en-USur-PK
  |  
27

پیشین گوئیوں میں مسیح کا جلال

posted on
پیشین گوئیوں میں مسیح کا جلال

پیشین گوئیوں میں مسیح کا جلال

Glorified Messiah in the Prophecies

یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ ہم تندہی سے اُس کے الہام کی حقیقت کو تلاش کریں جس کے ذریعے اُس نے اپنا کلام نازل کیا ہے۔اوراگرہم ایسا کرتے ہیں کہ توخدا تعالیٰ ہماری راہنمائی کرے گا۔کلام الہٰی میں سینکڑوں ایسی پیشین گوئیاں ہیں جن کا نقطہ نظر جناب مسیح کی ذاتِ اقدس ہے۔ جیسے کہ قرآن شریف کی سورہ 43کی آیت 63 میں مسیح فرماتے ہیں"فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ترجمہ:خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔اورپھر سورہ 7کی آیت 178 میں مسلمانوں کو حکم ملا ہےکہ  مسیح اور انجیل اور توریت پر ایمان لائیں۔مسلمانوں کو یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ انبیاء کرام مسیح کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔

          (تاہم بہت سےلوگ اس غلطی فہمی کا شکار ہیں کہ نعوذ باللہ انجیل شریف میں تحریف ہوئی ہے۔لیکن یہ جاننے کے لئے کلام الہٰی میں کوئی تحریف نہیں ہوئی  اس کے لئے آپ ہمارا کتابچہ (حقانیت کتاب مقدس ) ضرور مطالعہ فرمائیں۔

اہلِ یہود کے لئے یہ بات واقع بہت مشکل ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ کو اپنا مسیح موعود (یونانی لفظ کرائسٹ) قبول کریں۔کچھ یہ خیال کرتے تھے کہ وہ آپ اُستادِ عظیم ہیں۔ کچھ کہتے تھے کہ آپ نبی ہیں۔ دوسری جانب کچھ لوگ یہ کہتے تھے کہ مسیح جو معجزات کرتے ہیں وہ شیطان کی مدد سے کرتے ہیں۔ بعض یہ کہتے تھے کہ جیسے کہ اُن میں ہیرودیس بادشاہ تھا جس کا یہ خیال تھاکہ آپ حضرت یحییٰ اصطباغی ہیں جو مردوں میں سے جی اٹھے ہیں۔بعض نے آپ کو بادشاہ بنانے کی کوشش کی۔اور باقیوں نے آپ کو مسیح موعود تسلیم کرلیا۔

وہ لوگ جو یہودی توراۃ میں متلاشی خدا ہیں وہ اس بات سے واقف ہوجاتے ہیں کہ مسیح موعود کی دوایسی خصوصیات ہیں جو ایک دوسرے سے تضاد ہیں۔ پہلی کہ وہ "مسیح موعود دکھ اٹھائے گا"۔ اور دوسرا" مسیح موعود بادشاہ ہوگا"۔تاج کی طرف جانے کاراستہ صلیب ہے۔مسیح ہونے کی وجہ سے خدا کاکلمہ لامحدود قدوقامت رکھتاہے۔ لیکن ہماری نجات کی خاطر اس کا دکھ اٹھانالازمی تھا جیسے کہ بہت سے انبیاء کرام اس کی پیدائش سے سینکڑوں  اور ہزاروں برس پہلے پیشین گوئیاں کیں۔

مندرجہ ذیل حوالہ جات کے ایک جامع فہرست نہیں ہیں:

پرانے عہدنامہ میں مسیح کے حوالے سے پیشین گوئیاں

نئے عہدنامہ میں ان پیشین گوئیاں کا پورا ہونا

مسیح ابدیت سے ہیں۔

صحیفہ حضرت یسعیاہ 9باب 6آیت

یوحنا 1باب 1آیت

اُس کا جلال دیکھائی دے گا۔

زبور 102آیت 19 اور 21۔ یسعیاہ 35باب 4آیت اور 40باب 5 سے 9آیت۔

متی 1باب 21آیت۔ یوحنا 1باب 1 اور 14آیت۔

یسعیاہ نبی نے اس کا جلا ل دیکھا۔

یسعیاہ 6باب 5آیت

یوحنا 12باب 40سے 41آیت۔

مسیح اپنے لوگوں کو پاک کرے گا۔

حزقی ایل 36باب 25آیت۔ یسعیاہ 52باب 15آیت۔

اعمال الرسل 2باب 38سے 39آیت۔ طیطس 3باب 5سے 6آیت۔ عبرانیوں 9باب 13سے 14آیت۔

عورت کا تخم۔ کنواری سے پیدائش۔

پیدائش 3باب 15آیت۔ یسعیاہ 7باب 14آیت۔

متی 1باب 22سے 23آیت۔

وہ ابراہیم۔ اضحاق۔ یعقوب۔ یہوداہ اور داؤد کی نسل سے  ہے۔

پیدائش 3باب 15آیت۔ 12باب 3آیت 17باب 19آیت 18باب 18آیت۔ 21باب 12آیت۔ 26باب 4آیت ۔28باب 14آیت۔49باب 8سے 10آیت۔زبور 132آیت 11۔

متی 1باب 1سے 3آیت۔لوقا 3باب 23سے 24آیت۔ اعمال الرسل 3باب 25آیت۔رومیوں 9باب 7آیت۔ گلتیوں 3باب 16آیت۔ 4باب 4آیت۔

تمام اقوام کی اُس کی ہیکل میں آنے کی خواہش ہوگی۔

حجی 2باب 7آیت۔

لوقا 2باب 22آیت۔

وہ نجات جس کا لوگوں کو انتظار تھا۔

پیدائش 49باب 10آیت۔

لوقا 2باب 26سے 30آیت۔ 1پطرس 1باب 10آیت۔

حضرت موسیٰ کی مانند نبی۔ اُس کا کلام لازم سنا جائے گا۔

استشنا 18باب 15آیت۔ 18باب 19آیت۔

یوحنا 5باب 45سے 47آیت۔ 12باب 48سے 50آیت۔

بادشاہ اُس کے لئے ہدئیے اور نذریں لائیں گے۔

زبور 72آیت 10۔

متی 2باب 10سے 11آیت۔

وہ پاک روح سے مسح کیا گیا ہے۔

زبور 2باب 2 سے 6آیت۔ زبور 45باب 5آیت۔یسعیاہ 11باب 2آیت۔ 60باب 1سے 2آیت۔

متی 1باب 21آیت۔ 2باب 2آیت۔ لوقا 4باب 18آیت ۔ اعمال الرسل 2باب 36آیت۔ 4باب 27آیت۔عبرانیوں 1باب 9آیت  ۔ مکاشفہ 14باب 1آیت۔

بیت الحم میں مسیح کی پیدائش۔

میکاہ5باب 2آیت۔

متی 2باب 1سے 6آیت۔

مسیح اپنے لوگوں کے درمیان عجائب کام کریں گے۔ معجزات کریں گے۔وہ طوفانوں کو تھمادے گا۔

زبور 65آیت 7۔ زبور 107آیت 24سے 30۔ یسعیاہ 29باب 14آیت۔ 35باب 5سے 6آیت۔

متی 8باب 26آیت۔ 11باب 4سے 6آیت۔ مرقس 4باب 35سے 41آیت۔1کرنتھیوں 1باب 18سے 25آیت۔

مسیح اپنے لوگوں کو پاک کریں گے اور ایک نیا عہدباندھیں گے۔

یرمیاہ 31باب 31سے 33آیت۔ حزقی ایل 36باب 25آیت۔

اعمال الرسل 2باب 38سے 39آیت۔ عبرانیوں 8باب 6سے 13آیت۔

مسیح وہ نجات ہیں جس کا لوگ انتظار کررہے تھے۔

پیدائش 49باب 10آیت۔ یسعیاہ 46باب 12سے 13آیت۔

لوقا 2باب 26سے 30آیت۔ رومیوں 10باب 8آیت۔ 1پطرس 1باب 10آیت۔

مسیح نجات دینے پر قادر ہیں۔

زبور 130آیت 7سے 8۔

یوحنا 3باب 16آیت۔ افسیوں 1باب 7آیت۔

ملک صدق  کی طرح سردار کاہن۔

زبور 110آیت 4۔

عبرانیوں 6باب 20آیت۔

یہ وہ رب ہے جو آزادی عطا کرتاہے۔

زبور 103آیت 4۔ یسعیاہ 25باب 9آیت۔ 43باب 11آیت۔ 45باب 21آیت۔ ہوسیع 1باب 7آیت۔ 13باب 4آیت۔زکریاہ 9باب 16آیت۔

اعمال الرسل 4باب 12آیت۔ رومیوں 11باب 26آیت۔ 1پطرس 1باب 18سے 19آیت۔

خداوند کا نام پکارنے والے نجات پائیں گے۔

یوئیل نبی کا صحیفہ 2باب 32آیت۔

اعمال الرسل 2باب 21آیت۔

وہ اُن کی خطاؤں کو مٹادیتاہے۔

یسعیاہ 43باب 25آیت۔ 53باب 11آیت۔

رومیوں 5باب 18سے 19آیت۔ اعمال الرسل 13با ب38سے 41آیت ۔1پطرس 2باب 24آیت۔1یوحنا 2باب 12آیت۔

نجات دینے والے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔اُس کی تحقیر کی گئی ہے۔

زبور 8آیت 5سے 6۔یسعیاہ 49باب 7آیت۔

یوحنا 8باب 48آیت۔ عبرانیوں 2باب 9آیت۔

مسیح کے جی اٹھنےکو دیکھنا۔

زبور 118آیت 15سے 17۔ ہوسیع 13باب 14آیت۔

لوقا 24باب 5سے 7۔ پہلا کرنتھیوں 15باب 54سے 55آیت ۔افسیو ں 1باب 7آیت۔

مسیح اندھوں کو بینائی عطا کریں گے۔

یسعیاہ 42باب 7آیت۔

متی 11باب 5آیت۔

بیٹے کو چوموں۔

زبور 2آیت 12۔

یوحنا 1باب 12آیت۔ 3باب 36آیت۔مکاشفہ 6باب 16سے 17آیت

خداوند سے پہلے حضرت الیاس کو بھیجا جائے گا۔

میکاہ نبی کا صحیفہ 4باب 5آیت۔

لوقا 1باب 17آیت۔ متی 11باب 14آیت۔ 17باب 10سے 13آیت۔

جلال کا باشاہ۔

زبور 24آیت7۔

1-پطرس 5باب 4آیت۔

مسیح داؤد کے تخت پر بیٹھے گا۔

ہوسیع 3باب 4سے 5آیت۔

رومیوں 11باب 25سے 26آیت۔

اُس کی ہزار سالہ حکومت۔

یسعیاہ 11باب 1سے 9آیت۔ حزقی ایل 37باب 24آیت۔

یوحنا 10باب 16آیت۔متی 9باب 36آیت۔

اس کی حکومت ابد تک قائم رہے گی۔

زبور 89آیت 3سے 4۔ زبور 29آیت 37۔

لوقا 1باب 32سے 33آیت۔

مسیح شریعت کے دینے والے۔تمام دنیا کے بادشاہ اور انصاف کرنے والے ہیں۔

پیدائش 18باب 25آیت۔یسعیاہ 33باب 32آیت۔

یوحنا 5باب 22سے 23آیت۔

وہ جوسب خاک میں مل جاتے ہیں اُس کے آگے جھکیں گے۔

زبور 22آیت 29

فلپیوں 2باب 10آیت۔

مسیح بیٹا ہے اور حضرت داؤد کا آقا ہے۔

زبور 110آیت1۔

متی 22باب 21 ۔ 45 آیت۔ مرقس 16باب 19آیت۔ اعمال الرسل 2باب 34سے 35آیت۔

تمام طاقت اُس کےپاس ہے۔

زبور 2آیت 8۔زبور 78آیت 65۔

متی 28باب 18آیت۔ مرقس 4باب 38سے 41آیت۔

مسیح کے مختلف نام ۔(میں ہوں)۔

یسعیاہ 43باب 10آیت۔ یسعیاہ 47باب 4آیت اور 48باب 12آیت۔

یوحنا 6باب 35آیت۔ 8باب 12۔28 اور 58آیت۔10باب 9 اور 12آیت۔ 11باب 25آیت۔ 14باب 6آیت۔ 15باب 1آیت۔ کلسیوں 1باب 14آیت۔

مسیح اول اور آخر ہیں۔

یسعیاہ 44باب 6آیت ۔ 59باب 16آیت۔

عبرانیوں 7باب 25آیت۔ مکاشفہ 1باب 17آیت۔

اُس کو راستبازی کو خداوند کہا جائےگا۔

یرمیاہ 23باب 6آیت۔

1۔کرنتھیوں 1باب 30آیت۔

مسیح راستبازی کا سورج ہیں۔ سلامتی کا شہزادہ ہے۔

یسعیاہ 9باب 6آیت۔ عاموس 9باب 6آیت۔ ملاکی 4باب 2آیت۔

متی 11باب 29سے 31آیت ۔ لوقا 1باب 78سے 79آیت۔ یوحنا 16باب 33آیت۔ 1پطرس 2باب 6آیت۔

وہ خدا ہے۔

یسعیاہ 40باب 3آیت۔

متی 3باب 3آیت۔ یوحنا 20باب 28آیت۔

 

 

یہ بات بالکل صاف ہے کہ جلالی مسیحا وہی ہے جس مسیحا نے دکھ بھی اٹھایا۔یسعیاہ 53کی 12آیت کے مطابق "اُس نے بہتروں کے گناہ اٹھالیے ہیں"۔(متی 26باب 28آیت۔ عبرانیوں 9باب 28آیت۔) کیونکہ ہمارا اَیسا سردار کاہِن نہیں جو ہماری کمزورِیوں میں ہمارا ہمدرد نہ ہو سکے بلکہ وہ سب باتوں میں ہماری طرح آزمایا گیا تَو بھی بے گُناہ رہا(عبرانیوں 4باب 15آیت)۔

یہ اُن لوگوں کے لئے خوشخبری ہے جنہوں نے مسیح کو اپنا خداوند اورنجات دہندہ قبول کیا ہے۔اوراُس نے یہ بھی وعدہ کیا ہےکہ وہ اس دنیا کا انصاف کرنے آئے گا(یوحنا 5باب 22سے 23آیت)۔ یہ یاد رکھئیے خدا نے صرف ایک ہی نام ایسا عطا کیا ہے جس کے ذریعے ہم بچ سکتے ہیں یا نجات پاسکتے ہیں (اعمال الرسل 4باب 12آیت)۔مسیح اس دنیامیں گنہگاروں کو بچانے آئے ہیں اوراُن میں سے اورآپ بھی ہیں۔اب آپ کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ آپ خود اس کے بارے میں تلاش کریں۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, نجات | Tags: | Comments (2) | View Count: (141272)

Comments

  • Musanif ny Quran ka hawala to diya par samjny me ghalati ki hazrat ESA A.S Allah k bandy or barhaq Rasool hen par Jo Quran ki ayat ka hawala diya gaya shaid arbi sy nawaqfiat sy WO ye samjy k ye Aj k logo ko hukam diya bar ye hukam us wqt k logo k liye tah or Quran me Allah ny un k us amal ko pasand farmaty howay bayan farmaya or jaha tak tahreef Hony ki baat he to is me to shukar nahe Koi k tahreef hoi he injeel ab apni asli halaat me nahe q k ek hi kitab k char alehda alehda hissy kesy ho skty hen
    4/10/2018 3:18:44 AM Reply
    • @Adnan waheed: عدنان وحید صاحب آپ کے تاثرات کا بہت شکریہ۔آپ نے یہ فرمایا ہے کہ جس آیت قرآنی کا حوالہ دیا گیا وہ عربی سے ناواقفیت کی بنا پر اورپھر آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یہ حکم اُس وقت کے لوگوں کے لئے تھا۔ کیا آپ یہ کہننا چاہا رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا حکم محدود مدت کے لئے ہوتا یعنی اگر اُس نے یہ فرمایا ہے کہ چوری کرنا گناہ اور یہ حکم خدا تعالیٰ نے توریت میں فرمایا ہے تو کیا جس وقت قوم بنی اسرائیل پر توریت نازل ہوئی یہ حکم اُس وقت کے لئے تھا۔ اگر ایسا ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا جب شریعت نازل کرتا ہے یا حکم صادر فرماتاہے اُس کو بھی یہ علم نہیں ہوتا کہ آنے والے وقت میں کیا ہوگا اس لئے پھر وہ دوبارہ اُس حکم کی جگہ کوئی دوسرا حکم نازل فرمادیتا ہے۔ میرے خیال سے خدا تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ایسا تعلق ظاہر کرنا بہتان عظیم ہے۔ اورجہاں تک آپ نے یہ فرمایا کہ انجیل نعوذ باللہ تبدیل ہوچکی ہے تویہ بھی آپ کی انجیل کے حوالے سے ناواقفیت کی بناپرسوچ میں محلول ہے۔ کیونکہ انجیل شریف کے مطالعہ سے آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ انجیل شریف ایک ہی ہاں اُس کے راوی البتہ چار ہیں۔ اور اُن چاروں روایوں نے وحی کے ذریعہ جناب مسیح کی حیات اقدس کو لکھا ہے۔ اس کی مثال میں آپ کو دیتا ہوں قرآن سورہ بقرہ یا سورہ العکنبوت اب آپ کو پتہ ہے العنکبوت مکڑی کو کہتے ہیں کہ تو یہ سورہ مکڑی پر نازل ہوئی ہے نہیں اس سورت کے نام کو رکھنے کی کیا وجہ تھی۔ اسی طرح خدا نے چار روایوں پر وحی نازل کی اورانہوں نے انجیل مقدس میں اس وحی کو قلمبند کیا۔
      4/10/2018 6:00:03 AM Reply

Post a Comment