمام انسانیت کی ) خطاؤں کے سبب سے گھائیل کیا گیا اورہماری (تمام انسانیت  کی ) بدکاری کے باعث کچلا گیا ۔ہماری ہی سلامتی کے لئے اُس (مسیح) پر سیاست ہوئی تاکہ اس (مسیح) کے مارکھانے سے ہم (سب انسان) شفا (معافی ،نجات اورہمیشہ کی زندگی )پائیں۔ہم سب(انسان) بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے ہم سے ہرایک (انسان) اپنی راہ کو پھرا  سب کی بدکرداری اُس (مسیح) پر لادی "(یسعیاہ ۵۳باب آیت ۴تا ۶)۔

          سیدنا مسیح نے اپنے پیروکاروں کو شریعت کی لعنت سے بچایا۔ اور روزِ عدالت کی سزا سے آزاد کیا۔ مسیح اُنہیں راستباز ٹھہراتے جوآپ کے (انجیلی کلام اور صلیبی کفارہ کی قربانی کی موت اوراسکے مردوں میں سے زندہ ہوجانے کو) قبول کرتے اور اُس پر (حیاتِ ابدی کے لئے ) ایمان لے آتے ہیں۔ یہ بالکل یقینی بات ہے کہ سیدنا مسیح نے خداتعالیٰ کی انسانوں کے ساتھ صلح کرادی اورانسانیت کو ابدی اطمینان بخش دیا ہے۔ پولوس رسول ہمیں یہ روحانی امتیاز قبول کرنے کے لئے پُرزور یوں فرماتے ہیں:

          " خدا سے میل ملاپ کرلوجو(مسیح) گناہ سے واقف نہ تھا اسی(مسیح) کواس(خدا) نے ہمارے (انسانیت کے)واسطے گناہ ٹھہرایا تاکہ ہم (سب انسان )اُس (مسیح) میں ہوکر خدا کی راستبازی ہوجائیں"(انجیل شریف ۲۔ کرنتھیوں رکوع ۵آیت ۲۰سے ۲۱)۔

۱۲۔سیدنا مسیح سلام وعلینہ میں

 اورمحمد ﷺمیں عظیم ترین کون؟

(مندرجہ بالا دلائل کے پیش نظر ، کیا یہ نہایت ،سنجیدہ سوال مناسب طورپر عظمتِ محمدﷺ کی طرف اشارہ کرسکتاہے؟)

          انسانی اور زمینی گنہگار سوچ کے مطابق اگرچہ مسیح اور محمدﷺ ،دونوں ، قبولیت کے اُس معیار تک پہنچے ہیں۔ جس پر کسی اورمذہب کا بانی نہیں پہنچ سکا ہے۔اسلام کے بانی کی وفات کے ۱۵۰۰ بعد مسلمانوں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہوچکی ہے۔ مسیح کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کی تعداد پہلے ہی سے دو ارب کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ان گذشتہ  صدیوں میں کسی بھی سیاسی جماعت، کسی فلسفہ یا نظریہ کو اتنی حمایت نہ ہوئی جتنا کہ مسیح اور محمد ﷺ کو حمایت مل سکی۔

          محمدﷺ نے مکہ کے لوگوں کو بارہ سال تک زندگی اورموت کی حالت میں رکھ کر، مختلف طورپر شدید اذیتیں دیں۔ ۶۲۲ عیسوی  بعد از مسیح میں مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد محمدﷺ میں خاص تبدیلی نظر آئی۔ وہ سیاسی، وضع قانون اور جنگی حملات میں تجربہ کار لیڈر بن گئے ۔ اپنے پیروکاروں کی نظر میں تمام مسلمانوں کے سردار(امام) اوراللہ کی جانب سے مسلمان قوم کے لئے پیغمبر ،(الامی) ہیں۔

          مسیحیوں کے سامنے یہ سوال نہیں کہ عظیم ترین کون ہے؟ سیدنا مسیح اپنے آپ میں حلیم بن گئے کہ وہ اس لئے نہیں آئے کہ خدمت لے بلکہ اس لئے کہ خدمت کرے اوراپنی جان بہتیروں کے بدلہ فدیہ میں دے۔سیدنا مسیح نے اپنے پیروکاروں سے فرمایا" جوتم میں بڑا ہونا چاہے وہ تمہارا خادم بنے اورجوتم میں اول ہونا چاہے وہ سب کا غلام بنے(انجیل شریف راوی حضرت مرقس رکوع ۱۰آیت ۴۳تا ۴۴)۔سیدنا مسیح نے وعدہ کیا کہ صرف حلیم ہی زمین کے وارث ہونگے (انجیل شریف راوی حضرت متی رکوع ۵آیت ۵)۔ مسیح نے نہ صرف تعلیم ہی دی بلکہ انہی تعلیمات کے مطابق زندگی بھی بسر کی ۔ اپنی عظیم قدرت کے باوجود آپ نے حلیم وفروتن زندگی کو چُنا تاکہ آپ آدمیوں سے رد کئے جاتےاوربلاآخر شیطانی ہاتھوں کے ذریعے کچلے جاتے( یسیعاہ ۵۳: ۱تا ۳)۔جب حضرت پطرس نے سیدنا مسیح کو بچانے کی کوشش کی تو،آپ منجئی عالمین نے اُنہیں جھڑکا اوریہ حکم دیا کہ وہ اپنی تلوار کو میان میں واپس کر لے اورخدا کے اس ازلی نجات اور کفارہ کے منصوبے میں روکاٹ نہ ڈالے جوبنی نوع انسان کی نجات کے لئے سیدنا مسیح کی عوضی موت کا تقاضہ کرتاہے۔(انجیل شریف راوی حضرت یوحنا رکوع ۱۸آیت ۱۱)۔ سیدنا مسیح نے اپنی الہٰی قدرت کو ثابت کیا جب آپ نے وفادار متلاشیوں کو یہ یقین دلایا کہ" تمہارے گناہ ہوئے"۔ مسیح آج بھی ہر توبہ کرنے والے گنہگار کو یہ فرماتے ہیں کہ" خداتم(آپ قاری سے بھی) سے پیار کرتاہے۔ میں(مسیح) نے خدا کے ساتھ  تمہاری صلاح کرادی ہے۔ اورخدا کے ساتھ رابطہ رکھنے کا دروازہ تمہارے لئے وسیع اورکھلاہے"۔

          خدا نے سیدنا مسیح کوآدمیوں سے نہ سہنے والی کوئی دوسری شریعت بناکرنہیں بھیجا بلکہ خدا کی الہٰی  رحمت مسیح میں مجسم ہوئی۔ اُسی(مسیح) میں خدا کی الہٰی پاکیزگی کی محبت ظاہرہوئی ۔ اسلئے آپ نے گنہگاروں سے محبت رکھی ، دشمنوں کے لئے برکت چاہی، اورمایوس کن لوگوں کوہمت دلائی۔ مسیح ہی رحمت  کے بانی، (رحمت اللہ) رحمدل ہیں۔ مسیح نے یہ ثابت کرکے دکھایاکہ وہی خدا کا اصل مظہر ہیں۔مسیح میں ہی خدا کی روح(روح اللہ) ، مجسم ہوئی (انسانی جسم لیا) ۔ خدا کی رحمت اورمسیح کی رحمت  میں بالکل فرق نہیں ہے۔ مسیح کے کفارہ کی قربانی خدا کی طرف سے ہرگمراہ گنہگار کے لئے ہے۔ جوکوئی مسیح کےا لہٰی فضل کو حاصل کرتا اوراُسکی راستبازی کوقبول کرتا اُس کا خدا کے ساتھ ملاپ ہمیشہ تک قائم رہتاہے جواُس پر ایمان لے آتے ہیں وہ بلاآخر جان جائیں گے اوردیکھیں گے کہ مسیح ہی حقیقی حیثیت کا حقدار ہیں اور عظیم ترین ہیں جو قادر مطلق خدا کی دہنی طرف تشریف فرما ہیں۔ مسیح کی رحمت، ختم نہ ہوگی۔ مسیح کا پیار سزا سے مبرا ہے۔ اورمسیح کی محبت اور شریعت تباہ کرنے والی نہیں ہوگی ، جبکہ آپ نے ہمیں راستباز ٹھہرا کر گناہ اور موت سے خلاصی بخشی۔ مسیح کے پیروکار(مسیحی) ، نہ توحضرت موسیٰ  کی شریعت کے اورنہ ہی محمدﷺ کی شریعت کے ماتحت اورپابند ہیں ۔ وہ آسمانی خدا باپ کے فضل میں قائم رہتے ہیں جو مسیح کے وسیلہ اورآپ کے کلام انجیل میں ظاہر ہوئی۔ جبکہ قرآن شریف میں بھی مسیح کے پیروکاروں کے لئے اس منفردرعایت  کی تائید کرتا ہے۔

            وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنجِيلِ بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فِيهِ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ(سورہ مائدہ  آیت ۴۷)۔

            ترجمہ: اور اہل انجیل کو چاہیئے کہ جو احکام خدا نے اس میں نازل فرمائے ہیں اس کے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ(مسلم) نافرمان ہیں"۔

          (یہاں اس آیت کے مطابق اب کون سے لوگ کافر اور نافرمان ٹھہرے؟ کیا یہ اشارہ خود مسلمانوں کی طرف نہیں؟ کیا یہاں قرآن ، مسیحی لوگوں کو انجیل کی پاک تعلیم کےمطابق زندگی بسر کرنے کا حکم نہیں دیتا؟ اس طرح ہر مسیحی تمام قسم کی اسلامی/محمدی شریعت سےمکمل طورپر آزاد ہیں!!!)۔

          قرآن شرعی اور قانونی طورپر مسیحیوں کواسلامی شریعت سے آزار کرتا اور انجیل کے اُس فضل کی تصدیق کرتاجو اُن پر ہے۔ مسیح کا فضل ورحمت انسانیت کو کامل دلی اور ذہنی اطمینان بخشتی ہے۔ اُنکی روحانی طاقت، نجات کی یقینی حالت کے باعث ہے۔ جوان کو محبت کی خدمات کی جانب راہنمائی کرتی ہے۔ جسکی بنیاد ایک ابدی اُمید پر ہے۔ مسیح نے اپنے آپ کو بہت حلیم کیا مگر مسیح نے،(خدا) باپ آسمانی کو یوں کہہ کر عزت اورجلال بخشاکہ" میں(مسیح) تم سے سچ سچ کہتاہوں کہ بیٹا آپ سے کچھ نہیں کرسکتا، سوا اُسکے جوباپ کوکرتے دیکھتاہے، کیونکہ جن کاموں کو وہ(خدا باپ) کرتاہے ،اُنہیں  بیٹا(مسیح) بھی اُسی طرح کرتاہے"۔(انجیل شریف راوی حضرت یوحنا ۵باب۱۹آیت ۔" کیا تم یقین نہیں کرتے کہ میں (مسیح) (خدا) باپ میں ہوں اور(خدا) باپ مجھ(مسیح) میں ہے؟ یہ باتیں جو میں (مسیح) تم سے کہتاہوں اپنی طرف سے نہیں کہتا، لیکن (خدا) باپ مجھ (مسیح) میں رہ کر اپنے کام کرتاہے"(انجیل شریف راوی حضرت یوحنا رکوع ۱۴آیت ۱۰)۔یوں سیدنا مسیح نے اپنی خود انکاری کا اظہار کیا اورساری عزت اورجلال خدا، اپنے آسمانی باپ کو بخشا۔سیدنا مسیح نے تویوں بھی اقرار کیاکہ " (خدا) باپ مجھ(مسیح) سے بڑا ہے"۔

" میں(مسیح اور(خدا) باپ ایک ہیں"۔

(خدا اور مسیح میں کامل واحد یکسانیت کا یہ الہٰی خیال میرا یا کسی انسان کا یا آپ کا تو ہے نہیں، بلکہ پاک قول توخود کلمتہ اللہ کا ہے۔ جس کو انسان بھلا کیسے ردکرے؟)۔

          اس لئے  اگرکوئی سیدنا مسیح کی بابت جاننے کا خواہشمند ہو تووہ اپنے آپ کو حلیم اور فروتن بناکر یہ سوال پوچھے کہ کون سب سے زیادہ حلیم وفروتن ہے"؟سیدنا مسیح نے تواپنے آپ کو اس درجہ تک حلیم بنالایا کہ وہ خود ہم سب کے لئے ، لعنت بن گئے۔کہ ہم سیدنا مسیح میں ہوکر خداکی راستبازی بن جائیں۔ مسیح نے اپنے آپ کو ہربدکار مرد اور بدکار عورت ،حتیٰ کے قاتلوں کے عوض، کفارہ کے طورپر دے دیا کہ سب خدا کی عدالت اور سزا سے بچاکرآزاد کئے جاسکیں اور وہ حقیقی  مومن بن جائیں جن میں خدا کی ابدی پاک محبت ومسیح کی روح کی معموری ہو۔زندہ مسیحا راستباز اورپاک ہوتے ہوئے آج انسانیت کی معافی اورنجات اورہمیشہ کی زندگی ہے۔ مسیح آج ہم سب کودعوت دیتے ہیں کہ " اے محنت اٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو! میرے پاس آؤ ۔ میں تم کو آرام دوں گا۔ میرا جوا اپنے اُوپر اٹھالو اور مجھ سے سیکھو کیونکہ میں حلیم ہوں اور دل کا فروتن ۔ توتمہاری جانیں آرام پائیں گی۔ کیونکہ میرا جو ملائم ہے اوربوجھ ہلکا۔ محمدﷺ اپنی گناہ وموت کی نارسات  حالت میں ہوتے ہوئے ہر طرح کی پاک روحانی مدد دینے سے بالکل ہی قاصر ہیں۔

اختتام

قیدخانہ کے قیدیوں نے بڑی خوشی سے مسیحی خادم کی تقریر کو سنا۔ ان میں بعض توخاصے ناراض بھی ہوئے۔ جبکہ بعض میں دل چسپی پیداہوئی اور حیران ہوئے۔ چند ایک لوگ دل ہی دل میں بہت خوش ہوئے جب اُنہوں نے اس صاف شفاف جواب کوسنا۔ اوراس پیغام میں نئی امیدپالی۔ قیدیوں کے ایک مقرر نے اس مسیحی خادم سے یوں کہا ہے کہ"ہم مانتے ہیں کہ آپ نے ہم سے صاف کلام کیا ہے۔ آپ نے دلیری سے بیان کیا جوکچھ آپ کا حقیقی ایمان ہے۔ ہم آپ کے کلام کی بابت سوچیں گے اوران نقات کی بابت جوآپ نے پیش کئے، بحث مباحثہ کریں گے۔ کہ ان کا قرآن اورروایات سے صفائی کے ساتھ موازانہ کرسکیں۔ بعض ہم میں سے آپ کے ساتھ ، ابھی متفق نہیں ہیں۔ وعدہ کے مطابق آپ سلامتی سے جائیئے۔ مگرہم سب اور زیادہ محنت سے مسیحی موضوعات کا مطالعہ جاری رکھیں گے۔

Posted in: یسوع ألمسیح, مُحمد | Tags: | Comments (3) | View Count: (10401)

Comments

  • عبدل قیوم نئیر جناب کسی کتاب کا تذکرہ کردینے سے یہ خیال نہیں کرنا چاہئیے کہ کتاب کا مصنف کتاب پر ایمان بھی رکھتا ہے، اس طرح بہت ملحدین ، دہریہ ہیں جو بائبل کے خلاف لکھتے ہیں ، اور قرآن کے اور خدا کی ذات کے اس کے نہ ہونے کے ، تو آپ کیا کہینگے کہ کیا وہ سب خدا پر یقین بھی رکھتے ہیں۔ آپ کی سادگی پر رونا آتا ہے ، قرآن سے آئیتں اس لئے پیش کیجاتی ہیں کہ آپ کو یاد کرایا جائے کہ آپ مسلمان قرآن تب تک نہیں سمجھ سکتے جب تک آپ کسی مسیحی سے رابطہ قائم نہ کرلیں کیونکہ یہ شرط بھی آپ کی کتاب سے ہی ہے ، کیونکہ آپ کی کتاب نامکمل ہے ۔ آپ یقنناً سمجھ گئے ہونگے کہ میرا اشارہ کس سورۃ کی طرف ہے! ویسے آپ ہمیں ثابت کردیئجیے کہ اسلام میں ایسی کیا بات ہے اور اس کے بانی میں ایسی کون سی نرالی بات ہے کہ ہم اسلام کو قبول کرلیں؟ آپ ابھی تک 5 وقت نمازیں پڑھتے ہیں کہ اے اللہ تعالی ہمیں سیدھی راہ دکھا، یہی دعا پڑھتے پڑھتے آپ کےنبی اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے، صحابہ رخصت ہوگئے، لیکن کوئی نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ کیا ہوگا اور آپ کے ساتھ کیا ہوگا، اور ایکطرف جناب مسیح کی ذات ہے جو یہ کہتی ہے کہ میں موت پر بھی غالب آیا ہوں۔ تو جناب ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ جناب مسیح جو کہ قیامت کی نشانی ہیں، اصل رحمت العامین ہیں، ابھی تک زندہ ہیں اور دعائیں سنتے ہیں، شفاعت کرتے ہیں، معجزے ان کے نام سے ہوتے ہیں، ان کے ماننے والے اس جہان میں بھی دنیا کی ترقی کا باعث ہیں اور آخرت میں بھی وہی غالب ہونگے۔ اور یہ ساری باتیں اس لئے ارسال کی جارہی ہیں کہ قرآن بھی آپ کو یہی تلقین کررہا ہے ، کہ جہاں جناب مسیح کا ذکر خیر ہوتا ہے وہاں خیر ہی ہوتی ہے چاہے وہ ان کے دشمن یعنی کہ مسلمان ہی کیوں نہ کررہے ہوں، یہی ثبوت کافی ہے کہ آپ کو مسیحی ہو جانا چاہئے۔ شکریہ اور قرآن ٹھیک سے پڑھا کریں، قریش کی زبان میں نہیں یعنی عربی میں
    04/10/2014 10:53:03 PM Reply
    • @junaid: میں ایک مسلمان عالم دین ہوں، اور میں اس پوسٹ پر سخت احتجاج کرتا ہوں. کوئی بھی مسیحی مجھ سے مناظرہ کر لے، اگر مسیحی جیتا تو دس لاکھ روپے انعام دیا جائے گا اور اگر ہم جیتے تو اسلام قبول کرنا پڑے گا. اور یقیناً ہم ہی جیتیں گے
      02/04/2019 10:40:45 AM Reply
  • You have quoted the versus of Quran, it means you believe that Quran is true and authentic one, so you quoted it frequently. Thanks to you, that you have again proved the authenticity of Quran and Islam, Again thanks. Being a human being I invite you to accept Islam and save yourself from fire. your truly well wisher
    31/05/2014 5:23:03 AM Reply

Post a Comment

English Blog